03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میاں بیوی کے درمیان عددِ طلاق میں اختلاف کا حکم
84975طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

گیارہ سال پہلے میری اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اُس وقت میں نے دو دفعہ طلاق کا لفظ استعمال کیا تھا، جس کی تفصیل آپ کے گوش گزار کر رہا ہوں۔

جھگڑے کے دوران میری بیوی گھر چھوڑ کر نیچے پڑوس کے گھر چلی گئی تھی۔ جب میں نیچے گیا تو باہر کا دروازہ بند تھا، میں نے دروازہ کھولنے کو کہا اور تنبیہ (دھمکی) کے طور پر کہا کہ میں اسے طلاق دوں گا۔ اُس وقت پڑوسن کی بیٹی دروازے پر موجود تھی، اُس نے دروازہ کھولا، پھر میں نے اندر جا کر اسے ایک طلاق دی اور گھر سے چلا گیا۔

اگلے دن مجھے پتہ چلا کہ لوگوں نے مختلف باتیں بنائی ہیں کہ میں نے طلاق کا لفظ کئی بار استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے میں نے اپنی صفائی اور سچائی کے طور پر فتویٰ میں دو بار طلاق کا لفظ تحریر کیا۔ میرا ارادہ صرف تنبیہ کے طور پر ایک طلاق دینا تھا، اور میں نے ویسے ہی کیا۔ جناب عالیٰ، اس مسئلے کا فیصلہ ہونے میں دو سال لگ گئے۔ جامعہ بنوریہ میں فیصلہ ہوا تھا۔ فیصلہ ہونے کے بعد میں نے مفتی صاحب سے عرض کیا کہ کیا یہ میری بیوی ہے؟ کیا میں اسے اپنے گھر لے جا سکتا ہوں؟ میرے ساتھ موجود میرے سسر، جناب اقبال حسین سومرو، نے کہا کہ پہلے ہمارے گھر چلو، پھر وہاں سے گھر لے جانا۔ اس کے فوراً بعد مفتی صاحب نے دوسرے کیس کی کارروائی شروع کر دی، اور مجھے اپنی تحریری غلطی ٹھیک کروانے کا موقع نہیں ملا، جو میں ٹھیک کروانا چاہتا تھا۔

ابھی دو ماہ پہلے پھر سے ہماری لڑائی ہوئی اور میں نے دکھانے کے طور پر وائس میسج میں کہا: "میرا اب تم سے کوئی تعلق نہیں، جا ،میں تمہیں آزاد کرتا ہوں"۔ مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ بیوی اور اُس کے بھائی کہتے ہیں کہ تیسری طلاق واقع ہو گئی ہے اور میری بیوی عدت میں بیٹھ گئی ہے۔

جناب عالیٰ، میری آپ سے گزارش ہے کہ ہمارا گھر ختم ہونے سے بچایا جائے اور میری تحریری غلطی پر غور کیا جائے۔ میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میرا مقصد صرف دھمکانا تھا، میرا مقصد اسے جدا کرنا نہیں تھا، لیکن میری بیوی سمجھتی ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔

میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ گیارہ سال پہلے میں نے بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور دوسری بار اس وائس میسج پر جو کہا تھا، اس سے تو میری بیوی کو دو طلاق واقع ہوتی ہیں۔میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر تمام الفاظ آپ صاحبان کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گیارہ سال پہلے کی طلاقوں کے بارے میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہے کہ وہ ایک تھی یا دو۔ اگر دو تھیں، جیسے کہ بیوی کا دعویٰ ہے، تو اب بوقتِ غصہ لفظ "آزاد" کہنے سے تیسری ہو گئی۔ اس لیے کہ لفظ "آزاد" سے بولنے والے کی نیت طلاق کی ہو یا صورتحال اس بات پر دلالت کرے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور سوال میں مذکور صورتِ حال غصے کی ہے، لہٰذا اس سے طلاق ہو گئی اور مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ اس صورت میں میاں بیوی میں حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح اور رجوع نہیں ہو سکتا۔

اور اگر گیارہ سال پہلے والی طلاق ایک تھی، جیسے کہ شوہر کا دعویٰ ہے، تو اب "آزاد" کے لفظ سے طلاق واقع ہونے پر مجموعی طور پر دو ہو گئی ہیں۔ اس صورت میں دوبارہ دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔

غالب یہی ہے کہ گیارہ سال پہلے شوہر نے دو طلاقیں دی تھیں، جس کے بہت سے قرائن ہیں جیسے کہ سائل کا اس سوال کے شروع میں دو لکھنا، منسلکہ استفتاء میں دو لکھنا، لوگوں کا طلاق کے لفظ کو کئی بار استعمال کرنے کے حوالے سے باتیں کرنا، اور بیوی کا دعویٰ وغیرہ۔ لہٰذا کل تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے، اور اب میاں بیوی حلالہ کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے۔ شوہر کو چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور آخرت کے سخت عذاب سے اپنے آپ کو بچائے۔

