03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ون ویلنگ سے ہلاکت خودکشی کے زمرے میں آتی ہے؟
87773قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارے ہمارے علاقے میں عید، شادی بیاہ یا دیگر خوشی کے مواقع پر، حتیٰ کہ سیر و تفریح کے دوران بھی نوجوان لڑکے موٹر سائیکل یا موٹر کار پر خطرناک کرتب دکھاتے ہیں، جیسے "ون ویلنگ" کرنا یا انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی چلانا۔ ان حرکات کے نتیجے میں کئی مرتبہ خوفناک حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں متعدد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔اسی طرح آباد علاقوں میں ہوائی فائرنگ کا بھی رواج ہے، جو کئی بار اموات کا سبب بن چکی ہے۔ایسی صورتِ حال میں مندرجہ ذیل سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں، جن کے شرعی احکام عوام الناس تک پہنچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے:

جو شخص جان بوجھ کر موٹر سائیکل کو خطرناک حد تک تیز رفتاری سے چلاتا ہے اور "ون ویلنگ" جیسا خطرناک کرتب کرتا ہے، اگر وہ اس عمل کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہو کر ہلاک ہو جائے تو کیا یہ خودکشی کے زمرے میں آئے گا؟اسی طرح اگر اس کے اس غیر ذمہ دارانہ عمل کی زد میں کوئی اور شخص آ جائے اور وہ ہلاک ہو جائے تو کیا یہ قتلِ عمد شمار ہوگا؟ اور اس صورت میں قصاص کا کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکور دونوں صورتوں کو خودکشی نہیں کہا جائے گا؛ کیونکہ خودکشی اسے کہتے ہیں کہ آدمی ایسا اقدام کرے جس میں اس کی نیت و ارادہ خود اپنی جان لینے کا ہو؛ یہاں نہ تو خودکشی کا ارادہ پایا جاتا ہے، اور نہ ہی آدمی کی موت یقینی ہوتی ہے، گو امکان موجود ہوتا ہے۔ عموماً یہ خطرات مول لینے والے بچ جاتے ہیں، تاہم ان صورتوں میں جان جانے کا گمان یا احتمال بہرحال موجود ہے، اس لیے محض شوق کی وجہ سے یا تفریحِ طبع کی خاطر ایسے اقدام کرنا نہ صرف بے عقلی ہے، بلکہ شرعاً بھی ناجائز ہے۔ ایسے اقدام سے اجتناب کیا جائے۔ خدانخواستہ ایسے اقدام کی صورت میں جان چلی جائے تو خودکشی کا گناہ نہ سہی، اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا گناہ ضرور ہوگا اور اس پر تعزیری سزا بھی دی جا سکتی ہے اگر وہ بچ جائے۔

پاکستان کے قانون کے مطابق بھی "ون ویلنگ" (One Wheeling) یعنی موٹر سائیکل کو ایک پہیے پر چلانا ایک غیر قانونی،  خطرناک  اور مجرمانہ  عمل ہے۔  اس پر مختلف قوانین کے تحت  پابندی  عائد کی گئی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف

 ون ویلنگ کرنے والے کی جان کے لیے خطرہ ہے بلکہ دوسروں کی جان و مال کے لیے بھی خطرے کا باعث بنتی ہے۔

اس عمل سے اگر کسی اور کی موت ہو جائے تو یہ قتلِ خطا کہلائے گا، کیونکہ اس نے قتل کا قصد تو نہیں کیا، مگر ایسا غلط کام کیا جس کے انجام میں موت کا غالب گمان تھا۔ لہٰذا یہ گناہ ہوگا اور اس قتل میں دیت اور کفارہ بھی لازم ہوگا)[1](۔

 


  1. [1] موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 (Motor Vehicle Ordinance 1965):
    اس آرڈیننس کے تحت ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف جرمانہ، قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ون ویلنگ کو خطرناک ڈرائیونگ میں شمار کیا جاتا ہے۔
  2. پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 279:
    اگر کوئی شخص عوامی سڑک پر لاپرواہی یا خطرناک طریقے سے گاڑی چلاتا ہے جس سے جان یا مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، تو اسے 6 ماہ تک قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔
  3. PPC دفعہ 337-J اور 337-H:
    اگر کسی کی حرکت سے کسی کو چوٹ آئے یا موت واقع ہو تو اس پر ان دفعات کے تحت بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔
  4. سیفٹی ایکٹ و دیگر مقامی قوانین:
    مختلف صوبے اور شہر (جیسے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا) اپنے مقامی ٹریفک قوانین میں بھی ون ویلنگ پر سختی سے پابندی عائد کرتے ہیں، اور پولیس کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ون ویلنگ کرنے والوں کو گرفتار کرے اور ان کی موٹر سائیکل ضبط کرے۔
حوالہ جات

في التفسير المظهري: تحت قوله تعالى (وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ):

 وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر إِلَى التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه اھ (1/ 215)

في تفسير الخازن:

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ عبر بالأيدي عن الأنفس، وقيل الباء على أصلها وفي الكلام حذف تقديره: ولا تلقوا أنفسكم بأيديكم إلى التهلكة، كما يقال: أهلك فلان نفسه بيده، إذا تسبب في هلاكها وقيل التهلكة كل شيء تصير عاقبته إلى الهلاك اھ (1/ )

صحیح بخاری :

’’کان فیمن کان قبلکم رجل به جرح فجزع، فأخذ سکیناً فجز بها یده، فمارقأ الدم حتی مات، قال الله عز وجل بادرني عبدي بنفسه حرمت علیه الجنة.(کتاب الانبیاء:باب ما ذکر عن بنی اسرائیل:رقم الحدیث:۳۴۶۳)

قال اللہ تعالی:

ومن قتل مؤمناً خطأ فصيام شهرين مؤمنة ودية مسلمة إلى أهله إلا أن يصدقواً ". إلى قوله " فمن لم يجد فصيام شهرين متتابعين توبة إلى اله وكان الله عليما حكيماً .

الهداية (4/ 158):

والخطأ على نوعين: خطأ في القصد، وهو أن يرمي شخصا يظنه صيدا، فإذا هو آدمي، أو يظنه حربيا، فإذا هو مسلم، وخطأ في الفعل، وهو أن يرمي غرضا، فيصيب آدميا، وموجب ذلك، الكفارة والدية على العاقلة.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

05/ذی الحجہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب