| 87949 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک مالدار شخص نے واجب قربانی کرنے کے بعد عید کے دنوں میں ہی نفل قربانی کی نیت سے جانور خریدا، مگر اب وہ کسی وجہ سے اس سال اس کی قربانی نہیں کرنا چاہتا اور اگلے سال کرنا چاہتا ہے، تو کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، یا اسی سال اس کی قربانی اس پر ضروری ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ سوال میں مذکور شخص مالدار ہے اور اپنی واجب قربانی اداکر چکا ہے، اور اس کے بعد اس نے نفل قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے، اور نفل قربانی کی نیت سے خریدا گیا جانور مالدار شخص پر لازم نہیں ہوتا، اس لیے اس جانور کی قربانی اس پر اسی سال ضروری نہیں۔ لہٰذا اگر وہ اس سال اس کی قربانی نہیں کرنا چاہتا اور اگلے سال کے لیے اسے رکھنا چاہتاہے، تو ایسا کرنا اس کے لیے شرعاً جائز ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (42/ 224)
(وأما) (صفة التضحية): فالتضحية نوعان واجب وتطوع والواجب منها أنواع : ومنها ما يجب على الغني دون الفقير ۔۔۔۔ وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشترى للأضحية إذا كان المشتري فقيرا ، بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها ، وإن كان غنيا لا تجب عليه بشراء شيء.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 333)
قوله ولو ضحى بالكل إلخ) الظاهر أن المراد لو ضحى ببدنة يكون الواجب كلها لا سبعها بدليل قوله في الخانية: ولو أن رجلا موسرا ضحى ببدنة عن نفسه خاصة كان الكل أضحية واجبة عند عامة العلماء وعليه الفتوى اهـ مع أنه ذكر قبله بأسطر لو ضحى الغني بشاتين فالزيادة تطوع عند عامة العلماء، فلا ينافي قوله كان الكل أضحية واجبة، ولا يحصل تكرار بين المسألتين فافهم، ولعل وجه الفرق أن التضحية بشاتين تحصل بفعلين منفصلين وإراقة دمين فيقع الواجب إحداهما فقط والزائدة تطوع بخلاف البدنة فإنها بفعل واحد وإراقة واحدة فيقع كلها واجبا، هذا ما ظهر لي.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 101)
اشترى شاتين للأضحية، فضاعت إحديهما، وضحى بالثانية، ثم وجدها في أيام النحر، أو بعد أيام النحر، فلا شيء عليه؛ سواء كانت هي أرفع من التي ضحى بها أو دون منها.
الفتاوى الهندية (42/ 365)
اشترى شاتين للأضحية فضاعت إحداهما فضحى بالثانية، ثم وجدها في أيام النحر أو بعد أيام النحر فلا شيء عليه سواء كانت هي أرفع من التي ضحى بها أو أدون منها، كذا في المحيط.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
9/1/1447٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


