03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعمیر کی رقم واپس کرنے کا حکم
86985ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام !ہمارا ایک 200 گز کا مکان ہے جو ہماری والدہ کے نام پر ہے۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں اور سب شادی شدہ ہیں۔ ہماری بہن اپنے شوہر کے ساتھ علیحدہ رہتی ہیں، جبکہ ہم تین بھائی اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ اپنے والدین کے ہمراہ اسی گھر میں رہ رہے ہیں۔
ہمارے گھر میں ابتدا میں صرف گراؤنڈ فلور تھا، لیکن 2017 میں جب میری شادی ہونے والی تھی، تو میرے سسر نے اپنی بیٹی (یعنی میری بیوی) کے لیے ہمارے گھر کی اوپر کی منزل تعمیر کروائی۔ اس میں دو کمرے، دو باتھ روم، ایک پانی کی ٹینکی اور ایک باورچی خانہ بنایا گیا۔ میرے والدین نے اس وقت اس تعمیر کی اجازت دی اور اس سے ہمارے گھر کی مالیت میں بھی اضافہ ہوگیا۔
اب اگر ہمارے والدین (جو دونوں حیات ہیں) اس گھر کو فروخت کرنا چاہیں اور اس کے حصے کرنا چاہیں اور  میری بیوی مطالبہ کرے تو کیا میرے والدین اوپر والی تعمیر کی رقم واپس کرنے کے پابند ہیں؟ اگر وہ رقم واپس کرنے کے پابند ہیں تو کیا وہ رقم آج کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق رقم واپس کریں گے یا اتنی رقم واپس کریں گے جتنی تعمیر پر لگی تھی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ آپ کے سسر نے آپ کی بیوی کےلیے بطور ہدیہ گھر کے اوپر تعمیر کروائی  تو وہ تعمیر آپ کی بیوی کی ملکیت ہوگئی۔لہذا  شرعا آپ کے والدین اس تعمیر کی رقم آج کی مارکیٹ کی ویلیو کے اعتبار سے آپ کی بیوی کو واپس کرنے کے پابند ہیں۔

حوالہ جات

قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى:الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض).بدائع الصنائع127/6:)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة. (رد المحتار : 689/5 ) 

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28/شعبان6144ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب