| 87829 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
آج سے کچھ عرصہ پہلے میری زوجہ گھر سے کسی نامعلوم شخص کے ساتھ چلی گئی، جس کا مجھے کچھ علم نہ تھا۔ اس کے فوراً بعد میرے بوڑھے والدین شدید بیمار ہو کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے، آمین۔میں اس غم میں مبتلا تھا کہ اب معلوم ہوا ہے کہ میری بیوی نے کسی مرد کے ساتھ کورٹ سے خلع لے کر نکاح کر لیا ہے اور اس سے اولاد بھی ہو چکی ہے، جب کہ میں نے ابھی تک اسے طلاق نہیں دی، اور میرے دو بچے بھی میرے پاس ہیں۔اب میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ:
- شرعی اعتبار سے اس کا نکاح درست ہے یا نہیں؟
- جو بچے اس دوسرے مرد سے ہیں، کیا وہ شرعی طور پر اس مرد کے بیٹے/بیٹیاں شمار ہوں گے یا نہیں؟
- اگر میں اس عورت کو واپس لانا چاہوں، تو کیا نیا نکاح کرنا پڑے گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
﴿١﴾ خلع ایک عقد ہے جو فریقین کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتا، اور جب آپ کو اس کا علم ہی نہیں تھا، تو اجازت کیسے دی ہوگی؟ اس لیے یہ خلع تو نہیں۔
البتہ عدالت کچھ شرعی اسباب کی بنا پر نکاح فسخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے، جیسے شوہر کا بیوی کو نفقہ نہ دینا، شوہر کا مجنون ہونا، عنین ہونا وغیرہ وغیرہ ۔
تو اگر اس طرح کے شرعی اسباب میں سے کوئی سبب پایا گیا ہواوروہ شرعی ثبوتوں کے ساتھ عدالت کے سامنےثابت کردیاگیاہو اور عدالت نے اسی کی بنیاد پر نکاح فسخ کیا ہو، اور عورت نے عدت بھی اس کے بعد پوری کر کے نیا نکاح کیا ہو، تو پھر وہ نکاح درست ہوگا۔
لیکن اگر اس طرح کےشرعی اسباب میں سے کوئی بھی سبب نہیں تھا، اور پھر بھی عدالت نے یکطرفہ ڈگری جاری کی ہو، تو اس سے اس عورت کا نکاح آپ سے ختم نہیں ہوا، اور جب نکاح ختم نہیں ہوا تو پھر دوسرا نکاح صحیح نہیں ہوا، اس لیے کہ نکاح پر نکاح نہیں ہو سکتا۔
یہ اجمالی جواب تھا، خلع کی مذکورہ ڈگری کے متعلق حتمی اور تفصیلی رائے صرف اس ڈگری کو دیکھ کر ہی دی جاسکتی ہے کہ وہ صحیح ہے یا نہیں، اس سے نکاح فسخ ہوا ہے یا نہیں، اور دوسرا نکاح درست ہوا ہے یا نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر خلع کی مذکورہ یکطرفہ ڈگری شرعی اصولوں کے مطابق ہو اور عورت نے عدت کے بعد دوسرا نکاح کیا ہو، تو وہ نکاح صحیح ہے، ورنہ وہ نکاح صحیح نہیں ہے۔
﴿۲﴾ اگر پہلا نکاح ختم ہو چکا تھا اور عدت گزر گئی تھی، اور اس کے بعد نکاح ہوا تھا، تو وہ بچے دوسرے مرد کے شمار ہوں گے۔ اور اگر پہلا نکاح ختم نہیں ہوا تھا یا عدت کے دوران دوسرا نکاح ہواتھا، تو بچے اگر دوسرے مرد کے نکاح کے چھ ماہ کے بعد پیدا ہوئے، تو راجح قول کے مطابق وہ وطی بالشبہہ کی وجہ سے دوسرے شوہر کے بچے شمارہوں گے۔ اور اگر چھ ماہ سے پہلے پیدا ہوئے، تو وہ شرعاً پہلے شوہر یعنی آپ کی طرف منسوب ہوں گے(لتیقن العلوق منہ)، اور ان کا نان و نفقہ بھی آپ کے ذمہ ہوگا، اور یہ آپ کی وراثت سے حصہ بھی پائیں گے، بشرطیکہ آپ ان بچوں کے نسب کا انکار نہ کریں۔
