| 87717 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
امام صاحب مسجد کے مکان میں رہائش پذیر ہیں،شروع میں مسجد کی انتظامیہ نے ان کے بچوں کی اس مکان میں رہائش کے حوالے سے کچھ نہیں طے کیا تھا کہ ان کے بچے اس مکان میں رہ سکتے ہیں یا نہیں،بعد میں جب ان کے بچوں کی شادیاں ہوگئیں اور برسرروزگا ہوگئے اور وہ بھی مستقل طور پر اس مکان میں رہنے لگے تو انتظامیہ نے چار پانچ سال پہلے یہ شرط لگائی کہ امام صاحب کے شادی شدہ بچے اس مکان میں نہیں رہیں گے،کیونکہ زیادہ افراد کی رہائش کی وجہ سے یوٹیلیٹی بل زیادہ آتے ہیں،جبکہ مسجد کی اتنی آمدن نہیں کہ اسے برداشت کیا جاسکے۔
اس حوالے سے انتظامیہ نے متعدد بار امام صاحب سے بات کی،یہاں تک کہ امام صاحب نے اس حوالے سے لکھی گئی تحریر پر دستخط بھی کئےکہ ایک سال کے اندر وہ اس مسئلے کا حل نکال لیں گے،لیکن دو سے تین سال کا عرصہ گزرچکا ہے اور امام صاحب کے بچے اب بھی اس گھر میں مقیم ہیں،اس پس منظر میں آپ سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔کیا امام صاحب کے شادی شدہ بچوں کا اس مکان میں رہائش رکھنا درست ہے؟کیا مسجد کی جانب سے دیئے گئے مکان کا اس طرح استعمال شرعا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مفتی کی ذمہ داری سوال کے مطابق جواب دینا ہے، واقعہ کی تحقیق اس کی ذمہ داری نہیں،اس لئے اگر سوال میں کوئی خلافِ واقعہ بات لکھی گئی ہو تو اس کی ذمہ داری سائل پر آئے گی۔
نیز مسجد کمیٹی اور امام کا معاملہ ان مسائل میں سے ہیں جن میں کسی ایک فریق کا موقف سن کر یا پڑھ کر حتمی بات نہیں کی جاسکتی، اس لیے ذیل میں ان مسائل کا صرف اصولی جواب لکھا جاتا ہے:
شادی کے بعد بچے والد کے تابع نہیں رہتے،اس لئے امام صاحب کے شادی شدہ بچوں کا اس مکان میں رہائش رکھنا شرعا جائز نہیں،امام صاحب پر لازم ہے کہ ان کے لئے متبادل رہائش کا انتظام کریں۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (4/ 366):
"إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء، وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالةووجوب العمل به".
"مجمع الضمانات" (ص: 327):
"المتولي لو أسكن دار الوقف بلا أجر ،قيل: لا شيء على الساكن، وعامة المتأخرين على أن عليه أجر المثل،سواء أعدت الدار للغلة أو لا؛ صيانة للوقف عن الظلمة وقطعا للأطماع الفاسدة، وبه يفتى، وكذا لو سكن دار الوقف بلا إذن الواقف والقيم يلزمه أجر المثل بالغا ما بلغ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
28/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


