| 85406 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ورثاء میں متوفی کی زوجہ،ایک بیٹی اور ایک بھائی ہوں تو ترکہ کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کی منقولہ و غیر منقولہ جائداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ تجہیز و تکفین کا خرچ منہاکرنے اورمرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہوتواسےاداکرنےکےبعد،یامرحومہ نےکوئی جائزوصیت کی ہوتواسےایک تہائی ترکہ میں نافذکرنےکےبعد،باقی جائداد آٹھ حصوںمیں تقسیم کرکے ایک حصہ مرحوم کی زوجہ کو،چارحصےمرحوم کی بیٹی کواورتین حصے مرحوم کے بھائی کو ملیں گے۔ فیصد کے اعتبار سے 12.50 فیصد زوجہ کو،50 فیصد بیٹی کو اور 37.50 فیصد بھائی کو ملے گا۔
یاد رہے مذکورہ تقسیم اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ سوال میں دی گئی معلومات کے مطابق مرحوم کے ورثاء میں فقط ایک بیوی،ایک بیٹی(یعنی مرحوم کی موت کے وقت ایک بیٹی کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں تھی)اور ایک بھائی(یعنی مرحوم کی موت کے وقت مرحوم کے مزید بھائی بہن زندہ نہیں تھے)۔
|
مرحوم سے رشتہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
زوجہ |
1/8 |
12.50فیصد |
|
بیٹی |
4/8 |
50.00فیصد |
|
بھائی |
3/8 |
37.50 فیصد |
|
مجموعہ |
08 |
100فیصد |
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 769)
(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 772)
(قوله والسدس لبنت الابن إلخ) للبنات ستة أحوال ثلاثة تتحقق في بنات الصلب، وبنات الابن وهي النصف للواحدة ……
الفتاوى الهندية (6/ 451)
فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده……
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 762)
(فيبدأ بذوي الفروض)….. (ثم بالعصبات)…
الفتاوى الهندية (6/ 447)
فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية ……
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۹.جمادی الاولیٰ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