اور اگر آپ انکار کرتے ہیں، تو اگر خبر ملنے کے فوراً بعد انکار کرتے ہیں یا اتنی مدت میں انکار کرتے ہیں جتنی مدت میں لوگ نومولود کی مبارکباد دیتے ہیں اور ولادت کے لوازمات خریدتے ہیں، تو اس نفی کا اعتبار ہوگا اوربچے کے نسب کی نفی آپ سے درست مانی جائے گی، مگر لعان (شرعی قسم کھا کر تعلق ختم کرنے کا عمل) کرنا پڑے گا۔
اور اگر نفی خبر ملنے کے فوراً بعد نہیں کی، اور نہ ہی اتنی دیر میں کی جتنی دیر میں لوگ نومولود کی مبارکباد دیتے ہیں اور ولادت کے لوازمات خریدتے ہیں، تو پھر اس نفی کا اعتبار نہیں ہوگا، اور نسب بہرحال آپ سے ثابت ہوگا۔ تاہم چونکہ نفی میں زنا کی تہمت بھی ہے، تو لعان کرنا پڑے گا، تاہم اگر بیوی پہلے شوہر یعنی آپ کی تصدیق کر دے، تو پھر آپ پر لعان نہیں ہوگا۔
﴿۳﴾ اگر پہلا نکاح ختم ہو چکا تھا اور عدت گزر گئی تھی، اور اس کے بعد دوسرا نکاح ہوا تھا، تو جب تک دوسرا شوہر طلاق نہ دے اور اس کی عدت نہ گزر جائے، آپ اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتے۔ اور اس کے بعد اس عورت کو واپس لانے کے لیے آپ کو نیا نکاح کرنا ہوگا۔
اور اگر پہلا نکاح ختم نہیں ہوا تھا، تو چونکہ دوسرا نکاح ہوا ہی نہیں اور عورت بدستور آپ کے نکاح میں ہے، تو اس صورت میں اسے واپس لانے کے لیے آپ کو نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
وفی فتاوی شامیة:
"فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية: لايتم الخلع ما لم يقبل بعده".(۳/۴۴۰، سعید)
وفی بدائع الصنائع
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول". (۳/۱۴۵، سعید)
وفی سنن ابن ماجة للقزويني - (ج 2 / ص 172)
عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! إن سيدا زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال ، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .
وفی المبسوط - (ج 34 / ص 176)
والخامسة : منكوحة الغير أو معتدة الغير ، فإنها محرمة عليه إلى غاية وهي انقضاء العدة.
وفی رد المحتار - (ج 12 / ص 383)
أما منكوحة الغير فهي غير محل إذ لا يمكن اجتماع ملكين في آن واحد على شيء واحد.
وفی المبسوط لشمس الدين السرخسي - (ج 9 / ص 362)
إذا كانت المرأة منكوحةالغير أو محرمة عليه بسبب لا ينفذ قضاؤه لانعدام المحل.
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَo وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَo وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ هَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَo وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَo وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ(النور، 24: 6-10)
الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني( ج: ۵ ص: ۲۲۵ )
ومثل المفقود من علم موضعه وشكت زوجته من عدم النفقة يرسل إليه القاضي : وإما أن تحضر أو ترسل النفقة أو تطلقها ، وإلا طلقها الحاكم ، بل لو كان حاضرا وعدمت النفقة قال خليل : ولها الفسخ إن عجز عن نفقة حاضرة لا ماضية ، ثم بعد الطلاق تعتد عدة طلاق بثلاثة أقراء للحرة وقرأين للأمة فيمن تحيض ، وإلا فثلاثة أشهر للحرة والزوجة الأمة لاستوائهما في الأشهر .
الغرر البهية في شرح البهجة الوردية (4/ 162)
فَالْعُيُوبُ سَبْعَةٌ ثَلَاثَةٌ عَامَّةٌ: فِيهِمَا الْجُنُونُ وَالْجُذَامُ وَالْبَرَصُ وَأَرْبَعَةٌ خَاصَّةٌ: اثْنَانِ بِهِ الْجَبُّ وَالْعُنَّةُ، وَاثْنَانِ بِهَا الرَّتْقُ وَالْقَرْنُ،......................(وَإِنْ طَرَا) بِالْإِسْكَانِ لِلْوَزْنِ أَيْ: كُلٌّ مِنْ الْمَذْكُورَاتِ بَعْدَ الْعَقْدِ، فَإِنَّهُ يَثْبُتُ الْخِيَارُ كَمَا فِي الْإِجَارَةِ، سَوَاءٌ طَرَأَ قَبْلَ الدُّخُولِ أَمْ بَعْدَهُ إلَّا الْعُنَّةَ بَعْدَهُ كَمَا مَرَّ. (لَا مَا اقْتَرَنْ بِالْعَقْدِ عِلْمُهُ) أَيْ: خُيِّرَ بِمَا ذَكَرَ مِنْ الْعُيُوبِ لَا بِعَيْبٍ اقْتَرَنَ الْعِلْمُ بِهِ بِالْعَقْدِ كَمَا فِي الْمُشْتَرِي، وَإِنْ زَادَ الْعَيْبُ؛ لِأَنَّ رِضَاهُ بِهِ رِضًى بِمَا يَتَوَلَّدُ مِنْهُ، لَكِنْ قَيَّدَهُ الْمُتَوَلِّي وَالْعِمْرَانِيُّ بِالْمُنْتَشِرِ فِي مَحَلِّهِ بِخِلَافِ الْحَادِثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ كَمَا لَوْ حَدَثَ عَيْبٌ آخَرُ.
الجمع بين الصحيحين البخاري ومسلم - (ج 2 / ص 160)
عن نافع عن ابن عمر أن رجلاً رمى امرأته فانتفى من ولدها في زمان رسول الله {صلى الله عليه وسلم} فأمرهما رسول الله {صلى الله عليه وسلم} فتلاعنا كما قال الله ثم قضى بالولد للمرأة وفرق بين المتلاعنين.
"الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"البخاري، الصحیح، كتاب الفرائض، باب الولد للفراش حرة كانت أو أمة، ج/6، ص/2481، الرقم/6368-
الدر المختار (3/ 552)
(غاب عن امرأته فتزوجت بآخر وولدت أولادا) ثم جاء الزوج الأول (فالأولاد للثاني على المذهب) الذي رجع إليه الإمام وعليه الفتوى كما في الخانية والجوهرة والكافي وغيرها.
وفي حاشية شرح المنار لابن الحنبلي. وعليه الفتوى إن احتمله الحال، لكن في آخر دعوى الجمع حكى أربعة أقوال ثم أفتى بما اعتمده المصنف، وعلله ابن مالك بأنه المستفرش حقيقة، فالولد للفراش الحقيقي وإن كان فاسدا وتمامه فيه فراجعه.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 552)
(قوله: غاب عن امرأته إلخ) شامل لما إذا بلغها موته أو طلاقه فاعتدت وتزوجت ثم بان خلافه، ولما إذا ادعت ذلك ثم بان خلافه اهـ ح. (قوله: وفي حاشية شرح المنار إلخ) قال الشارح في شرحه على المنار: لكن الصحيح ما أورده الجرجاني أن الأولاد من الثاني إن احتمله الحال، وأن الإمام رجع إلى هذا القول، وعليه الفتوى كما في حاشية ابن الحنبلي عن [الواقعات والأسرار] ونقله ابن نجيم عن الظهيرية اهـ واحتمال الحال بأن تلده لستة أشهر فأكثر من وقت النكاح. (قوله: حكى أربعة أقوال) حاصل عبارته مع شرحه لابن مالك أن الأولاد للأول عند أبي حنيفة مطلقا: أي سواء أتت به لأقل من ستة أشهر، أو لا، لأن نكاح الأولى صحيح فاعتباره أولى. وفي رواية للثاني وعليه الفتوى لأن الولد للفراش الحقيقي وإن كان فاسدا. وعند أبي يوسف للأول إن أتت به لأقل من ستة أشهر من عقد الثاني لتيقن العلوق من الأول، وإن لأكثر فللثاني. وعند محمد للأول إن كان بين وطء الثاني والولادة أقل من سنتين، فلو أكثر منهما فللثاني لتيقن أنه ليس من الأول، والنكاح الصحيح مع احتمال العلوق منه أولى بالاعتبار، وإنما وضع المسألة في الولد إذ المرأة ترد إلى الأول إجماعا. اهـ.
قلت: وظاهره أنه على المفتى به يكون الولد للثاني مطلقا وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر من وقت العقد كما يدل عليه ذكر الإطلاق قبله، والاقتصار على التفصيل بعده، وهذا خلاف ما قاله ابن الحنبلي، وهذا وجه الاستدراك لكن لا يخفى ما فيه، فقد ذكرنا قريبا أن المنكوحة لو ولدت لدون ستة أشهر لم يثبت نسبه من زوج ويفسد النكاح أي لأنه لا بد من تصور العلوق منه وفيما دون ستة أشهر لا يتصور ذلك، وهذا إذا لم يعلم بأن لها زوجا غيره فكيف إذا ظهر زوج غيره فلا شك في عدم ثبوته من الثاني، ولهذا قال في شرح درر البحار: إن هذا مشكل فيما إذا أتت به لأقل من ستة أشهر مذ تزوجها. اهـ.
والحق أن الإطلاق غير مراد وأن الصواب ما نقله ابن الحنبلي، وبه يظهر أن هذه الرواية عن الإمام المفتى بها هي التي أخذ بها أبو يوسف، وأنه لا بد من تقييد كلام المصنف والمجمع بما نقله ابن الحنبلي، وأنه لا وجه للاستدراك. عليه بما في المجمع، والله أعلم.
المبسوط للسرخسي (7/ 52)
(قال) : ولو كان الزوج غائبا حين ولدته فحضر بعد مدة يجعل من حقه في حكم النفي كأنها ولدته الآن إلا أنه روي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - قال: إن حضر قبل الفصال فله أن ينفيه إلى أربعين ليلة ولو حضر بعد الفصال فليس له أن ينفيه؛ لأنه يقضى بنفقته عليه في ماله الذي خلفه، ولو كان له أن ينفيه بعد الفصال لكان له أن ينفيه بعد ما صار شيخا، وهذا قبيح.
هذا كله إن لم يقبل التهنئة فأما إذا هنئ فسكت فليس له أن ينفيه بعد ذلك؛ لأن سكوته عند التهنئة بمنزلة قبوله التهنئة، وذلك بمنزلة الإقرار بنسبه إلا أنه روي عن محمد - رحمه الله تعالى - أنه إذا هنئ بولد الأمة فسكت لم يكن قبولا بخلاف ولد المنكوحة؛ لأن ولد الأمة غير ثابت النسب منه فالحاجة إلى الدعوة، والسكوت ليس بدعوة فأما نسب ولد المنكوحة ثابت منه فسكوته يكون مسقطا حقه في النفي.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 272)
وإذا نفى الرجل ولد امرأته عقيب الولادة أو في الحالة التي تقبل التهنئة وتبتاع آلة الولادة صح نفيه ولاعن به وإن نفاه بعد ذلك لاعن ويثبت النسب هذا عند أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله يصح نفيه في مدة النفاس " لأن النفي يصح في مدة قصيرة ولا يصح في مدة طويلة ففصلنا بينهما بمدة النفاس لأنه أثر الولادة وله أنه لا معنى للتقدير لأن الزمان للتأمل وأحوال الناس فيه مختلفة فاعتبرنا ما يدل عليه وهو قبوله التهنئة أو سكوته عند التهنئة أو ابتياعه متاع الولادة أو مضي ذلك الوقت فهو ممتنع عن النفي ولو كان غائبا ولم يعلم بالولادة ثم قدم تعتبر المدة التي ذكرناها على الأصلين.
