03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کاقرض دینے سے پہلے ایڈوانس رقم وصول کرنا
87052خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک کمپنی ہے جو لوگوں کو ضرورت کے مطابق قرض دیتی ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایڈوانس کچھ پیسے لیتی ہے  اوریہ کہتی ہے کہ سروس چارجز ہیں  یعنی ایک شخص کو چار لاکھ روپے دیتی ہے اور اٹھارہ ماہ تک یہی چار لاکھ روپے ہی وصول کرتی ہے، کوئی زائد رقم وصول نہیں کرتی ، مگر اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ جس کو رقم چاہیے کمپنی اپنا ایک نمائندہ اس شخص کے پاس بھیجتی ہے اور وہ نمائندہ کاغذی کارروائی اس شخص کے گھر یا دکان وغیرہ میں جاکر پورا کرتا ہے اور ایڈوانس میں اٹھارہ ہزار روپے ( یعنی فی لاکھ چار ہزار روپے) وصول کرتاہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ ہمارےآنے جانے کی اور کسٹمرز کو سہولت فراہم کرنے کی فیس ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس کمپنی سے قرض لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں ۔واجرکم علی اللّٰہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مذکورہ میں  اگر یہ کمپنی قرض دینے سے پہلےجو ایڈوانس رقم  وصول کرتی ہےوہ رقم اتنی ہو جتنا سروس پر  خرچہ آتا ہےمثلا کاغذی کارروائی اور آنے جانے کا خرچہ  وغیرہ  ،تو اس صورت میں اس کمپنی سے قرضہ لینا جائز ہے،اگر کمپنی حقیقی اخراجات  سے زیادہ رقم لیتی ہو ،تو اس صورت میں  اس کمپنی سے قرض لینا جائز نہیں ،کیونکہ قرض دے کر مقروض سے کسی بھی قسم کا مفاد یا مالیت  لینا حرام اور ناجائز ہے  ،ہمارے اندازے کے مطابق چار لاکھ کی کارروائی پر 18 ہزار خرچہ حقیقی اخراجات سے زیادہ ہے،لہذا اس کمپنی سے  قرضہ لینا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدین  رحمه الله: قوله: (كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر. (ردالمحتار:5/166)

قال العلامة الزیلعی  رحمه الله:قوله:( ومن وضع درهما عند بقال إلخ) قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز ؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز. (تبیین الحقائق:6/29)

محمد یونس بن امین اللہ

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

1رمضان،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب