| 86847 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری چھوٹی بہن، جس کی عمر 25 سال تھی، اس کی 2 سال پہلے شادی ہوئی تھی اور اس کا ایک 6 ماہ کا بیٹابھی ہے۔ اس مہینے کی 2 تاریخ بروز اتوار کو ہارٹ اٹیک سے میری اُس بہن کا انتقال ہو گیا ہے، والدہ نے اور میرے دو بھائیوں نے جہیز میں ہر قسم کا سامان اس بہن کودیا تھا، جو کہ آدھے سے زیادہ پیک ہے اور نکلا بھی نہیں۔
اب اُس کے سسرال والے اس سامان کو اٹھانے کا کہہ رہے ہیں، اور میری والدہ شریعت کے مطابق سامان کی لین دین کا کہہ رہی ہیں۔ برائے کرم اس بارے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
میرے والد کا انتقال 4 سال پہلے ہو چکا ہے۔ بہن کا زیور بھی ہے، جو والدہ نے دیا تھا اور جو اس کے سسرال والوں نے چڑھایا ہے۔
سائل نے فون پر بتایا کہ بہن کو جہیز میں جو سامان اور زیور دیاگیا تھا، وہ مالک بنا کر دیاگیا تھا، اور سسرال والوں نے جو دیا تھا، وہ مہر کے طور پر دیاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ زیورات، سامان سمیت جو بھی منقولہ و غیر منقولہ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کا وہ قرض ادا کیا جائے گا جو مرحومہ کے ذمے واجب الادا ہو۔ اس کے بعد، اگر مرحومہ نے غیرِ وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اسے ورثہ میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ مرحومہ کے خاوند کو% 25، والدہ کو% 16.666، اور بیٹے کو%58.333 حصہ دیا جائے گا، جبکہ باقی بھائی اور بہنیں مرحومہ کے ترکہ سے محروم ہوں گے۔
واضح رہے کہ مرحومہ کے کفن و دفن کے اخراجات شوہر کے زندہ ہونے کی وجہ سے اس پر ہوں گے، لہٰذا انہیں ترکہ سے منہا نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ جات
الدر المختار - (3 / 155)
( جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعده إن سلمها ذلك في صحته ) بل تختص
به ( وبه يفتى )
الفتاوى الهندية - (1 / 327)
لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى.
حاشية ابن عابدين - (3 / 585)
فإن كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذ طلقها تأخذه كله وإذا ماتت يورث عنها.
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 20 / ص 252)
والعصبةأربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الاقرب.
وفی الدرمع الرد:
"واختلف في الزوج، والفتویٰ عی وجوب کفنہا علیه عند الثاني، وإن ترکت مالاً (الدر ) … أنه یلزمه کفنہا وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰش.(رد المحتار،كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 206، ط: سعيد)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
12/8/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