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 72)
(قوله وإذا نفى الرجل ولد امرأته عقيب الولادة في الحال التي يقبل فيها التهنئة ويبتاع له آلة الولادة صح نفيه ولاعن به وإن نفاه بعد ذلك لاعن وثبت النسب) اعلم أن المولود في فراش الزوجة لا ينتفي إلا باللعان والفراش ثلاثة قوي ووسط وضعيف فالقوي فراش المنكوحة يثبت النسب فيه من غير دعوة ولا ينتفي إلا باللعان والضعيف فراش الأمة لا يثبت النسب فيه إلا بالدعوة والوسط فراش أم الولد يثبت فيه النسب من غير دعوة وينتفي من غير لعان وإذا نفى ولد الزوجة بأن قال ليس هو مني أو هو من الزنا وسقط اللعان بوجه من الوجوه فإنه لا ينتفي نسبه أبدا وكذا إذا كانا من أهل اللعان ولم يتلاعنا فإنه لا ينتفي نسبه فإذا ثبت هذا قلنا إذا نفاه عقيب الولادة صح نفيه ولاعن به عند أبي حنيفة يعني ما لم يظهر منه اعتراف أو دلالة على الاعتراف ولم يؤقت أبو حنيفة في مدة النفي وقتا وإنما هو مفوض إلى رأي الإمام وذكر أبو الليث أن له نفيه إلى ثلاثة أيام وروى الحسن إلى سبعة أيام وهو ما بين الولادة إلى العقيقة، وهذا غير صحيح؛ لأنه تقدير لا دليل عليه (قوله.وقال أبو يوسف ومحمد له أن ينفيه في مدة النفاس) ، وهذا إذا كان الزوج حاضرا أما إذا ولدت وهو غائب ولم يعلم حتى قدم فله النفي عند أبي حنيفة في مقدار ما تقبل فيه التهنئة بعد قدومه وعندهما في مقدار مدة النفاس بعد قدومه أيضا وقد قالوا في ولد الزوجة إذا هني به فسكت كان اعترافا وإن هني بولد الأمة فسكت لم يكن اعترافا؛ لأن نسب ولد الزوجة يثبت بالفراش وإنما يترقب النفي من الزوج فإذا سكت عند التهنئة صار بذلك معترفا وأما ولد الأمة فلا يثبت بالفراش؛ لأنه لا فراش لها وإنما يثبت بالدعوى فالسكوت لا يقوم مقام الدعوى وولد أم الولد كولد الزوجة؛ لأن لها فراشا.
وفی التارتارخانیة(5/217):
ولونفی ولد حرة فصدقتہ فلاحد علی الزوج ولالعان .
وفی الدر المختار مع الشامیة:
(قولہ بشبھۃ) متعلق بقولہ وطئت وذلک کالمو طوئۃ للزوج فی العدۃ بعد الثلاث بنکاح وکذ بدونہ اذا قال ظننت انھا تحل لی او بعد ما ابا نھا بالفاظ الکنایۃ وتما مہ فی الفتح ومفادہ انہ لووطئھا بعد الثلاث فی العدۃ بلا نکاح عالماً بحرمتھا لا تجب عدۃاخری لا نہ زنا وفی البزازیۃ طلقھا ثلاثا ووطئھا فی العدۃ فی العلم بالحرمۃ لا تستانف العدۃ بثلاث حیض ویرجمان اذا علما بالحرمۃ وو جد شرائط الاحصان ولو کان منکرا طلاقھا لا تنقضی العدۃ ولو ادعی الشبھۃ تستقبل… الخ(الدرالمختار والشامی ص ۸۳۷، ص ۸۳۸ ج۲ باب العدۃ) (فتح القدیر مع العنایۃ ج۴ ص ۳۱۱ باب العدۃ)
وفی رد المحتار:
إن وطئ المطلقۃ بالثلاث أو علی مال لم تتمحض للفعل بل هی شبہۃ عقد أیضا فلا تناقض أی لأن ثبوت النسب لوجود شبہۃ العقد۔ (الشامیة زکریا ۵/۲۳۲، کراچی ۳/۵۴۱)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 132)
أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ.
والحاصل أنه لا فرق بينهما في غير العدة، أما فيها فالفرق ثابت. وعلى هذا فيقيد قول البحر هنا.
الدر المختار (3/ 517)
(والموطوءة بشبهة) ومنه تزوج امرأة الغير غير عالم بحالها كما سيجيء،
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 517)
(قوله: ومنه) أي من قسم الوطء بشبهة. قال في النهر: وأدخل في شرح السمرقندي منكوحة الغير تحت الموطوءة بشبهة. حيث قال: أي بشبهة الملك، أو العقد، بأن زفت إليه غير امرأته فوطئها، أو تزوج منكوحة الغير ولم يعلم بحالها....... منكوحة الغير فهي غير محل إذ لا يمكن اجتماع ملكين في آن واحد على شيء واحد، فالعقد لم يؤثر ملكا فاسدا وإنما أثر في وجود الشبهة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲۹/١۲/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


