| 84298 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے شوہر ایک معروف نفسیاتی مریض ہیں، وہ پچھلے کچھ مہینوں سے مجھ سے ناراض ہیں،چند دن پہلےانہوں نے کہا "میری طرف سے تم آزاد ہو یعنی میرے اصولوں کی پیروی نہ کرو جیسا کہ تمہیں صرف میرے پاس بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے اور تم اپنے کام بھی کر سکتی ہو" چند منٹ بعد، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے الفاظ کو بدل رہے ہیں اور اب تمہیں میرے اصولوں کی پیروی کرنی ہوگی، اب پچھلے اتوارکو انہوں نے مجھے گھر سے نکل جانے کو کہا، میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ ہم کم از کم6 ماہ کے لیے الگ رہیں، پھر میں نے پوچھا کہ کیا وہ علیحدگی کی طرف جا رہے ہیں ؟ انہوں نے ہاں کہا، پھر اگلے دن میں اپنی ماں کے گھر چلی گئی، اب کل انہوں نے مجھے فون کیا اور گھر واپس آنے کو کہا، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ
١۔ کیا یہ طلاق ہے یا میں واپس ان کے ساتھ جا سکتی ہوں؟
۲۔17 سال پہلے، انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ "جاؤ میں نے تمہیں آزاد کیا"، پھر انہوں نے رجوع کیا اور میں نے ایک مفتی صاحب سے پوچھاتو انہوں مجھے بتایا کہ یہ طلاقِ رجعی ہے، حالانکہ میرے شوہر نے کہا کہ وہ ان الفاظ سے طلاق کا مطلب نہیں رکھتے تھے۔
کیا 17 سال پہلے والی طلاق رجعی تھی یا بائن؟ہم نے اس وقت نیا نکاح نہیں کیا تھا،کیونکہ ہم نے اسے طلاق رجعی سمجھاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ "میری طرف سے تم آزاد ہو" کے بعدجب متصلاًآپ کےشوہرنے تشریح کرتے ہوئے یہ کہاکہ "میرے اصولوں کی پیروی نہ کرو الخ" یعنی اس آزادی سے میری مرادطلاق نہیں بلکہ اصولوں کی پیروی نہ کرنا مراد ہے، تو اس سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ،کیونکہ لفظوں مٰیں عدمِ وقوع طلاق کا قرینہ موجودہے،لہذا آپ شوہرکے ساتھ جاسکتی ہے۔
۲۔ 17سال پہلے آپ کے شوہرنےجویہ کہاتھاکہ "جاؤمیں نے تمہیں آزاد کیا"اورپھر اس کاحکم مفتی صاحب سے پوچھاتھا توانہوں نےطلاقِ رجعی کافتوی دیاتھااورآپ کے شوہرنےاس پرعمل کرتے ہوئے رجوع کرلیا تھاتو اس سے رجوع ہوگیاتھا اوربیوی اس کےلیے حلال ہوگئی تھی ،کیونکہ عامی کے حق میں مفتی کا قول معتبرہوتاہے ،تاہم رجوع سے طلاق کا اثرتو ختم ہوجاتاہے مگرطلاق ختم نہیں ہوتی ،لہذا اب آپ کے شوہرکےپاس صرف دوطلاقوں کا اختیارباقی ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى البزازية (2/ 1):
وعن محمد لو استفتى فأفتاه فقيه بالفطر لا كفارة عليه وهو الصحيح لأن على العامي تقليد المفتي.
المبسوط للسرخسي (10/ 184)
وعلى هذا الطلاق المضاف إذا كان الزوج يعتقد وقوع الطلاق فقضى القاضي بخلافه فهو على الخلاف وإن كان الزوج غائبا أو كان يعتقد أن الطلاق غير واقع فعليه أن يتبع رأي القاضي أو قضى بخلاف اعتقاده وعلى هذا لو استفتى العامي أقوى الفقهاء عنده فأفتى له بشيء فذلك بمنزلة اجتهاده لأنه وسع مثله.
البناية شرح الهداية (4/ 109)
م: (لأن الفتوى دليل شرعي في حقه) ش: لأن العامي يلزمه الرجوع إلى فتوى الفقيه وقد أفتاه بما اختلف الفقهاء فيه فصار ذلك عذراً في الشبهة.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 13)
والعامي إذا استفتى في حادثة، وقد وقع الاختلاف فيما بين الفقهاء، أخذ بقول من هو أفقه عنده، كذا هنا.
وفی الشامیة (۴؍،۵۳۰ زکریا )
فإن سرحتک کنایۃ لکنہ في عرف الفرس غلب استعمالہ في الصریح، فإذا قال: رہا کردم أی سرحتک یقع بہ الرجعي مع أن أصلہ کنایۃ أیضا وما ذاک إلا لأنہ غلب في عرف الناس استعمالہ في الطلاق۔
وفیہا ایضاً(۴/۵۳۰)
(قولہ) وقد مر أن الصریح مالم یستعمل إلا في الطلاق، من أي لغۃ کانت ۔ (شامي، کتاب الطلاق، باب الکنایات، زکریا۴/۵۳۰، کراچي۳/۲۹۹جدیدزکریا۱/۵۳۵)
وفیہا ایضاً(۴: ۵۳۰، ۵۳۱)
وأما إذا تعورف استعمالہ في مجرد الطلاق لا بقید کونہ بائناً یتعین وقوع الرجعي بہ کما في فارسیة: ”سرحتک“ ، ومثلہ ما قدمناہ في أول باب الصریح من وقوع الرجعي بقولہ: ”سن بوش“ أو ”بوش أول“ في لغة الترک مع أن معناہ العربي: أنت خلیة وھو کنایة، لکنہ غلب في لغة الترک استعمالہ فی الطلاق (شامی ۴: ۵۳۰، ۵۳۱)
وفی الہندیۃ( ۱:۳۷۹)
والاصل الذی علیہ الفتویٰ فی زماننا ھذا فی الطلاق بالفارسیۃ انہ اذا کان فیہا لفظ لا یستعمل الا فی الطلاق فذلک اللفظ صریح یقع بہ الطلاق من غیر نیۃ اذا اضیف الی المرأۃ۔ (فتاویٰ عالمگیریۃ ۱:۳۷۹ الفصل السابع فی الالفاظ الفارسیۃ)
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 33)
قوله (والطلاق على ضربين صريح وكناية) فالصريح ما ظهر المراد به ظهورا بينا مثل أنت طالق أنت حرة.
البناية شرح الهداية (6/ 20)
إذا قال لامرأته أنت حرة ونوى به الطلاق صح مجازاً.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 6)
ولو نوى الطلاق عن وثاق لم يدن في القضاء لأنه خلاف الظاهر ويدين فيما بينه وبين الله تعالى لأنه نوى ما يحتمله.
وفی فتاوی دارالعلوم دبوبند علی الشبکة العنکبوتیة :
”آزاد کردیا“ کی طرح ”چھوڑدیا“ کا لفظ بھی اردو محاورے میں طلاق کے معنی میں صریح ہے، راجح یہی ہے (دیکھئے: امداد الفتاوی ۲: ۴۵۶، سوال: ۵۵۰، امداد الاحکام ۲: ۴۴۳، ۴۴۵، ۴۴۶، ۴۴۸، امداد المفتین ص ۶۱۶، فتاوی محمودیہ جدید ڈابھیل ۱۲: ۳۴۰-۳۵۸، سوال: ۶۰۸۸-۶۰۹۹، فتاوی رحیمیہ جدید تخریج شدہ ۸: ۲۹۶، ۲۹۷، سوال: ۳۶۶، آپ کے مسائل اور ان کا حل جدید تخریج شدہ ۶: ۴۳۹، احسن الفتاوی۵: ۱۶۶، منتخبات نظام الفتاوی ۲: ۲۱۳، ۲۳۵، فتاوی عثمانی ۲: ۳۴۱-۳۴۵، ۳۴۸، ۳۶۱، ۳۶۵) ، پس اس کا حکم وہی ہوگا جو اوپر ”میں نے تمھیں آزاد کردیا“ یا ”تم میری طرف سے آزاد ہو“ وغیرہ کا تحریر کیا گیا۔[1]
[1] https://darulifta-deoband.com/home/ur/talaq-divorce/63306
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/01/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


