| 84152 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے والد صاحب کے انتقال کو تقریباً تین سال ہوچکے ہیں،ہم نے ابھی حال ہی میں جومکان خریداتھا وہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی خریداتھا،خریدنے کے ایک ماہ کے اندر ہی والد صاحب کا انتقال ہوگیاتھا،اب مسئلہ یہ ہےمعلوم کرناہےکہ ہم دو بھائی اوردوبہنیں ہیں۔داداصاحب کا 35سال پہلے انتقال ہوچکاتھا ،میرے دو چچا،اورچارپھوپیاں ہیں،اس وقت جو جائیداد ہےجو تقریبا50لاکھ مالیت کی ہوگی،اس جائیداد میں شرعی طورپر دادی صاحبہ کا حصہ بنتاہےجوابھی حیات ہے یا نہیں؟
جوفلیٹ والد کی زندگی میں بیچاگیا تھا وہ بھی والد کے نام پر تھا اورپھر اس کے بدلے میں جو مکان خریداگیا تھا وہ بھی والد صاحب کے نام ہے ،میری والدہ حیات ہے ،صرف اس وقت اتنا معلوم کرنا ہے کہ اس جائیداد میں ہماری دادی صاحبہ کا شرعی طور پر کوئی حصہ ہے یانہیں ؟اگر دادی صاحبہ جو 90سال کی ہے انتقال کرجاتی ہے تو کیا ہم کو اپنی چارپھوپیوں اوردو چچوں کو اس جائیداد میں حصہ دینا ہوگا؟جبکہ اس کی ملکیت میں نہ دادی صاحبہ کی کوئی رقم شامل ہے اورنہ ہی چچوں کا ،پہلے والافلیٹ بھی ہم نے ہی خود خریداتھا اوروالد صاحب نے خود ہی فروخت کردیاتھا اوریہ گھر بھی والد نے ہی خریدا تھااوراس کے ایک ماہ کے اندر ہی انتقال ہوگیا ،پہلے والافلیٹ بھی مکمل والدصاحب کی محنت کی کمائی سے خریدا گیا تھا اورپھر 20سال رہنے کے بعد بیچ کر یہ مکان خریداہے ،فلیٹ 50لاکھ کا خریداتھا اوریہ مکان بھی پورے 50لاکھ کا خریداہے،اس مسئلے کا شرعی حل بتادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والدمرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض اوروصیت (اگرکی ہو)کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد آپ کی مذکورہ دادی صاحبہ کا آپ کےوالد کے ترکہ بمع مذکورہ جائیداد میں چھٹا حصہ بنتاہے،جوان کی وفات کی صورت میں ان کے شرعی ورثہ یعنی بیٹوں اوربیٹیوں کی طرف منتقل ہوگا،بشرطیکہ یہ موت تک ان کی ملکیت میں رہے۔
اگرچہ آپ دادی صاحبہ کا مذکورہ مکان میں کوئی پیسہ نہیں لگا مگرآپ کے والد مرحوم کی وہ ماں ہے اورشریعت نے میت کی اولاد کی موجودگی میں ماں کو چھٹے حصے کا وارث قراردیاہے اورجب دادی کو یہ میراث ملے گی اورموت تک ان کی ملکیت میں رہےگی اورپھر وہ فوت ہوگی تو گو ان کی اولاد کا اس مکان میں کوئی پیسہ نہیں لگا مگروہ آپ کی دادی کی اولاد ہونے کی حیثیت سے اپنی ماں سے میراث پانے کے مستحق ہوں گے،یہ شریعت کا حکم ہے۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ الخ
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 231)
[أحوال الأم في الميراث] قال - رحمه الله - (وللأم) (الثلث) وذلك عند عدم الولد وولد الابن لما تلونا، وعند عدم الاثنين من الإخوة والأخوات على ما نبين قال - رحمه الله - (ومع الولد أو ولد الابن أو الاثنين من الإخوة والأخوات لا) أي مع واحد من هؤلاء المذكورين لا ترث الثلث، وإنما ترث السدس لما تلونا لقوله تعالى {فإن كان له إخوة فلأمه السدس} [النساء: 11].
وقال تعالى:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .
تنوير المقباس من تفسير ابن عباس (ص: 65)
ثمَّ بَين نصيب الذّكر وَالْأُنْثَى فِي الْمِيرَاث فَقَالَ {يُوصِيكُمُ الله} يبين الله لكم {فِي أَوْلاَدِكُمْ} فِي مِيرَاث أَوْلَادكُم بعد موتكم {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} نصيب الْأُنْثَيَيْنِ.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
30/12/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


