| 85754 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اسلامک بینکنگ کے حوالے سے تفصیل سے رہنمائی فرمائیں اور اس ضمن میں شکوک و شبہات کو دور کریں۔ کیونکہ بعض علماء مروجہ اسلامک بینکنگ کو سودی قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے سائل انتشار کا شکار ہے کہ کس کی بات مانی جائے۔
دوسرا یہ کہ میں نے میزان بینک میں Saving Account کھلوایا ہوا ہے، جس پر مجھے منافع حاصل ہوتا ہے۔ کیا یہ حرام ہے یا حلال؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اسلامی بینکاری کی بنیاد بیع، مشارکہ، مضاربہ، استصناع وغیرہ جیسے شرعی اصولوں پر رکھی گئی ہے، لہٰذا جو غیر سودی بینک مستند علمائے دین کی زیرِ نگرانی ان شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہے ہوں، ان کے ساتھ مالی معاملات کرنا درست ہے۔
یہ درست ہے کہ بعض علماء کرام کی طرف سے غیر سودی بینکاری کے عدم جواز کا فتویٰ دیا جاتا ہے، تاہم دارالافتاء جامعة الرشید کا موقف وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ اب سائل کو اختیار ہے کہ جس عالم دین کے فتوے پر اسے زیادہ اعتماد ہو اور وہ ایمانداری سے یہ سمجھتا ہو کہ یہ عالم فتویٰ دینے کا اہل ہے اور اس کا فتویٰ لا علمی یا ذاتی اغراض پر مبنی نہیں ہے، تو وہ اس کے فتوے پر عمل کر سکتا ہے۔
اسلامی بینکاری کے حوالے سے مختلف اعتراضات کیے جاتے ہیں، جن کے بارے میں علماء کرام اور ماہرینِ معیشت نے وضاحتیں پیش کی ہیں۔ یہاں عام اشکالات اور ان کے جوابات پیش کیے جا رہے ہیں:
اشکال:اسلامی بینکنگ کا منافع بھی سود جیسا لگتا ہے، تو پھر کیا فرق ہے؟
جواب:اسلامی بینکنگ میں سود (ربا) کی ممانعت ہے اور ہر معاہدہ شرعی اصولوں، جیسے بیع، اجارہ، مضاربہ، یا مشارکہ، پر مبنی ہوتا ہے۔ منافع کسی حقیقی کاروبار یا اثاثے سے حاصل کیا جاتا ہے، جب کہ سود ایک مقررہ رقم ہوتی ہے، جو قرض پر بغیر کسی حقیقی اثاثے یا خطرے کے وصول کی جاتی ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے معاملات کی نوعیت اور ان کے مقاصد کو دیکھنا ضروری ہے۔
اشکال:اسلامی بینک بھی مارکیٹ کے نرخ کے مطابق ہی منافع لیتے ہیں، پھر کیا فرق ہوا؟
جواب:اسلامی بینک مارکیٹ کے نرخ کا استعمال بطور معیار کرتے ہیں، مگر ان کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ سودی بینک رقم کے بدلے رقم دیتے ہیں، جبکہ اسلامی بینک کسی اثاثے یا کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع کو شرعی اصولوں کے تحت تقسیم کرتے ہیں۔
اشکال:اسلامی بینک میں جرمانے (Penalty) کا نظام بھی موجود ہے، کیا یہ سود نہیں؟
جواب:اسلامی بینک تاخیر کی صورت میں جرمانہ نہیں بلکہ التزامِ تصدق کے معاہدے کے تحت صدقہ وصول کرتے ہیں، اور یہ رقم بینک کے منافع میں شامل نہیں ہوتی بلکہ خیرات میں دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد صارفین کو وقت پر ادائیگی کے لیے متحرک کرنا ہے، نہ کہ بینک کے لیے کمائی کا ذریعہ بنانا۔
اشکال:کیا اسلامی بینک سودی بینکوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتے؟
جواب:اسلامی بینک موجودہ مالیاتی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے بعض معاملات میں سودی بینکوں کے ساتھ لین دین ہوتا ہے۔ تاہم، اس قسم کے معاملات میں شرعی رہنمائی کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور اسلامی بینک اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ یہ ایک عبوری مرحلہ ہے، جس کا مقصد سودی نظام کو مکمل طور پر اسلامی اصولوں سے بدلنا ہے۔
میزان بینک کی سیونگ اکاؤنٹ اسکیم علماء کی نگرانی میں مضاربہ کے اصول پر مبنی ہوتی ہے،لہذا میزان سیونگ اکاؤنٹ پر حاصل ہونے والا منافع حلال ہے۔
حوالہ جات
.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
6/6/1446ھ
اسلامی بینک اور سودی بینک کے معاہدات میں بنیادی فرق
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


