03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین مٹاکرایک طلاق لکھ کردستخط کرنے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟
84148طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرانام عبدالرحمن بیگ بن سجاد بیگ ہے میں نے اپنی بیوی ماہ نورشیخ بنت محمد آصف حنیف کو ایک طلاق دی ہے،طلاق دینے کی صورت یہ ہےکہ گھر یلوں حالات گھمبیرہونے کی وجہ سے میرے والد صاحب نے طلاق کے پیپربنوالئے ،ان پر تین طلاقوں کا ذکر تھا لیکن میں نے تین طلاقوں کو کاٹ کر ایک طلاق لکھ کرسائن کردیئے،پھر میں نے مزید تحریرپڑھی تو پھر اس میں تین طلاقوں کا ذکر تھا لیکن میں نے اسے بھی کاٹ دیا اورایک طلاق لکھ دیا۔ مجھے شریعت کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت درکارہے،اس سارے معاملے میں میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی اورایک گواہ کو سامنے بٹھاکر میں نے اس کی وضاحت بھی کی تھی کہ ایک طلاق دی ہے،مفتی صاحب اس مسئلہ کی وضاحت مطلوب ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ صورت میں اگرآپ کا بیان درست ہے تو آپ کی بیوی پرایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہےلہذا اگرابھی عدت یعنی تین حیض نہ گزرے ہوں تو آپ میاں بیوی میں رجوع ہوسکتاہے اوراگرعدت گزرچکی ہو تو پھر باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیانکاح ہوسکتاہے اورہردوصورتوں میں آئندہ آپ کوصرف دوطلاقوں کا اختیارباقی رہے گا۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالیٰ:

{الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]

فی الھدایة:

واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا.(ج:2، ص:394، کتاب الطلاق)

فی البدائع الصنائع:

فان طلقھا ولم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت وھذا عندنا.

فی بدائع الصنائع:

فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد".(كتاب الطلاق، فصل:وأما حكم الطلاق البائن3/ 187، ط:سعید)

فی الفتاوى الهندية (1/ 379):

وفيه أيضا رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها.

فی المحيط البرهاني:

وإن لم تقم عليه بينة بالكتاب ولم يقر أنه كتابه ولكنه وصف الأمر على وجهه، فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى، وكذلك كل كتاب لا يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه.(المحيط البرهاني،باب الخلع،ج3ص429):

المستدرك على الصحيحين للحاكم (2/ 214)

عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من خبب امرأة على زوجها، أو عبدا على سيده» هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يخرجاه ".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 25/12/1445ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب