03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرپٹو میں فیوچر ٹریڈنگ کا حکم
85925خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کرپٹو میں فیوچر ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کرپٹو میں فیوچر ٹریڈنگ ناجائز ہےاور اس کی آمدن حرام ہے۔عدم جواز کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں "کسی قابل قیمت(Permissible and valuable) چیز کا دوسری قابل قیمت چیز کے ساتھ جانبین کی رضامندی سے تبادلہ "عقد خریدوفروخت (sale)کہلاتا ہے۔

عقدِخریدوفروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایسی شرائط جن کا تعلق مبیع (subject matter) سے ہے،ان میں یہ شرائط بھی ہیں کہ مبیع (subject matter) عقد بیع کے وقت موجود (existence of goods)ہو،بائع (seller)کی ملکیت (ownership)میں ہو،بائع (seller)کےقبضہ حقیقی یا حکمی (Possession either physical or constructive) میں ہو،مقدور التسلیم (Transferable at the time of contract without any barrier) ہو۔

فیوچر ٹریڈنگ خواہ کسی بھی چیز کی ہواس میں مبیع(subject matter) سے متعلق شرائط نہیں پائی جاتیں،کیوں کہ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ عقد کے وقت (At the time of contract)وہ چیز بائع(seller)کی ملکیت میں نہیں ہوتی،یا ملکیت میں ہوتی ہے لیکن قبضہ نہیں ہوتا،یا کسی حد تک قبضے کا تحقق ہوجاتا ہےلیکن مقدور التسلیم نہیں ہوتی،یا مقدور التسلیم بھی ہوتی ہے لیکن عاقدین(seller & buyer)کا ارداہ نہیں ہوتا کہ مبیع(subject matter)خریدار کےقبضے میں دی جائے،اس لیے کہ عام طور پر فیو چر ٹریڈ میں مبیع کا لین دین مقصود نہیں ہوتا ،بلکہ عقد کی انتہاء قیمتوں کے مابین فرق کی برابری پر ہوتی ہے۔لہٰذا عقدِخریدوفروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایسی شرائط جن کا تعلق مبیع (subject matter) سے ہے،وہ شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے فیوچر ٹریڈنگ خواہ کسی بھی چیز کی ہو،ناجائزہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔

شرعی نقطہ نظر سے  فیوچر ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ شریعت کی نظر میں خریدوفروخت کا عقد،ان عقود میں سے ہے ،جنہیں فوری طور پر مؤثر قرار دیاجانا ضروری ہے،یعنی مستقبل کی کسی تاریخ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں۔اسی طرح بوقت عقد کم ازکم مبیع(subject matter)خریدار کے حوالے کرناضروری ہے،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں بوقت عقد مبیع (subject matter)خریدار کے حوالے نہیں کی جاتی اورنہ ہی متعاقدین (seller & buyer) کا یہ ارادہ ہوتاہے۔

اسی طرح شرعی نقطہ نظر سے  فیوچر ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عقد بیع(sale contract)میں عوضین(subject matter & price)میں سے ہر ایک کا مؤجل (deferred) ہونا، جائز نہیں ہے،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں عوضین میں سے ہر ایک مؤجل ہوتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ فیوچر ٹریڈنگ خواہ  کسی بھی چیز(کرپٹو کرنسی،شیئرز،انڈیکس،کموڈٹی،رائج کرنسی وغیرہ) میں ہو،شرعاً ناجائز ہے،اس سے اجتناب لازم ہے،اس سے حاصل شدہ آمدن حرام اور واجب التصدق ہے۔

حوالہ جات

(فقہ البیوع،ج:۱،ص:۴۸۴)

۲۲۱ - الشرط الثاني : أن يكون البيع معقوداً في الحال

ومن شروط انعقاد البيع أن يُعقد في الحال، فلا ينعقد البيع إن أضيف إلى مستقبل، مثل أن يقول: بعتك هذا الشيئ بكذا لتاريخ كذا. وإنه في حكم التعليق في عدم صحة البيع بالاتفاق، ولكن الظاهر من عبارات الحنابلة والشافعية أنهم يدخلون الإضافة في التعليق ويجعله الحنفية قسماً مستقلاً عن التعليق، لفرق دقيق بینهما،وإن كان حكمهما في فساد البيع واحداً…وبالجملة، فالبيع من العقود التي لا تقبل الإضافة إلى المستقبل، وعلله في الدر المختار بأنها تمليكات للحال، فلا تضاف إلى الاستقبال، كما لا تعلق بالشرط، لما فيه من القمار. " وقال ابن عابدين رحمه الله تعالى: "حاصله أنه تمليك على سبيل المخاطرة، ولما كانت هذه تمليكات للحال، لم يصح تعليقها بالخطر لوجود معنى القمار. "

محمد حمزہ سلیمان

      دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

      ۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب