03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیروضوء کے تلاوت اورذکرکرکے ایصالِ ثواب کرنے کاحکم
87354پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہم کبھی بغیر وضو کے قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں، کبھی قرآن کی کوئی سورت پڑھ کر اپنے مرحومین کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں، حالانکہ اس وقت وضو نہیں ہوتا۔اسی طرح کبھی ذکر بھی بغیر وضو کے کرتے ہیں، پھر کسی مردے یا زندہ کو ثواب بخش دیتے ہیں، مثلاً:"اے اللہ! جو ذکر میں نے کیا ہے، فلاں مردے کو اس کا ثواب عطا فرما۔"تو کیا ایسا کرنا، یعنی بغیر وضو کے ایصالِ ثواب کرنا، درست ہے؟ کیا بغیر وضو کے ذکر یا تلاوت کا ثواب منتقل ہو جاتا ہے؟مثلاً: 411 مرتبہ "یا اللہ"، "سبحان اللہ"، "یا حی یا قیوم" وغیرہ پڑھنا — کیا ان اذکار کا ثواب بغیر وضو کے بھی مردوں کو پہنچایا جا سکتا ہے؟

نیز، ہم سنتے ہیں کہ "قل ہو اللہ احد" تین مرتبہ پڑھنے سے پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے، جبکہ میں نے تفسیرِ ابن عباس میں دیکھا ہے کہ 114 مرتبہ پڑھنے سے ختمِ قرآن کا ثواب ملتا ہے۔تو اس بارے میں وضاحت فرمائیں کہ کون سی بات صحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن پاک کو چھوئےبغیر بے وضو (زبانی یادیکھ کر)پڑھنااورایصال ثواب کرناجائزہے اور وضو کے ساتھ ہو نورٌ علیٰ نور ہے۔اسی طرح بے وضوء ذکرکرکے اس کا ایصالِ ثواب میت کو کرنابھی جائزہے،اس طرح سے ثواب میت کو پہنچتاہے۔

سورۂ اخلا ص کی فضیلت سے متعلق چند احادیث درج ذیل ہیں :

سنن  ترمذی میں ہے کہ  : ایک شخص نے  رسول اللہ ﷺ سےعرض کیاکہ میں سورۂ اخلا ص سے محبت کرتاہوں تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ اس کی محبت  تجھے جنت  لے جائے گی۔

نیز ایک شخص نے کسی کواس سورت کوپڑھتے ہوئے رات کے وقت سناکہ وہ بارباراسی کودہرارہاہے ۔صبح کے وقت آکراس نے حضور ﷺ سے ذکرکیا، گویاکہ وہ اسے ہلکے ثواب کاکام جانتاتھا،تونبی ﷺ نے فرمایا:اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔

مسند احمد کی  روایت میں ہے کہ حضرت ابو  ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا   تم میں سے کسی کو اس کی طاقت ہے کہ وہ ہر رات تیسرا حصہ قرآن کا پڑھ لیا کرے؟  صحابہ کہنے لگے یہ کس سے ہو سکے گا ؟ آپ نے فرمایا:  سنو ، قل ھو اللّٰه أحد ...الخ، تہائی قرآن کے برابر ہے، اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی  تشریف لے آئے، آپ  ﷺ نے سن  کر فرمایا: ابو ایوب سچ کہتے ہیں۔  (مسند احمد)

سن ترمذی میں ہے کہ :  رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا:  جمع ہوجاؤ!  میں تمہیں آج  ایک  تہائی قرآن سناؤں گا،  لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے  آپ گھر سے  تشریف لائے اور سورۂ قل ھو اللّٰه أحدالخ، تلاوت فرمائی اور پھر گھر تشریف لے گئے،  اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو  حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے ، شاید آسمان سے کوئی وحی آگئی ہو۔ اتنے میں آپ ﷺ  پھر واپس تشریف لائے اور فرمایا:  میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔

حضرت ابو الدرداء (رض) کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن تہائی قرآن شریف پڑھ لیا کرو؟  لوگوں نے کہا:  حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس سے بہت  عاجز  اور  بہت ضعیف ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : سنو ! اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تین حصے  کیے ہیں، قل ھو اللّٰه أحد الخ، تیسرا حصہ ہے۔ (مسلم، نسائی )

مسند احمدکی ایک روایت میں  ہے کہ : رسول اللہ  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں:  جو شخص اس پوری سورت کو دس مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا:  یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے،  آپ ﷺ نے فرمایا:  اللہ اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھے (محلات) دینے والا ہے۔ 

نیز مسنداحمدمیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:   جوشخص اس سورت کودس مرتبہ پڑھ لے گاتواللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیرکرے گا۔

ابویعلیٰ کی ایک حدیث میں ہے کہ:  جوشخص اس سورت کوپچاس مرتبہ پڑھ لے تواس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی  روایت میں سورۂ اخلاص کو آدھے یا ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا گیا ہے۔

باقی تفسیرابن عباس کے حوالے سےجوآپ نے لکھا کہ" 114 مرتبہ پڑھنے سے ختمِ قرآن کا ثواب ملتا ہے"یہ بات ہمیں تفسیرابن عباس اوردیگرتفاسیرمیں اورکتبِ حدیث میں نہیں ملی۔

حوالہ جات

تفسير ابن كثير ط العلمية (8 / 490):

" وَرَوَى مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ: «إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ» وَهَذَا الَّذِي عَلَّقَهُ التِّرْمِذِيُّ قَدْ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ «2» فِي مُسْنَدِهِ مُتَّصِلًا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ» .

[حَدِيثٌ فِي كَوْنِهَا تَعْدِلُ ثُلْثَ القرآن] قال البخاري : حدثنا إسماعيل، حدثنا مالك عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالَّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لِتَعْدِلُ ثُلْثَ الْقُرْآنِ» زَادَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَخِي قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ «4» أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ وَالْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ «5» عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَالنَّسَائِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ كُلُّهُمْ عَنْ مَالِكٍ بِهِ، وَحَدِيثُ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ أَسْنَدَهُ النَّسَائِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عن مالك به. 

[حَدِيثٌ آخَرُ] قَالَ الْبُخَارِيُّ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ والضحاك المشرقي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:

«أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلْثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ» فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا: أَيُّنَا يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلْثُ الْقُرْآنِ» تَفَرَّدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ وَالضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيِّ الْمَشْرِقِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي سعيد، قال الفربري: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَرَّاقَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مُرْسَلٌ وَعَنِ الضَّحَّاكِ مُسْنَدٌ.

[حَدِيثٌ آخَرُ] قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كله بقل هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إنها لَتَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ- أَوْ ثُلْثَهُ-» .

[حَدِيثٌ آخَرُ] قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ : حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ فِي مَجْلِسٍ وَهُوَ يَقُولُ: أَلَّا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقُومَ بِثُلْثِ الْقُرْآنِ كُلَّ لَيْلَةٍ» ؟ فَقَالُوا: وَهَلْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟

قَالَ: فَإِنَّ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلْثُ الْقُرْآنِ. قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْمَعُ أَبَا أَيُّوبَ فَقَالَ: «صَدَقَ أَبُو أَيُّوبَ» .

[حَدِيثٌ آخَرُ] قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّْ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلْثَ الْقُرْآنِ» فَحُشِدَ مَنْ حُشِدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلْثَ الْقُرْآنِ» إِنِّي لَأَرَى هَذَا خَبَرًا جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنِّي قُلْتُ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلْثَ الْقُرْآنِ أَلَا وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلْثَ الْقُرْآنِ» وَهَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ «5» فِي صَحِيحِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ بِهِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَاسْمُ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانُ.۔۔۔۔۔۔۔۔

[حَدِيثٌ آخر] قال الإمام أَحْمَدُ «2» أَيْضًا: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ حَتَّى يَخْتِمَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ» فَقَالَ عُمَرُ: إِذًا نَسْتَكْثِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ» تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ.

وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الدَّارِمِيُّ فِي مُسْنَدِهِ فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عُقَيْلٍ زَهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ الدَّارِمَيُّ: وَكَانَ مِنَ الْأَبْدَالِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَهَا.

عِشْرِينَ مَرَّةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرَيْنِ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً بَنَى اللَّهُ لَهُ ثَلَاثَةَ قُصُورٍ فِي الْجَنَّةِ» فَقَالَ عمر بن الخطاب: إذا نكثر قُصُورُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَوْسَعُ مِنْ ذَلِكَ» «3» وَهَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.

[حَدِيثٌ آخَرُ] قَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الموصلي: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ الْعَطَّارُ، أَخْبَرَتْنِي أُمُّ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيَّةُ عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

«مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ خَمْسِينَ مَرَّةً غفر الله لَهُ ذُنُوبُ خَمْسِينَ سَنَةً» إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

02/11/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب