03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کو تابوت میں دفن کرنےکاحکم
85333جنازے کےمسائلمردے کو غسل دینے اوردفنانے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

قرآن و سنت کے مطابق، کیا ایک عام میت کی لاش کو تابوت میں دفن کرنا چاہیے؟قرآن و سنت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بلا ضرورت کسی بھی میت کو تابوت میں دفن کرنا شرعاً مکروہ ہے، اور ضرورت ہو تو بلا کراہت جائز ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار (2/ 234):

(ولا بأس باتخاذ تابوت) ولو من حجر أو حديد (له عند الحاجة) كرخاوة الأرض.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 234):

(قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره كما قدمناه آنفا.قال في الحلية: نقل غير واحد عن الإمام ابن الفضل أنه جوزه في أراضيهم لرخاوتها.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

02/05/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب