| 85297 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
آج ایک لاکھ پاکستانی روپے کے عوض مارکیٹ سے ڈالر لے کر رکھ لیے جائیں،پھردوچار دن بعد جب ڈالر تھوڑا مہنگا ہو تو اسےمارکیٹ میں بیچ دیا جائے،کیا ایسا کرنا جائز ہے؟اورایسا کرنے سے جو نفع حاصل ہوگا اس کااستعمال کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سب سے پہلے یہ سمجھیے کہ کرنسی کی خرید و فروخت کا کاروبار کوئی ایسی معاشی سرگرمی نہیں ہے جس سے اجتماعی معیشت بہتر ہو سکے،لہٰذا بلا ضرورت اس کاروبار کاحصہ بنناپسندیدہ نہیں ہے،اس کے بجائے کسی ایسی معاشی سرگرمی کا حصہ بننا چاہیے جو جائز بھی ہو اور اجتماعی معیشت کی ترقی کا سبب بھی ہو۔
سوال میں مذکور صورت دو مختلف کرنسیوں کی کمی بیشی کے ساتھ آپس میں تبادلے کی ہے،یہ معاملہ دو شرطوں کے ساتھ جائز ہےکہ معاملہ مارکیٹ ریٹ پر ہو اور کم از کم ایک فریق مجلس عقدمیں قبضہ کرلے۔مثلاً مذکورہ صورت میں جب پاکستانی روپے کے عوض ڈالر خریدے جائیں تو مجلس عقد میں کم از کم کسی ایک فریق کی طرف سے لازمی ادائیگی ہو،دونوں طرف سے ادھار نہ ہواور عقد کے دن کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہو۔اسی طرح جب واپس ڈالر بیچے جائیں تو یہی طریقہ اختیار کیا جائے کہ کم از کم کسی ایک فریق کی طرف سے لازمی ادائیگی ہو،دونوں طرف سے ادھار نہ ہو اور عقد کے دن کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہو۔مذکورہ شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئےمذکورہ معاملہ جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کا استعمال بھی جائز ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (5/ 179(
(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز ) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر.
الفتاوى الهندية (3/ 224)
وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز، وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط.
(لما في تكملة فتح الملهم، كتاب المساقاةوالمزارعة،حكم الأوراق النقدية،589/590/1، ط:دار العلوم)
"وأما الأوراق النقدية وهي التي تسمى "نوت"......فالذين يعتبرونها سندات دين،ينبغي أن لا يجوز عندهم مبادلة بعضها ببعض أصلا، لاستلزام بيع الدين بالدين،ولكن قدمنا هناك أن المختار عندنا قول من يجعلها أثمانا،وحينئذ نجرى عليها أحكام الفلوس النافقةسواء بسواء وقدمنا آنفا أن مبادلة الفلوس بجنسها لايجوز بالتفاضل عند محمد رحمة الله ، ينبغى أن يفتى بهذا القول في هذا الزمان سدا لباب الربا ،وعليه فلايجوز مبادلة الأوراق النقدية بجنسها متفاضلا،ويجوز إذا كانت متماثلا.....وأما العملة الأجنبية من الأوراق فهي جنس آخر،فيجوز بالتفاضل،فيجوز بيع ثلاث ربيات باكستانيةبريال واحدسعودى.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۲.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


