03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جہیز کاحکم
86858جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

    میرا سوال ہے کہ شادی میں دہیج (جہیز) اگر لڑکی والے خود سے دیں تو کیا ان کو منع کیا جاسکتا ہے،جبکہ لڑکے والوں کی کوئی مانگ نہ ہو ؟گزارش ہے کہ تفصیل سے جواب بتائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رخصتی کے وقت والدین اپنی خوشی اور رضا مندی سے جو تحائف اور ضروری سامان اپنی بیٹی کو دیتے ہیں، اسے جہیز کہا جاتا ہے۔ اگر درج ذیل امور کا خیال رکھا جائے تو جہیز شرعی طور پر ممنوع نہیں:

1۔   جہیز کا مقصدمحض دکھاوااور نمود ونمائش نہ ہو۔

2۔ والدین پر جہیز دینے کے لیے کسی قسم کا معاشرتی دباؤ نہ ہو۔

3۔ٍ لڑکے والوں کی جانب سے جہیز کا مطالبہ نہ ہو۔

4۔ جہیز لڑکی کی ملکیت ہوگا۔

حوالہ جات

أخرج الامام أحمد رحمہ اللہ في "مسند ہ" (34/ 299 ،ط الرسالة): (الحدیث ،رقم:20695) من حدیث أبي حرة الرقاشي، عن عمه،قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ألا لا تظلموا، إنه ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌إلا ‌بطيب ‌نفس ‌منه.

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: فإن ‌كل ‌أحد ‌يعلم ‌أن ‌الجهاز ‌ملك ‌المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله. (رد المحتار ،ط الحلبي:3/ 585)

ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه لا يجب على المرأة أن تتجهز بمهرها أو بشيء منه، وعلى الزوج أن يعد لها المنزل بكل ما يحتاج إليه ليكون سكنا شرعيا لائقا بهما. وإذا تجهزت بنفسها أو جهزها ذووها فالجهاز ملك لها خاص بها. (الموسوعة الفقهية الكويتية:16/ 166)

4محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

13/شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب