03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذہنی مریض کااپنی بیوی کو”میں تمہیں ہمیشہ کےلیےآزاد کرتاہوں”کہنےکاحکم
86866طلاق کے احکامبیمار کی طلاق کا بیان

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا بھائی مبشر حسن  ذہنی مریض ہے اور ہمیشہ سے ہر طرح کے معاملات میں  ہمارے اوپر انحصار کرتا ہے، خود اس میں معاملات کو سلجھانے کی اہلیت نہیں ہے اور اگر اس کی بات نہ مانی، سنی جائے  تو موڈ خراب کر لیتا ہے اور جھگڑا شروع کر دیتا ہے، جھگڑے کے تھوڑی دیر بعد ایسے ہو جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس نے اپنی بیوی کو 21 جون 2024  واٹس ایپ پر کہا: آج کے بعد نہ میں تمہیں بلاؤں گا اور ویسے بھی میرا تمہارا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم اور میں اس رشتے سے تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد کرتا ہوں اور اپنے باپ کو فون کرو اور کہو کہ مجھے اس شخص سے طلاق چاہیے۔ پھر اس نے 27 ستمبر 2024 کو کہا: آج کے بعد میرا تمہارا رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم، میں تمہیں ہمیشہ کے لیے اس رشتے سے آزاد کرتا ہوں۔ 3 دسمبر 2024 کو ایک جھگڑے کے دوران اس نے اپنی بیوی سے تین بار کہا: میں مبشر حسن، تم فائزہ بتول کو اپنے ہوش وحواس میں اعلان کرتا ہوں کہ تم میری طرف سے آزاد ہو، تیرا میرا رشتہ ختم۔ جب بھی اس سے ان الفاظ کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی ،محض ڈرانا دھمکانا مقصود تھا۔ باقی مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کتنی بار زبانی طور پر اپنی بیوی سے جون اور ستمبر میں یہ الفاظ کہے، لیکن یہ مواقع واٹس ایپ وائس نوٹ میں ریکارڈ ہیں۔ براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے کہ آپ کا بھائی جھگڑالو اور ذہنی مریض ہے ، تب بھی ہمارے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ آپ کے بھائی نے طلاق کس کیفیت میں دی ہے؟ اگر بیوی کو مخاطب کرتے وقت آپ کابھائی جانتے تھے کہ وہ بیوی کو طلاق دینے کے لیے مخاطب کر رہے ہیں‌ اوران کو معلوم تھا کہ طلاق دینے کا مطلب اور نتیجہ کیا ہوگا اور ان کو یہ بھی یاد ہے کہ اس نے بیوی سے کیا بات کی اور اسے کن الفاظ‌ میں کتنی بار طلاق دی ہے، تو 21جون 2024کو آپ کے بھائی کےیہ  الفاظ"میں تمہیں آزاد کرتاہوں" کہنےسے ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے  اور تجدیدنکاح کے بغیر دونوں کےلیے ازدواجی تعلق قائم رکھناحرام ہے۔ طلاق بائن ایک دفعہ واقع ہوجائےتونکاح ختم ہونےکی وجہ سےبیوی  مزیدطلاق کامحل نہیں رہتی،اسی  لیے ستمبرمیں یا اس کے بعد یہ الفاظ" میں تمہیں آزادکرتاہوں" دویاتین مرتبہ کہنےسےمزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ طلاق واقع ہوچکی ہےاور دونوں کے بیچ ازدواجی تعلق رکھنا حرام ہے۔ البتہ اگر دونوں دوبارہ ازدواجی تعلق قائم رکھناچاہتےہیں تونئےمہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، لیکن آئندہ کےلیےشوہرکےپاس دو طلاق دینے کااختیار رہےگا اور دوطلاق دینے سے بیوی ہمیشہ کےلیے اس پر حرام ہوجائےگی۔

حوالہ جات

(ماخذہ:التبویب،فتویٰ:80696،فتویٰ:81656،فتویٰ:79576)

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

 دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

16 شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب