03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کورٹ میرج اور طلاق نامہ پرزبردستی دستخط لینے کا حکم
86873طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

mai ek larki ko psnd krta hu, ma ny bht koshish ki maa bap ko manany ki, lrki bht achi hy, uski family b mzhabi ghrany say taluq rkhti hn, lkin myry bap nay zid lga li th k karni he nahi ha, hm school life say psnd karty th. us ka ghar m pata chala unho ny bola ham kar dain gy, lkn Myry ghr m pta chala bht koshish ki, 9 sal tk manaya, lkin maa bap nahi manayn. lrki ki family baghair maa bap kay nahi kar rh th. hm ny court marriage krli. 6 mahney hgy myry ghr ma pata chl gya, us wqt larki ki family say uski bhanji hospital m admit th serious condition ma. us wqt larki nay bola: ham sb hospital ma hain hmary ghar tak bat nh ay, us wqt wo bhot majbur th. myry ghr wlo ny is bat ka faida uthaya or myry sth bht zbrdste ki, k forn talaq do phone py. lkin ma nay nahi di. lrki nay b phone bnd kr dia, phr myry ghr wly jabran zbrste mjy court ly gy. agr mai nahi jata to larki ka bhi masla tha, us kay ghr bat jati. uski maa b heart patient hn. or myry ghr wly koi bt sunny ya sulah k lye tyar nh th, srf talaq he dlwana chahty th har sorat. may is chz k lye blkl tyar nahi th, lkn myry ghr wly zbrste court ly gy, myry upr bht zda zhni dbao th. whn court ja kr jhout bl kr myre mother nay talaq nama bnwaya, kay nikah kay bd miya bv ki bni nh, or jo reason us m lkhway, sb jhout. or wo stamp ppr muj sy zbrdste prhwa kr sign krway. m blkl b is bt k lye is chz k lye tyar nh th na is m blkl b myre mrzi shamil th. myry upr bht dabao tha ma ghar chor kr ja rh th,wo b parents nay jany nh dia. ma nay tme mnga k mjy tme chahye sochny ka, m asy talaq nh dnga, lkn myry parents kch sunny k lye tyar nh th, whn lrki b apny ghr m bata nahj sakti thi us tme or ma b bhot majbur tha ,lkin m kse sorat talaq nh dyna chahta. ma nay bht dbao ma akr stamp ppr prh kr sign kia, to kia talaq hgai? hm n miya bv wla rishta taluq aysa qaim nh kia th shadi kay bd he ye sb krta, mai nikah ka apny ghar khud btany wala th, kch situation ayse th jski wja say nahi batya th. ab btata to khd pata chal gaya, Plz rhnumai frmaye, talaq kay hawaly sy mai blkl bhi tyar nahi th na ma ny apni mrzi say sign kye bht pressure ma akr kia ha. plzz rhnumai frma dy.

تنقیح:

میں نےایک لڑکی سے والدین کی رضامندی کے بغیر عدالتی نکاح (کورٹ میرج)کیا۔والدین کو پتہ چلاتو مجھے زبردستی کورٹ لےگئےاور میری ماں نے جھوٹا طلاق نامہ تیارکیا، جس میں  میاں بیوی کے بیچ"  باہمی ناراضگی " کی بات لکھی، حالانکہ ہم ایک دوسرےسے بہت خوش تھے۔ طلاق نامہ میں نے پڑھا ،جس پر   دستخط کےلیےمجھے حددرجہ مجبورکیاگیا،میں نے شدید دباؤمیں آکردستخط کئے،حالانکہ میں طلاق دینے پر بالکل بھی راضی نہیں تھا۔اس صورت حال میں  طلاق واقع ہوئی ہےیانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے یہ بات بطور تمہید سمجھ لینی چاہیے کہ شریعت میں اولاد کو اپنے ولی (والد اور بھائیوں وغیرہ) کی اجازت اور سرپرستی میں نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرم وحیاء کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے آپ دونوں کا اپنے اولیاء سے چھپ کر نکاح کرنا بھی شرعاً اور اخلاقاً ناپسندیدہ فعل تھا۔تاہم اگر آپ اور لڑکی واقعۃً ایک دوسرے کے کفو یعنی ہم پلہ ہیں  اورکورٹ میرج کےدوران نکاح کے شرعی لوازمات مکمل تھے،تو یہ نکاح منعقد ہوگیا تھا۔

دوسری بات یہ کہ دار الافتاء سے جو جواب تحریری یا زبانی دیا جاتا ہے وہ سوال کے مطابق ہوتا ہے۔ سوال کے درست یا غلط ہونے کی صورت میں جواب کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔ نیز اگر سوال مطلق ہو اور کوئی ایک صورت واضح نہ کی گئی ہو جبکہ جواب میں ایک سے زیادہ صورتوں میں الگ الگ جواب کا امکان ہو  اور تنقیح سے بھی صورت حال واضح نہ ہو، تو جواب میں اصول بتا دیا جاتا ہے جس کے اپنی صورت حال پر اطلاق کی ذمہ داری بھی سائل کی ہوتی ہے۔یہ بھی خوب ذہن نشین فرمالیں کہ طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی دارالافتاء سے فتوی لے کر اس کا اطلاق اپنی خواہش کے مطابق کرنے  سے کوئی شخص عند اللہ گناہ سے بچ نہیں سکتا۔ لہذا ایسے کسی فعل سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔

جبری طلاق اگر زبان سے نہ دی جائے، محض لکھ کر یا طلاق نامے پر دستخط کر کے دی جائے تو واقع نہیں ہوتی بشرطیکہ  جبر اور اکراہ  متحقق ہو۔جبر واکراہ کے تحقق کےلیے چار شرائط ہیں:

  1. ‌مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس کی وہ دھمکی دے رہا ہو۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔
  2. ‌جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ  دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔
  3. دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی ہو۔
  4. ‌جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔

یہ چاروں شرائط پائی جائیں تو اکراہ درست ہوگا اور اس کے احکام لاگو ہوں گے۔

مذکورہ بالاچارشرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر آپ کو واقعی  طلاق دلوانے پر مجبورکیاگیاہو تو محض طلاق نامہ پر دستخط کرنےسے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔اور اگر صورت حال مختلف ہو، توسوال میں مذکور"دباؤاور زبردستی"کس نوعیت کی تھی،اس کی کی مکمل وضاحت کرکے سوال بھیجنے پر ہی اس کے مطابق  جواب دیاجاسکتاہے۔

حوالہ جات

       ماخذہ:التبویب،فتویٰ: 73227، فتویٰ: 78374

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

    دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

16   شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب