| 85918 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور وارثوں میں ایک بیٹا، دو بیٹیاں، اور شوہر شامل ہیں۔ شوہر کو (DIMENSIA) کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی کیفیت کبھی ٹھیک ہوتی ہے اور کبھی خراب۔ والدہ نے میراث میں کچھ پیسے بھی چھوڑے ہیں۔پوچھنا یہ ہے کہ
کیا والدہ مرحومہ کے پیسے ان کے فدیے میں دیے جا سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدہ نے چونکہ وصیت نہیں کی،لہذا عاقل بالغ ورثہ اجازت دینگے تو ان کے حصوں کے پیسوں سے فدیہ اداہوسکے گا،جبکہ شوہرکے حصے کے پیسوں سے ادا کرناٹھیک نہیں ہوگااورنہ ہی اس حالت میں ان کی اجازت معتبرہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار:
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى الكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله).
(قوله: وإنما يعطي من ثلث ماله) أي فلو زادت الوصية على الثلث لايلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة".(کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:72، ط:سعید)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