تاہم اگر وہ پھر بھی مُصر ہے کہ اس نے پہلے ایک طلاق دی تھی اور اب دو ہو گئی ہیں، جبکہ عورت تین کا مدعی ہے، تو اگرچہ اصولاً عورت پردوعادل گواہ پیش کرنا اور نہ ہونے کی صورت میں مرد پر قسم آتی ہے، مگر جب عورت نے اپنے کانوں سے تین طلاقیں سنی ہیں اور اسے پورا یقین ہے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ایسی صورتِ حال میں ہرگز حلال نہیں ہے کہ وہ بغیر حلالہ کے خاوند کو اپنی ذات پر قدرت دے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، بلکہ بچنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے۔ مال دے کر خاوند سے خلع حاصل کر لے یا شرعی قاضی یا شرعی پنچایت کے ذریعہ کوشش کروائے۔ اگر اس طرح نہ ہو سکے تو عدالت کے ذریعے بھی خلع حاصل کر سکتی ہے، کیونکہ عام حالات میں شرعی وجہ فسخ موجود نہ ہونے کی وجہ سے عدالتی خلع کا اعتبار نہیں ہوتا، لیکن جب وہ ویسے ہی طلاق یافتہ ہے تو ایک ثبوت اور قانونی حمایت کے لیے عدالتی فیصلہ حاصل کر سکتی ہے۔ اگر ان میں سے کسی طریقے سے بیوی کے لیے جان خلاصی ممکن نہ ہو اور خاوند اسے مجبور کر رہا ہو تو اس مجبوری کی صورت میں اس کو خاوند کے ساتھ رہنے کا گناہ نہیں ہوگا، بلکہ پورا گناہ شوہر کو ہوگا۔

باقی جہاں تک شوہر کے الفاظ "اس سے میرا کوئی تعلق نہیں" اور "جا" کا تعلق ہے، تو اگر واقعۃً شوہر کی ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں تھی جیسے وہ کہتا ہے، تو ان سے کوئی طلاق نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار (۳۵۶/۳):

( فإن اختلفا في وجود الشرط ) ۔۔۔ ( فالقول له مع اليمين ) لإنكاره الطلاق۔۔۔ ( إلا إذا برهنت )۔وفی الرد تحتہ: قوله ( إلا إذا برهنت ) وكذا لو برهن غيرها.

وفی الشامیۃ (۳۵۶/۳):

( قوله في وجود الشرط ) أي أصلا أو تحققا كما في شرح المجمع : أي اختلفا في وجود أصل التعليق بالشرط أو في تحقق الشرط بعد التعليق وفي البزازية : ادعى الاستثناء أو الشرط فالقول له ۔۔۔۔۔۔۔۔ قوله ( قالقول له ) أي إذا لم يعلم وجوده إلا منها ففيه القول لها في حق نفسها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 251)

المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.

وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 420)

 ( سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها ) إلا بقتله ( لها قتله ) بدواء خوف القصاص ، ولا تقتل نفسها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 465)

(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي)

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 372)

(و) نصابها (لغيرها) من الحقوق سواء كان (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال الصبي للإرث رجلان أو رجل وامرأتان) لما روي أن عمر وعليا - رضي الله تعالى عنهما - أجازا شهادة النساء مع الرجال في النكاح والفرقة كما في الأموال وتوابعها (ولزم في الكل) في الصور الأربع المذكورة (لفظ أشهد للقبول) حتى لو قال الشاهد أعلم أو أتيقن لا تقبل شهادته لأن النصوص وردت بهذا اللفظ، وجواز الحكم بالشهادة على خلاف القياس فيقتصر على مورد النص(ولزم أيضا العدالة)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 358)

فإن اختلفا في وجود الشرط......لا بد من شهادة رجلين أو رجل وامرأتين جوهرة.

  البحر الرائق (4/ 62) دار المعرفة، بيروت:

 إن قدرت على الهروب منه لم يسعها أن تعتد وتتزوج بآخر لأنها في حكم زوجية الأول قبل القضاء بالفرقة ثم رمز شمس الأئمة الإوزجندي وقال قالوا هذا في القضاء ولها ذلك ديانة وكذلك إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد وحلف أنه لم يفعل وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا۔

تبيين الحقائق (2/ 198) دار الكتب الإسلامي:

لو قال لها أنت طالق ونوى به الطلاق عن وثاق لم يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى لأنه خلاف الظاهر والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 304):

قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.

   القران الکریم : [البقرة: 230]:

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }

 الفتاوى الهندية (1 / 473):

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز۔

ولو قال: لم يبق بيني وبينك شيء، ونوى به الطلاق لايقع. وفي الفتاوى: لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع، كذا في العتابية". (8/329فقط واللہ اعلم

الهندية: (الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، 2/1، ط: دار الفكر)

"لو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى".

وفی العالمگیریة:

لوقال لھا اذھبی ای طریق شئت لا یقع بدون النیۃ وان کان فے حال مذاکرۃ الْطلاق (وقبیلہ) وفی الفتاوی لم یبق بینی وبینک عمل ونوی تقع (عالمگیری مصری باب الکنایات ج ۱ ص ۲۵۳) ظفیر.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

13/ 4/ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب