| 87348 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام ہمام شفیق کیانی ہے اور میں اس وقت حکومتِ آزاد جموں و کشمیر میں بطور تحصیلدار اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ حال ہی میں حکومتِ آزاد کشمیر نے ایک ترمیمی قانون منظور کیا ہے، جس کا عنوان ہے:
"The Transfer of Property (Amendment) Act, 2021 – Act XXIX of 2021".
اس قانون کے مطابق: اگر کسی شخص کا بیٹا یا بیٹی اس کی زندگی میں وفات پا جائے تو وہ شخص اپنی جائیداد سے فوت شدہ بیٹے یا بیٹی کے بچوں اور بیوہ کے حق میں بطور "گفٹ" (تحفہ) وہ حصہ منتقل کرے گا جو اس کے فوت ہونے پر اس کا بیٹا/بیٹی اگر زندہ ہوتے تو انہیں ملتا، اور اگر وہ شخص 90 دن کے اندر یہ گفٹ نہ کرے یا خود وفات پاجائے تو یہ تصور کیا جائے گا کہ یہ حصہ ازخود گفٹ ہو چکا ہے اور ریونیو ریکارڈ میں اندراج بھی اسی بنیاد پر ہو گا۔
گزارش ہے کہ آپ درج ذیل نکات پر قرآن و حدیث اور اسلامی فقہی مکاتب فکر کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی عنایت فرمائیں:
1. کیا یہ قانون اسلامی شریعت کے اصولِ میراث (Law of Inheritance) کے مطابق ہے؟ خاص طور پر جب قرآن مجید میں واضح طور پر وارثین کی تعیین کی گئی ہے اور اصولِ "حجب" (exclusion) کے تحت پوتے اور پوتیاں اس وقت وارث نہیں بنتے جب ان کا والد (یعنی بیٹا) فوت ہو چکا ہو۔
3. براہ کرم اس مسئلے پر قرآن، احادیثِ مبارکہ، اور درج ذیل فقہی مکاتبِ فکر یعنی، فقہ حنفی، فقہ شافعی، فقہ مالکی، فقہ حنبلی، فقہ جعفریہ اورفقہ اہلِ حدیث کی روشنی میں مدلل اور حوالہ جات کے ساتھ رائے عنایت فرمائیں،تاکہ میں اس قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ کرسکوں۔
آپ کی راہنمائی ہمارے لیے صدقہ جاریہ ہوگی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دینِ اسلام کی خدمت میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سب سے پہلے میراث سے متعلق قرآن مجید کے چند اصول ذہن نشین کرلیں:
1۔وارثت کا حق مورث کی زندگی میں موجود نہیں ہوتا،بلکہ اس کے مرنے کے بعد وجود میں آتا ہے،وراثت سے متعلق متعدد قرآنی آیات سے اس کی وضاحت ہوتی ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا} [النساء: 7]
ترجمہ:مردوں کے لیےبھی اس مال میں حصّہ ہے جو والدین اور قریب تر ین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصّہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ (ترکہ)تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔
{إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ } [النساء: 176]
ترجمہ:اگر کوئی شخص ہلاک ہو جائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو جو کچھ اس نے چھوڑااس کا نصف بہن کے لیے ہے۔
اسی طرح سورۂ نساء کی آیات ۱۱،۱۲ میں میراث کا قانون بیان کرتے ہوئے بار بار" تَرَکَ "،" تَرَکْتُمْ" اور"تَرَکْنَ"کے الفاظ کا اعادہ کیا گیا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ وراثت کا حکم صرف تر کہ(میت کے چھوڑے ہوئے مال) سے متعلق ہے۔
لہذا کسی شخص کے زندہ ہوتے ہوئے اس کے مال میں ورثا کا کوئی حق نہیں ہوسکتا۔
2۔ترکہ میں صرف وہ ورثا میراث کے مستحق ہوتے ہیں جو میت کے انتقال کے وقت زندہ ہوں،مورث سے پہلے مرنے والے ورثا سرے سے ورثا میں شمار ہی نہیں ہوتے،اس کی دلیل آیات میراث میں موجود" فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً ، إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ"وغیرہ الفاظ ہیں،مذکورہ آیات کے ٹکڑوں کا واضح مطلب یہی ہے کہ میت کے انتقال کے وقت ان رشتہ داروں کے موجود ہونے یا نہ ہونےاوراس کی وجہ سے حصوں پر پڑنے والے فرق اور اثر کی بات ہورہی ہے اور دور نبوی سے لے کر آج تک جمہور امت نے اس کا یہی مطلب مراد لیا ہے۔
لہذا میراث میں صرف ان ورثا کو حصہ ملے گا جو میت کے انتقال کے وقت زندہ ہوں،جو ورثا اس سے پہلے انتقال کرجائیں انہیں میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا،، کیونکہ وہ اس وقت مر چکے تھے جب کہ سرے سے حق وراثت وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔
3۔ میراث کی تقسیم کا مدار ضرورت اور حاجت پر نہیں،بلکہ قرابت پر ہے کہ ورثا میں سے جو مرنے والے کے زیادہ قریب ہوگا اسے حصہ ملے گا اور دور والا اس کی وجہ سے محروم ہوگا،جیسا کہ سورہ نساء کی درج ذیل آیت سے معلوم ہوتا ہے:
{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا} [النساء: 7]
ترجمہ:مردوں کے لیےبھی اس مال میں حصّہ ہے جو والدین اور قریب تر ین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصّہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ (ترکہ)تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔
لہذا ائمہ اربعہ سمیت جمہور اہل علم (بشمول اہل تشیع)کا موقف یہ ہے کہ بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتوں اور پوتیوں کو اصولی طور پر میراث میں حصہ نہیں ملے گا،باقی اگر وہ ضرورت مند ہوں تو داد اپنی زندگی میں ان کی ضرورت کے مطابق انہیں ہبہ کرسکتا ہے اور اگر زندگی میں نہ دینا چاہے تو موت کے بعد اپنے مال کے تہائی حصے تک انہیں دینے کی وصیت بھی کرسکتا ہے اور اگر دادا نے ایساکچھ نہیں کیا،جبکہ یتیم پوتے اور پوتیاں ضرورت مند ہوں تو تقسیم میراث کے وقت شریعت نے ورثا کو ایسے اقرباء کو کچھ نہ کچھ دینے کی ترغیب بھی دی ہے،چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [النساء: 8]
ترجمہ:اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار،یتیم اور مسکین لوگ آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔
لہذا انہیں چاہیے کہ اپنی مرضی سے انہیں ان کی ضرورت کے مطابق کچھ دے دیں،لیکن ایسا کرنا ان کے ذمےلازم نہیں ہے۔
تاہم اگر مرنے والے بیٹے کے سوادادا کی کوئی اورنرینہ اولاد نہ ہو توپھر پوتوں اور پوتیوں کو میرا ث میں حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
"صحيح البخاري "(8/ 151):
"باب ميراث ابن الابن إذا لم يكن ابن.
وقال زيد: «ولد الأبناء بمنزلة الولد، إذا لم يكن دونهم ولد ذكرهم كذكرهم، وأنثاهم كأنثاهم، يرثون كما يرثون، ويحجبون كما يحجبون، ولا يرث ولد الابن مع الابن»
حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس، قال: قال رسول ﷲ صلى ﷲعليه وسلم: «ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر»".
"صحيح مسلم "(3/ 1233):
"عن ابن عباس، قال: قال رسول ﷲصلى ﷲعليه وسلم: «ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر»".
قال العلامة النووی رحمہ ﷲفی شرحہ :" وقد أجمع المسلمون على أن ما بقي بعد الفروض فهو للعصبات يقدم الأقرب فالأقرب فلا يرث عاصب بعيد مع وجود قريب".
"الدر المختار " (6/ 779):
"ثم شرع في الحجب فقال (ولا يحرم ستة) من الورثة (بحال) ألبتة (الأب والأم والابن والبنت) أي الأبوان والولدان (والزوجان) وفريق يرثون بحال، ويحجبون حجب الحرمان بحال أخرى وهم غير هؤلاء الستة سواء كانوا عصبات أو ذوي فروض وهو مبني على أصلين:
أحدهما (أنه يحجب الأقرب ممن سواهم الأبعد) لما مر أنه يقدم الأقرب فالأقرب اتحدا في السبب أم لا (و) الثاني (أن من أدلى بشخص لا يرث معه) كابن الابن لا يرث مع الابن".
"الفتاوى الهندية "(6/ 452):
"(الباب الرابع في الحجب) وهو نوعان: حجب نقصان وحجب حرمان. فحجب النقصان هو الحجب من سهم إلى سهم، وأما حجب الحرمان فنقول: ستة لا يحجبون أصلا، الأب والابن والزوج والأم والبنت والزوجة ومن عدا هؤلاء فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن".
"الذخيرة للقرافي" (13/ 46):
"وفي الجواهر الواحد من بني الصلب يحوز المال إذا انفرد والاثنان والجماعة يقسمونه بالسواء والذكور والإناث للذكر مثل حظ الأنثيين والإناث فقط للواحدة المنفردة النصف وللاثنتين فصاعدا الثلثان وولد الابن مع عدم الأبناء للصلب كميراث ولد الصلب".
"بداية المجتهد ونهاية المقتصد" (4/ 126):
"وأجمعوا من هذا الباب على أن بني البنين يقومون مقام البنين عند فقد البنين يرثون كما يرثون ويحجبون كما يحجبون".
"الحاوي الكبير" (8/ 102):
"قال الشافعي رحمهﷲ تعالى: " وإن كان مع البنت أو البنات للصلب ابن فلا نصف ولا ثلثين ولكن المال بينهم للذكر مثل حظ الأنثيين ويسقط جميع ولد الابن ".
قال الماوردي: وهذا كما قال: إذا كان مع البنت أو البنات اللاتي للصلب ابن سقط به فرض البنات وأخذنا المال معه بالتعصيب للذكر مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى: {يوصيكم ﷲفي أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] إلا شيئين فسقط بالابن جميع أولاد الابن، سواء كانوا منه أو من غيره كما سقط بالإخوة بنو الإخوة وبالأعمام بنو الأعمام لرواية بن طاوس عن أبيه عن بن عباس قال: قال رسول ﷲ- صلى ﷲ عليه وسلم - " اقسم المال بين أهل الفرائض على كتاب ﷲفما تركت الفرائض فللأولى رجل ذكر ".
"المجموع شرح المهذب "(16/ 82):
"ولا ترث بنت الابن مع الابن، ولا الجدة أم الاب مع الاب؛لأنها تدلى به، ومن أدلى بعصبة لم يرث معه كابن الابن مع الابن".
"الشرح الكبير على متن المقنع" (7/ 54):
"قال إبن المنذر: أجمع أهل العلم على أن للجدة السدس إذا لم يكن للميت أم ولأنهن أمهات فسقطن بالأم كما يسقط الأب الجد ويسقط ولد الابن بالابن لأنه إن كان أباه فهو يدلي وإن كان عمه فهو أقرب منه فسقط به كما يسقط الجد بالأب وإن كان عمه فهو أقرب منه لقوله عليه الصلاة والسلام " ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فلأولى رجل ذكر ".
"الإقناع في فقه الإمام أحمد بن حنبل "(3/ 89):
"حجب النقصان يدخل على كل الورثة وحجب الحرمان لا يدخل على خمسة الزوجين والأبوين والولد ويسقط الجد بالأب وكل جد بمن هو أقرب منه والجدات من كل جهة بالأم وولد الابن بالابن".
"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي" (10/ 7814):
القاعدة الثانية ـ الأقرب يحجب الأبعد كالمذكور في العصبات، وكالجدات مع الأم، فالأم تحجب كل جدة، والقربى تحجب البعدى، وبنات الابن مع الابن أو البنت، وابن الابن مع ابن هو عمه لا أبوه، فإن الابن يحجب ابن أخيه، لقرب درجته. وكل واحد من الابن وابنه والأب إجماعاً".
"نيل الأوطارللشوکانی" (6/ 67):
"قوله: (ألحقوا الفرائض بأهلها) الفرائض: الأنصباء المقدرة، وأهلها: المستحقون لها بالنص.قوله: (فما بقي) أي ما فضل بعد إعطاء ذوي الفروض المقدرة فروضهم، وقوله: (لأولى) أفعل تفضيل من الولي بمعنى القرب: أي لأقرب رجل من الميت.
قال الخطابي: المعنى: أقرب رجل من العصبة وقال ابن بطال: المراد أن الرجال من العصبة بعد أهل الفروض إذا كان فيهم من هو أقرب إلى الميت استحق دون من هو أبعد، فإن استووا اشتركوا…..
والحديث يدل على أن الباقي بعد استيفاء أهل الفروض المقدرة لفروضهم يكون لأقرب العصبات من الرجال ولا يشاركه من هو أبعد منه وقد حكى النووي الإجماع على ذلك".
"المبسوط فی فقہ الإمامیة للشیخ طوسی"(4/76):
"فأقوی القرابة الولد للصلب فإنہ إن کان ذکرا أخذالمال کلہ بالقرابة دون التعصیب وإن کانوا أکثر فالمال بینہم بالسویة وإن کانوا ذکورا وإناثا کان للذکر مثل حظ الانثیین ولایرث معھم أحد ممن یرث بالقرابة.....
ثم بعد ذلک ولد الولد أقوی من غیرھم من القرابات ۔۔۔والبطن الأول أبدا یمنع من نزل عنہ بدرجة کما یمنع ولد الصلب ولد الولد".
"الفروع من الکافی للکلینی الرازی"(7/88):
"قال الفضل: ولد الولد أبدا یقومون مقام الولد إذا لم یکن ولد الصلب ولایرث معھم إلا الوالدان والزوج والزوجة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
02/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


