| 87552 | نماز کا بیان | اوقاتِ نمازکا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری ایک ایپلیکیشن ہے جس کا نام "اذان" ہے۔اس ایپلیکیشن کے ڈاؤن لوڈرز اور روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے، بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں اس کے صارفین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ان علاقوں میں چونکہ مساجد قریب قریب نہیں ہوتیں، اس لیے وہاں کے لوگ اذان کے اوقات معلوم کرنے اور اسلام سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے کے لیے یہ ایپلیکیشن استعمال کرتے ہیں۔ہمیں نمازوں کے اوقات بالخصوص ظہر اور مغرب کے اوقات کے متعلق کچھ معلومات درکار ہیں۔
ہم جو فارمولوں کے مطابق اوقاتِ نماز کا حساب لگاتے ہیں، ان کے مطابق ظہر کا وقت وہی آتا ہے جب سورج ہمارے سر کے بالکل اوپر ہوتا ہے، یعنی عین وقتِ زوال۔
لیکن جب ہم مختلف "اوقاتِ نماز" کے کیلنڈرز کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں ظہر کا وقت مختلف لکھا ہوتا ہے—کہیں زوال کے دو منٹ آٹھ سیکنڈ بعد، تو کہیں زوال کے پانچ منٹ بعد۔
ہمیں اس بارے میں وضاحت یا تصدیق درکار ہے کہ ظہر کی نماز کا صحیح وقت کیا ہے، اور زوال کے کتنے منٹ بعد ہمیں ظہر کا وقت ڈیکلئیر کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عین نصف النہار (استواءِ شمس) کے وقت کوئی بھی نماز پڑھنا جائز نہیں ، حقیقت کے اعتبارسےیہ وقت چند لمحوں پر مشتمل ہوتا ہے،کیونکہ سورج دیکھنے میں تقریباً32 دقیقہ کاہے۔جو دائرہ نصف النہارسے گزرنے میں تقریباً 2.1 منٹ (یعنی تقریباً 2 منٹ اور 8 سیکنڈ)لیتاہے،اس دوران کسی قسم کی نمازپڑھنامکروہ تحریمی ہوتاہے۔اس کے بعد زوالِ شمس ہوجاہے، جو کہ ظہر کا ابتدائی وقت ہےجس میں کوئی بھی نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔
یہ مکروہ وقت اگرچہ نہایت مختصر ہوتا ہے اس لئے اس میں کچھ اضافی وقت احتیاطاً شامل کر لیا جاتا ہے تاکہ مکروہ وقت یقینی طور پر نکل جائے اور ظہر کا وقت داخل ہو جائے، یہ احتیاطی وقت مختلف محققین اپنے اپنے ذوق کے مطابق شامل کرتے ہیں ، کوئی دو، کوئی تین، کوئی چار، اور کوئی پانچ منٹ تک اس میں شامل کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف نقشوں، جنتریوں اور پروگراموں میں یہ اوقات مختلف نظر آتے ہیں۔
حسابات لگاتے وقت جووقت نصف النہار کالکھاجاتاہےوہ،وہ وقت ہوتاہے جس وقت سورج کا مرکز عین دائرۂ نصف النہار پر ہوتا ہے، حالانکہ اس سے تقریباً ایک منٹ چار سیکنڈ پہلے اور بعد تک سورج دائرۂ نصف النہار سے متعلق رہتا ہے۔ اس لیے ہمارے ہاں سےجاری ہونے والے نقشوںمیں عین نصف النہار کے وقت سے احتیاطاً پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد کے وقت کو مکروہ وقت لکھا جاتا ہے۔
آپ کے پروگرام کے لیے تجویز یہ ہے کہ عین نصف النہار کا وقت علیحدہ دیا جائے۔ اس پر "وقتِ استواء" یا "وقتِ نصف النہار" کا عنوان ہو، اور اس کے پانچ منٹ بعد "وقتِ ظہر"کے عنوان سے علیحدہ وقت دیا جائے۔ یاصرف وقتِ استواء دیکر کسی مناسب جگہ یہ لکھ دیا جائے کہ احتیاطاً اس وقت کے پانچ منٹ بعد ظہر کی اذان دی جائے۔یہ طریقہ، احتیاط کے لحاظ سے، ان شاء اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
و في رد المحتار(3/38):
و في شرح النقاية للبرجندي قد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس و لا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقب انصاف النهار بلا فصل وفي هذه القدر من الزمان لا يمكن أدا الصلاة فيه فلعل المراد أنه لا يجوز الصلاة بحيث يقع جزء فيها في هذا الزمان.
و في سنن ابن ماجه(حدیث رقم: 667):
عن سليمان بن بريدة ، عن ابيه ، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن وقت الصلاة؟ فقال:" صل معنا هذين اليومين، فلما زالت الشمس امر بلالا فاذن، ثم امره فاقام الظهر، ثم امره فاقام العصر والشمس مرتفعة بيضاء نقية، ثم امره فاقام المغرب حين غابت الشمس، ثم امره فاقام العشاء حين غاب الشفق، ثم امره فاقام الفجر حين طلع الفجر، فلما كان من اليوم الثاني امره فاذن الظهر فابرد بها وانعم ان يبرد بها، ثم صلى العصر والشمس مرتفعة اخرها فوق الذي كان، فصلى المغرب قبل ان يغيب الشفق، وصلى العشاء بعد ما ذهب ثلث الليل، وصلى الفجر فاسفر بها"، ثم قال: اين السائل عن وقت الصلاة؟ فقال الرجل: انا يا رسول الله، قال:"وقت صلاتكم بين ما رايتم".
مسند أحمد مخرجا (11/ 553):
عن عبد الله بن عمرو، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله، ما لم يحضر العصر، ووقت العصر ما لم تصفر الشمس، ووقت صلاة المغرب ما لم يغرب الشفق، ووقت صلاة العشاء إلى نصف الليل الأوسط، ووقت صلاة الصبح من طلوع الفجر، ما لم تطلع الشمس، فإذا طلعت الشمس فأمسك عن الصلاة، فإنها تطلع بين قرني شيطان»
المستدرك على الصحيحين للحاكم (1/ 310):
حدثني وهب بن كيسان، ثنا جابر بن عبد الله الأنصاري، قال: " جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم حين زالت الشمس، فقال: قم يا محمد فصل الظهر، فقام فصلى الظهر حين زالت الشمس، ثم مكث حتى كان فيء الرجل للعصر مثله، فجاء فقال: قم يا محمد فصل العصر، فقام فصلى العصرالخ..... هذا حديث صحيح مشهور من حديث عبد الله بن المبارك، والشيخان لم يخرجاه.
مستخرج أبي عوانة (1/ 292):
عن عبد الله بن عمرو قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن وقت الصلوات فقال: «وقت صلاة الظهر إذا زالت الشمس عن بطن السماء مالم يحضر العصر»
و في الفتاوى الهندية (1/ 51):
"ووقت الظهر من الزوال إلى بلوغ الظل مثليه سوى الفيء، كذا في الكافي. وهو الصحيح، هكذا في محيط السرخسي. والزوال ظهور زيادة الظل لكل شخص في جانب المشرق، كذا في الكافي. وطريق معرفة زوال الشمس وفيء الزوال أن تغرز خشبة مستوية في أرض مستوية فما دام الظل في الانتقاص فالشمس في حد الارتفاع، وإذا أخذ الظل في الازدياد علم أن الشمس قد زالت، فاجعل على رأس الظل علامةً، فمن موضع العلامة إلى الخشبة يكون فيء الزوال، فإذا ازداد على ذلك وصارت الزيادة مثلي ظل أصل العود سوى فيء الزوال يخرج وقت الظهر عند أبي حنيفة - رحمه الله -، كذا في فتاوى قاضي خان. وهذا الطريق هو الصحيح، هكذا في الظهيرية. قالوا: الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله، و يصلي العصر حين يصير مثليه؛ ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين".
المبسوط للسرخسي (1/ 142)
وأصح ما قيل في معرفة الزوال قول محمد بن شجاع - رضي الله عنه - أنه يغرز خشبة في مكان مستو ويجعل على مبلغ الظل منه علامة فما دام الظل ينقص من الخط فهو قبل الزوال وإذا وقف لا يزداد ولا ينتقص فهو ساعة الزوال وإذا أخذ الظل في الزيادة فقد علم أن الشمس قد زالت.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 359)
(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه).
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/11/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


