03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زیادہ کلومیٹر چلی ہوئی گاڑی کو کم کلومیٹرچلی گاڑٕی ظاہرکرکے فروخت کرنا
84899خرید و فروخت کے احکامخریدی ہوئی چیز میں خرابی )عیب( نکلنے کے متعلق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

دبئی میں گاڑیوں کا کاروبار کرتا ہوں۔ ہم گاڑیاں خریدتے ہیں۔ چونکہ گاڑیوں میں زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ لوگ وہ گاڑی پسند کرتے ہیں جو کلومیٹر کے حساب سے کم چلی ہوئی ہو اور اس کی قیمت بھی اچھی مل جاتی ہو۔ اگر کلومیٹر کے حساب سے زیادہ چلی ہو اور گاڑی میں کوئی نقص نہ ہو، تب بھی قیمت اچھی نہیں ملتی یا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ عموماً مارکیٹ والے یہ کرتے ہیں کہ وہ گاڑی میں اصل کلومیٹر جو گاڑی ظاہر کرتی ہے، اس میں رد و بدل کر کے اس کا کلومیٹر کم کر دیتے ہیں اور پھر مارکیٹ میں اچھی قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں۔

اب عرض یہ ہے کہ میں نے 5 ہزار درہم کی گاڑی خریدی جو کہ 150000 کلومیٹر چلی ہوئی تھی، اور گاڑی میں کافی کام تھا۔ تو میں نے وہ تمام کام کروایا اور اس پر مزید 3 ہزار خرچ کیے، تو وہ گاڑی مجھے 8 ہزار میں پڑی۔ اب اگر میں اس کے چلنے (کلومیٹر) کی اصل مقدار کو ظاہر کروں اور کوئی رد و بدل نہ کروں، تو اس گاڑی میں منافع ناممکن ہے اور جو میں نے 8 ہزار درہم لگائے تھے، اس میں بکنا بھی مشکل ہے کیونکہ مارکیٹ میں لوگ 100000 کلومیٹر کی گاڑی 8 ہزار درہم میں بیچ رہے ہیں۔ یہ عموماً اس گاڑی کی چلنے (کلومیٹر) کی اصل مقدار نہیں ہوتی بلکہ لوگ اس میں رد و بدل کر کے اس کی مقدار کم کر دیتے ہیں، اور یہ کلومیٹر کی مقدار کم کرنا مارکیٹ میں عام ہے۔

اب رہنمائی فرمائیں کہ مجھے تو سراسر نقصان ہے۔ میرے لیے نقصان سے بچنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے، اور کیا میں کلومیٹر کم کروا کے گاڑی بیچ سکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کوئی عیب دار چیز اس کا عیب بتائے بغیر فروخت کرنا دھوکہ ہے، اور دھوکہ دینا اسلام میں قبیح اور ناجائز ہے۔حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "جس شخص نے کوئی عیب دار چیز کسی کو فروخت کی، اور خریدار پر اس کا عیب ظاہر نہیں کیا، تو اس پر ہمیشہ اللہ تعالی کا غضب رہے گا، اور اللہ تعالی کے فرشتے اس پر ہمیشہ لعنت کرتے رہیں گے۔"

لہذا مسئولہ صورت میں زیادہ کلومیٹر چلی ہوئی گاڑی کو کم کلومیٹر چلی گاڑی ظاہر کرکے بغیر بتائے فروخت کرنا دھوکہ کی وجہ سے آپ کے لیے جائز نہیں ہے، اس طرح کرنے سے آپ گناہگار ہوں گے۔ آپ صاف صاف گاہک کو بتا دیں کہ یہ گاڑی اصل میں اتنی کلومیٹر چلی ہے اور اگر پھر بھی گاہک اسے خرید لیتا ہے تو پھر اس صورت میں آپ پر کسی قسم کا گناہ نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

مشکاۃ المصابیح:

"عن واثلة بن الأسقع قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌من ‌باع ‌عيبا لم يبينه لم يزل في مقت الله أو لم تزل الملائكة تلعنه» . رواه ابن ماجه")باب خیار البیع،ج2،ص869،رقم الحدیث:2873،ط:المکتبة ا لإسلامی(ورواه الحاكم و البيهقي تفصیلا و قال الحاكم صحيح الإسناد.

وفی الصحیح المسلم :

عن أبي هريرة ، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة، وعن بيع الغرر".( الصحيح للمسلم،كتاب البيوع، باب بطلان بيع الحصاة،والبيع الذي فيه غرر، رقم الحديث:3808)

وفی رد المحتار:

لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام،إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان. (ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب البيوع، مطلب في جملة ما يسقط به الخيار،ج:5، ص:47)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

04/04/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب