| 85333 | جنازے کےمسائل | مردے کو غسل دینے اوردفنانے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
قرآن و سنت کے مطابق، کیا ایک عام میت کی لاش کو تابوت میں دفن کرنا چاہیے؟قرآن و سنت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بلا ضرورت کسی بھی میت کو تابوت میں دفن کرنا شرعاً مکروہ ہے، اور ضرورت ہو تو بلا کراہت جائز ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (2/ 234):
(ولا بأس باتخاذ تابوت) ولو من حجر أو حديد (له عند الحاجة) كرخاوة الأرض.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 234):
(قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره كما قدمناه آنفا.قال في الحلية: نقل غير واحد عن الإمام ابن الفضل أنه جوزه في أراضيهم لرخاوتها.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
02/05/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


