| 87774 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
بعض نوجوان موٹر کار کو مخصوص انداز میں انتہائی تیز رفتاری سے گھماتے ہیں، جس میں حادثہ یقینی ہوتا ہے۔ اگر اس عمل کے دوران ڈرائیور خود یا کوئی دوسرا شخص مر جائے تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ عمل اگرچہ قصدِ قتل نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی میں تو داخل نہیں، مگر تَہلُکہ (اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا) میں یقیناً داخل ہے، اور قرآنِ کریم اور قانون کی رُو سے ممنوع ہے؛ لہٰذا ڈرائیور اس سے گناہگار ہوگا۔
اس عمل سے اگر دوسرے کی جان جائے تو یہ قتلِ خطا ہوگا، اور بے احتیاطی کے گناہ کے ساتھ ساتھ اس قتل میں دیت اور کفارہ بھی واجب ہوگا، کیونکہ اس نے گو قتل کا قصد نہیں کیا، مگر ایسا فعل کیا جس سے ہلاکت کا قوی اندیشہ تھا۔
حوالہ جات
في تفسير الخازن:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.........وفي الكلام حذف تقديره: ولا تلقوا أنفسكم بأيديكم إلى التهلكة، كما يقال: أهلك فلان نفسه بيده، إذا تسبب في هلاكها وقيل التهلكة كل شيء تصير عاقبته إلى الهلاك اھ (1/ )
القرآن الکریم:
(وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا)[النساء: 92].
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
05/ذی الحجہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


