| 85258 | روزے کا بیان | نفلی روزے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر کوئی شخص ماہِ رمضان کے علاوہ سونے سے پہلے یہ کہے کہ ان شاء اللہ کل میں ضرور روزہ رکھوں گا، مگر سحری کو جاگ نہ سکا اور صبح کھایا پیا، تو اس کے لیے کفارہ کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر رات کو روزے کی نیت کر لی تھی ، تو اس صورت میں صبح صادق ہوتے ہی روزہ شروع ہوگیا تھااس لیےکہ نفلی روزے کی نیت بھی رات سے بھی ہوسکتی ہے،لہذا اس کے بعد جان بوجھ کر بلا کسی عذراس نفلی روزہ کو توڑنا درست نہیں ہے، نیک اعمال شروع کرنے کے بعد انہیں باطل کرنے سے قرآنِ پاک میں منع کیا گیا ہے۔ البتہ اگر روزہ پورا کرنا بھوک کی شدت کی وجہ سے مشکل ہو جائے یا اس کے علاوہ کوئی معتبر و معقول عذر ہو تو نفلی روزہ توڑا جاسکتا ہے، اس کی جگہ دوسرا روزہ رکھنا ضروری ہوگا،تاہم نفلی روزہ توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب نہیں ہوتا، خواہ عذر کی وجہ سے توڑے یا بلاعذر، البتہ بلاعذر توڑنا درست نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 377):
(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل)، فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى، لا) بعدها، ولا (عندها)، اعتباراً لأكثر اليوم''.
قال اللہ تعالى:
{أَوْفُوا بِالْعُقُودِ}(سورة المائدة: (الأية1.) وقال عز وجل: {وَلا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ}(3) سورة محمد: (الآية33)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 428):
(ولايفطر) الشارع في نفل (بلا عذر في رواية) وهي الصحيحة، وفي أخرى: يحل بشرط أن يكون من نيته القضاء، واختارها الكمال وتاج الشريعة وصدرها في الوقاية وشرحها.
عن عائشة قالت : ” كنت أنا وحفصة صائمتین متطوعتین ، فأھدي لنا طعام ، فأفطرنا، فقال رسول الله ﷺ صوما مکانه یومًا آخر‘‘. رواہ ابن حبان فی صحیحه. (إعلاء السنن :9/140)
“وعن أبي ھریرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ : ”إذا دعي أحدكم، فلیجب ، فإن كان صائمًا فلیصل و إن كان مفطرًا، فلیطعم‘‘. رواہ مسلم‘‘.(إعلاء : 1/143)
وفي الھداية:” والضیافة عذر‘‘. (1/271)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
1/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


