03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کی تعداد میں میاں بیوی کااختلاف
86813طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

بیوی کا موقف:

میری شادی کو سترہ سال ہو گئے ہیں۔ شادی کے پانچ سال بعد سے ہی میرے شوہر مجھے طلاق کی دھمکیاں دیتے رہے۔

مگر اب، دو سال پہلے، لڑائی کے دوران غصے کی حالت میں انہوں نے صاف الفاظ میں دو مرتبہ کہا: "میں آپ کو طلاق طلاق دیتا ہوں"۔ پھر اس کے بعد مستقل ہر بات پر یہی کہتے رہے کہ "میں نے آپ کو فارغ کر دیا، آپ کو چھوڑ دیا"۔

جب میں نے یہ باتیں اپنے گھر والوں کو بتائیں تو انہوں نے تصدیق کے لیے میرے شوہر سے پوچھا، مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ انہوں نے طلاق نہیں دی۔ اس پر میرے گھر والوں نے مجھے واپس شوہر کے پاس بھیجا، تو شوہر نے کہا کہ وہ مجھے بیوی کی حیثیت سے نہیں رکھیں گے۔ پھر، گھر والوں کے سمجھانے پر، میں دوبارہ شوہر کے ساتھ رہنے لگی۔

بروز ہفتہ، 21 دسمبر 2024، شام کے وقت، لڑائی کے دوران میرے شوہر نے دوبارہ صاف الفاظ میں کہا: "آپ کو طلاق دیتا ہوں"۔ اس کے گواہ میری بیٹی ہیں، جن کی عمر ساڑھے پندرہ سال ہے۔ اس طلاق کا اقرار میرے شوہر نے میرے بڑے بھائی (معین الدین) اور میرے دیور (محمد علی) کے سامنے بھی کیا ہے۔لہٰذا، اس مسئلے میں مفتیانِ کرام سے رہنمائی کی درخواست ہے۔

شوہر کا موقف:

میں، محمد سہیل راجپوت ولد مرحوم محمد تقی، اپنے ہوش و حواس میں ہزاروں بار سمجھانے کے بعد دو مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کر چکا ہوں۔ میرا کئی بار سسرال والوں سے جھگڑا ہوا، اور میرے سالوں نے مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ میں نے اپنا گھر بچانے کے لیے سب کچھ برداشت کیا۔ میں اپنی بیوی کو سمجھاتا ہوں، مگر وہ کہتی ہے: "کیا میں آپ کا کہنا مانوں گی؟" وہ سارا دن موبائل میں لگی رہتی ہے، جس کی وجہ سے میرا گھر خراب ہوا۔ میں نے اس کے گھر والوں کو ہزاروں مرتبہ سمجھایا، مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ "پیار محبت سے رہو۔"

جب ملنے کا وقت آتا تو وہ کہتی: "تیرا کہنا مانوں گی کیا؟ زندگی میں تُو نے میرے لیے کیا کیا؟" ان سترہ سالوں میں آخر کب تک برداشت کروں؟ ایک مہینہ پہلے میرے سالے میرے گھر آئے اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی، پھر بھی میں نے برداشت کیا۔ آخر کب تک؟ پھر میرا بڑا سالا معین آیا اور میری بیوی تینوں بچوں کو لے کر چلی گئی، مگر میں نے پھر بھی صبر کیا۔ آخر کب تک؟

خدا کو حاضر و ناظر جان کر میری کوشش ہے کہ میرا گھر قرآن و حدیث کی روشنی میں کسی بھی طرح بچ جائے۔ یہ عورت کس کے اشاروں پر ایسا کر رہی ہے، مجھے معلوم نہیں۔ میں بول سکتا ہوں، سمجھ سکتا ہوں، مگر پھر بھی اگر وہ اپنا گھر خراب کرنا چاہتی ہے تو میرے پاس اس کا کوئی علاج نہیں۔ اللہ اسے نیک ہدایت، سمجھ، اور عقل دے۔ میری کوشش یہی ہے کہ میرا گھر بچ جائے۔ طلاق مرد دیتا ہے، عورت نہیں دیتی۔ ایک طرف بھائی فون کرتا ہے، اور جب میں منع کرتا ہوں تو وہ کہتی ہے: "کیا تمہارا کہنا مانوں گی؟" وہ فون آنے پر چلی جاتی تھی۔اب اگر وہ خلع لینا چاہتی ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔

حاصل یہ ہے کہ میں، محمد سہیل راجپوت ولد محمد تقی، نے اپنی بیوی کو اپنے ہوش و حواس میں دو مرتبہ طلاق دی، اور میں نے الفاظ کہے: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ میری بیٹی، جس کی عمر تقریباً پندرہ سال چھ ماہ ہے، نے بھی یہ الفاظ سنے تھے۔ لہٰذا، اس مسئلے میں کتنی طلاق واقع ہوں گی؟

(شوہر سے فون پر رابطہ ہوا تو انہوں نے پہلی دو طلاقوں کے بارے میں، جن کا ذکر بیوی نے ان الفاظ میں کیا ہے: "غصے کی حالت میں انہوں نے صاف الفاظ میں دو مرتبہ کہا:"میں آپ کو طلاق طلاق دیتا ہوں" انکار کیا اور کہا کہ یہ الفاظ میں نے نہیں بولے، بس اتنا کہا تھا: "سیدھی ہو جاؤ، ورنہ میں آخری فیصلہ دیدوں گا"۔

اسی طرح دوسری مرتبہ کے وہ الفاظ، جن کا ذکر بیوی نے ان الفاظ میں کیا ہے: "ہر بات پر یہی کہتے رہے کہ میں نے آپ کو فارغ کر دیا، آپ کو چھوڑ دیا" ان  کے کہنےسےبھی شوہرنے صاف طورپرانکار کیا۔

البتہ، آخری دو صریح الفاظ، جن کا ذکر بیوی نے ان الفاظ میں کیا ہے: "بروز ہفتہ، 21 دسمبر 2024، شام کے وقت، لڑائی کے دوران میرے شوہر نے دوبارہ صاف الفاظ میں کہا: "آپ کو طلاق دیتا ہوں"ان کا شوہر نے اقرار کیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری مرتبہ کے الفاظ میں اختلاف ہے—بیوی مدعی ہے اور شوہر منکر ہے—جبکہ آخری دو صریح الفاظ کے بارے میں شوہر اور بیوی کے بیانات متفق ہیں کہ یہ الفاظ کہے گئے ہیں)۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی دونوں کے بیانات کو یکجا کرکے پڑھنے سے شرعی حکم یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسئولہ صورت میں دو طلاقیں تو یقینی ہیں، چاہے وہ پہلے دو الفاظ سے واقع ہوں (اگر بیوی گواہوں سے ثابت کر سکے یا شوہر قسم کھا کر انکار کر دے) یا آخری دو الفاظ سے، جن کا شوہر بھی اقرار کرتا ہے۔ البتہ تیسری طلاق کے بارے میں اختلاف باقی ہے۔

اگر بیوی دوسری مرتبہ کہے گئے الفاظ "میں نے آپ کو فارغ کر دیا، آپ کو چھوڑ دیا" دو عادل گواہوں سے ثابت کر سکے، تو تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی۔ اور اگر ثابت نہ کر سکے اور شوہر قسم کھا لے کہ میں نے یہ الفاظ نہیں بولے، تو قضاءً یہ طلاق واقع نہیں ہوگی، لیکن اگر بیوی نے اپنے کانوں سے یہ الفاظ سنے ہوں، تو دیانۃً اس پر تین طلاق واقع سمجھی جائے گی۔ اس لئے کہ اس معاملے میں عورت قاضی کی طرح ہے، اور جب قاضی کو کسی بات کا ذاتی علم ہو، تو وہ خلافِ واقعہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے بیوی کے لیے بھی طلاق کے الفاظ سننے کی صورت میں تین طلاق کو واقع سمجھنے کا حکم ہوگا۔

لہٰذا، مذکورہ عورت شوہر کو جماع وغیرہ کی اجازت نہیں دے گی اور شوہر سے خلع لینے یا کسی اور جائز طریقے سے علیحدگی اختیار کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ اگر خود نہ کر سکے تو عدالت سے رجوع کرے گی، اور اگر عدالت بھی بیوی کی مدد نہ کر سکے اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے، جس کی بنا پر عورت مجبور ہو جائے شوہر کے ساتھ رہنے پر، تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، بلکہ سارا گناہ شوہر کے ذمہ ہوگا۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار (۳۵۶/۳):

( فإن اختلفا في وجود الشرط ) ۔۔۔ ( فالقول له مع اليمين ) لإنكاره الطلاق۔۔۔ ( إلا إذا برهنت )۔وفی الرد تحتہ: قوله ( إلا إذا برهنت ) وكذا لو برهن غيرها.

وفی الشامیۃ (۳۵۶/۳):

( قوله في وجود الشرط ) أي أصلا أو تحققا كما في شرح المجمع : أي اختلفا في وجود أصل التعليق بالشرط أو في تحقق الشرط بعد التعليق وفي البزازية : ادعى الاستثناء أو الشرط فالقول له ۔۔۔ قوله ( قالقول له ) أي

إذا لم يعلم وجوده إلا منها ففيه القول لها في حق نفسها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 251)

المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.

وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 420)

 ( سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها ) إلا بقتله ( لها قتله ) بدواء خوف القصاص ، ولا تقتل نفسها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 465)

(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي)

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 372)

(و) نصابها (لغيرها) من الحقوق سواء كان (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال الصبي للإرث رجلان أو رجل وامرأتان) لما روي أن عمر وعليا - رضي الله تعالى عنهما - أجازا شهادة النساء مع الرجال في النكاح والفرقة كما في الأموال وتوابعها (ولزم في الكل) في الصور الأربع المذكورة (لفظ أشهد للقبول) حتى لو قال الشاهد أعلم أو أتيقن لا تقبل شهادته لأن النصوص وردت بهذا اللفظ، وجواز الحكم بالشهادة على خلاف القياس فيقتصر على مورد النص(ولزم أيضا العدالة)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 358)

فإن اختلفا في وجود الشرط......لا بد من شهادة رجلين أو رجل وامرأتين جوهرة.

  البحر الرائق (4/ 62) دار المعرفة، بيروت:

 إن قدرت على الهروب منه لم يسعها أن تعتد وتتزوج بآخر لأنها في حكم زوجية الأول قبل القضاء بالفرقة ثم رمز شمس الأئمة الإوزجندي وقال قالوا هذا في القضاء ولها ذلك ديانة وكذلك إن سمعته طلقها ثلاثا ثم

جحد وحلف أنه لم يفعل وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا۔

تبيين الحقائق (2/ 198) دار الكتب الإسلامي:

لو قال لها أنت طالق ونوى به الطلاق عن وثاق لم يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى لأنه خلاف الظاهر والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 304):

قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.

   القران الکریم : [البقرة: 230]:

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }

 الفتاوى الهندية (1 / 473):

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

5/8/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب