| 87622 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
اندرون سندھ کے علاقے میں ہمارا ایک مدرسہ سیدہ فاطمۃ الزہرا کے نام سے قائم ہے ،جس میں تقریبا 80 طلباء ہیں ،یہ سب طلباء غیر رہائشی ہیں جو صبح سے لے کے رات تک مدرسے میں قران حفظ کرتے ہیں اور چھٹی ہونے کے بعد اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں ،ان میں کچھ وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو مستحق زکوۃ ہیں ،ہمارے مدرسے کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،ہمارے اس ادارے میں دو استاد ہیں ۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ان دو استادوں کی تنخواہ اور مدرسے کے دیگر اخراجات کے لیے ہم زکوۃ لے سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکاة اور دیگر صدقاتِ واجبہ میں فریضے کی ادائیگی کے لیے کسی مستحق شخص کو ان کا مالک بنانا ضروری ہے،اس لیے کسی مستحق کو مالک بنائے بغیر لوگوں سے صدقاتِ واجبہ لے کر مدرسے کے جملہ مصارف میں خرچ کرنا تو جائز نہیں ہے،لیکن اگر اس کے بغیر مدرسے کے اخراجات پورے نہ ہوسکتے ہوں تو اس کے جواز کی ایک صورت یہ ہے کہ داخلہ کے وقت ہی ایسے طلبہ سے جو بالغ ہوں، غریب ہوں اور سید نہ ہوں داخلہ فارم میں اس بات پر دستخط لے لیے جائیں کہ وہ مدرسہ کی انتظامیہ کو زکاة وصدقات کی رقم وصول کرنے اور پھر اس رقم کو مدرسہ کی مصلحت کے مطابق مدرسہ کے کاموں میں اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کرنے کا وکیل بناتے ہیں، جبکہ نابالغ طلبہ کے ایسے سرپرستوں سے دستخط لئے جائیں جو خود صاحبِ نصاب نہ ہوں۔
اس طرح وصولی اور خرچ دونوں کی توکیل کے بعد زکاة کی جو رقم بھی مدرسے میں آئے گی،انتظامیہ کے اس پر قبضے کرنے کے ساتھ ہی رقم دینے والوں کی زکاة ادا ہوجائے گی اور اس کے بعد انتظامیہ ان طلبہ کی طرف سےاپنی صوابدید کے مطابق اس رقم کو مدرسے کے مصالح میں جہاں چاہے گی خرچ کرسکے گی۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (2/ 349):
"(و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته الفقراء وطفل الغنية فيجوز لانتفاء المانع.
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ (قوله: وطفل الغنية) أي ولو لم يكن له أب بحر عن القنية (قوله: لانتفاء المانع) علة للجميع والمانع أن الطفل يعد غنيا بغنى أبيه بخلاف الكبير فإنه لا يعد غنيا بغنى أبيه ولا الأب بغنى ابنه ولا الزوجة بغنى زوجها ولا الطفل بغنى أمه ح في البحر".
"بدائع الصنائع " (4 / 3):
"ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز ؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير ؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم" .
"رد المحتار" (2/ 345):
" (قوله: أن الحيلة) أي في الدفع إلى هذه الأشياء مع صحة الزكاة.
(قوله ثم يأمره إلخ) ويكون له ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب بحر وفي التعبير بثم إشارة إلى أنه لو أمره أولا لا يجزئ؛ لأنه يكون وكيلا عنه في ذلك وفيه نظر؛ لأن المعتبر نية الدافع ولذا جازت وإن سماها قرضا أو هبة في الأصح كما قدمناه فافهم".
"الفتاوى الهندية" (6/ 392):
"إذا أراد أن يكفن ميتا عن زكاة ماله لا يجوز (والحيلة فيه أن يتصدق بها على فقير من أهل الميت) ، ثم هو يكفن به الميت فيكون له ثواب الصدقة ولأهل الميت ثواب التكفين، وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه.
(والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


