| 84943 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے والد کا گھر حیدر آباد میں واقع تھا،جووالد صاحب کے انتقال کے بعد جو 95 لاکھ میں فروخت ہو چکا ہے،اوالدصاحب نے اپنی زندگی میں ایک وصیت چھوڑی تھی۔ ہم 10 بہن بھائی ہیں، لیکن میرے بھائی وصیت کے مطابق بہنوں کو ان کا حق دینے پر راضی نہیں ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اسلامی قوانین اور وصیت کے مطابق مجھے میرا جائز حصہ مل جائے۔ آپ سے درخواست ہے کہ ایسا مستند فتویٰ فراہم کریں جو ہر جگہ قابل قبول ہو اور کوئی اسے چیلنج نہ کر سکے۔ شکریہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کچھ وارث ایسے ہوتے ہیں جن کے حصے اللہ تعالی نے خود قرآن کریم میں متعین فرمادیے ہیں، جن میں بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ لہذا انہیں میراث ملنے کے لیے والد کو وصیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہذامسئولہ صورت میں اگر والد یہ وصیت نہ بھی کرتےکہ "میں اپنا مذکورہ بالا مکان اپنی تمام اولاد، یعنی سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں شرعی حصے کے حساب سے تقسیم کرتا ہوں" تو بھی بیٹیوں کو اپنا شرعی حصہ ملتا۔ تاہم، والد نے وصیت بھی کردی، تو یہ اور بھی اچھا کام ہوا، اور بیٹیوں کا حصہ مزید پختہ ہوگیااور والد نے اپنے زعم میں کاغذات کے غلط استعمال کو روک لیا۔
واضح رہے کہ بہنیں بھی بھائیوں کی طرح شرعی وارث ہیں، اور شرعی وارث کو میراث سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جو شخص کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ درحقیقت اس کی اس وراثت والی حیثیت کو بدلتا ہے، اور اللہ تعالی کے فیصلے کو ناپسند کرتا ہے اور اسے بدلنا چاہتا ہے، اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔
سورۃ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا ہے:تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ. وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ.(۴:۱۳۔۱۴(
’’یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی بتائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنہیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔‘‘
حضرت سلیمان بن موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:«من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة» سنن سعيد بن منصور (١/ ١١۸)
جس نے اللہ تعالی کی مقرر کردہ (اپنے وارث کی) میراث کو کاٹ دیا، اللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹ دے گا۔
ایک اور حدیث میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص (کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔"
تفصیل بالا کی روشنی میں معلوم ہوا کہ کسی وارث، مثلاً بہنوں کو میراث سے محروم رکھنا سراسر ظلم، ناانصافی، حق تلفی اور اللہ کے احکام سے کھلی بغاوت ہے، جو ناجائز اور حرام ہے۔ لہذا، اس صورت میں میراث روکنے والے بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ بہنوں کے حصے انہیں دے دیں، ورنہ ساری عمر حرام کھانے کا وبال ان پر رہے گا اور قیامت کے دن اس کا حساب دینا پڑے گا۔
حقوقِ متعلقہ بالترکہ (کفن دفن کےمتوسط اخراجات، قرض اور وصیت تہائی مال تک) کی ادائیگی کے بعد اگر مرحوم کے انتقال کے وقت صرف یہی ورثہ ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تو کل ترکہ میں سے ہر بیٹے کو 5.882 فیصد اور ہر بیٹی کو 11.764 فیصد حصہ ملے گا، اور کسی بیٹے اور بیٹی کو محروم نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ جات
قال الله تعالي:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء : 11]
وفی البحر الرائق (8/ 567)
والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.
وفی رد المحتار:
الترکۃ في الاصطلاح ماترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال۔ ( کتاب الفرائض، کراچي ۶/۷۵۹، مکتبۃ زکریا دیوبند ۱۰/۴۹۳)
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (10 / 31)
قال الطيبي رحمه الله تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها…
وفيه ایضا:
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".( باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی كتب خانه)
عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی (مشکاة شریف ص ۲۵۵)
روی الامام احمد فی مسندہ:
علی الید مااخذت حتی تودیہ،رواہ الامام [3] احمد فی مسندہ والائمۃ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ فی سننھم و الحاکم فی صحیحہ المستدرك عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
روى مسلم في صحيحه :
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
12/4/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


