| 86970 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
حضرت مفتی صاحب ! یہ بتائیں کہ دل کے والو کی تبدیلی کے آپریشن میں خنزیر کے دل کا والو لگا دینا کیسا ہے؟ جزاک اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خنزیر نجس العین جانور ہے، اس کے کسی بھی جزء کو استعمال کرنا حرام ہے، لہذا عام حالات میں دل کے علاج میں خنزیر کے جزء سے بنے ہوئے ’’والو‘‘ کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، جب کہ خاص طور پر اس مرض کے علاج کے لیےحلال و جائز متبادل موجود ہو۔ہاں ! اگر کوئی دیندار ماہر طبیب یہ کہہ دے کہ دنیا میں اس مرض کا کوئی جائز و متبادل علاج ممکن نہيں ہے، تو پھر اس صورت میں خنزیر کے جزء سے بنے ہوئے "والو" سے علاج کرنے کی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
أن صاحب الخانية والنهاية اختارا جوازه إن علم أن فيه شفاء ولم يجد دواء غيره قال في النهاية: وفي التهذيب يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاءه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه.( رد المحتار: 5/ 228)
أما الخنزير فلأنه نجس العين بجميع أجزائه، والانتفاع بالنجس حرام .
(المحيط البرهاني :5/ 373)
فإن الاستشفاء بالمحرم إنما لا يجوز إذا لم يعلم أن فيه شفاء؛ أما إذا علم أن فيه شفاء، وليس له دواء آخر غيره فيجوز الاستشفاء به۔ (المحیط البرھانی: 5/ 373)
عبدالوحیدبن محمد طاہر
دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
22شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


