03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر کو کسی کے نام کرنے سے ہبہ مکمل نہیں ہوگا۔
86896ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صاحب کے انتقال کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں، ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور ہماری والدہ بھی حیات ہیں،  ان کی عدت بھی پوری ہو چکی ہے، مسئلہ یہ درپیش ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد جو گھر ہے والد صاحب کا وہ ہماری والدہ کے نام پر ہے، تو اس میں وراثت جاری ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ باقی بہن بھائی یہ کہتے ہیں کہ یہ گھر والدہ کے نام پر ہے، اس لیے والد صاحب کی وراثت  نہیں ہے، والدہ کے نام پر گھر ہے، جب تک والدہ حیات ہیں تب تک  گھر  والدہ کی ہے، والدہ کے انتقال کے بعد  یہ وراثت بنتی ہے۔  یہ گھر والد صاحب نے اپنی کمائی سے بنایا تھا اور والدہ کے نام پہ رکھا تھا ،کیااس گھرمیں وراثت جاری ہوگی یا نہیں ؟  یا یہ والدہ کا گھر کہلائے گا ؟

تنقیح:والد صاحب آخری عمر تک اس گھر میں رہ رہے تھےاور والدہ کو آخری عمر تک  نہ قبضہ دیا  اور  نہ ہبہ کیا ،بلکہ صرف نام کردیا تھا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کوئی بھی چیز محض کسی کے نام کرنے سے اس فرد کی ملکیت میں نہیں آتی ،جب تک کہ  وہ چیز  مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ نہ دے دی جائے۔صورت  مسئولہ میں گھر والد صاحب کا ہے، کیونکہ والد صاحب نے آخر عمر تک والدہ کو قبضہ نہیں دیا  تھا ،اس گھر میں وراثت جاری ہوگی اور سب ورثہ اس میں اپنے حصے کی بقدر شریک ہوں گے۔

حوالہ جات

قال العلامة الحصكفي رحمه الله:قولہ:(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا. (الدرالمختار:(691/5

و فی الھندیۃ:ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع، أو عكسه أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة، أو عكسه لا تجوز، وكذا لو وهب دارا أو ظرفا فيها متاع للواهب، كذا في النهاية.(الفتاوی الھندیۃ:(374/4

محمد یونس بن امین اللہ

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

20شعبان ‏، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب