| 87670 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام محمد ہے، مجھے طلاق کے حوالے سے سوال پوچھنا ہے کہ میرا آن لائن نکاح ہوا ہے ، لیکن رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی ولیمہ ہوا ہے ، اسی دوران ہمیں لڑکی کے حوالے سےکچھ شکوک و شبہات پیدا ہوئے کہ یہ لڑکی صحیح نہیں ہے ،اب ہم اس کو طلاق دینا چاہ رہے ہیں تو اس کا کیا شرعی طریقہ ہے؟
نیز واضح رہے کہ نکاح نامہ ابھی تک نادرا میں بھی رجسٹرڈ نہیں کروایا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ہی مجلس میں خود زوجین، یا ان کے وکیل ،یا کم از کم کسی ایک کا وکیل موجود ہوں اور گواہوں کے سامنے نکاح کے لیے ایجاب و قبول کریں،اور سب لوگ نکاح کی تفصیلات اور سرگرمیوں کو واضح طور پر سمجھ رہے ہوں۔
چونکہ آن لائن نکاح کی صورت میں یہ چیزیں مفقود یا مشکوک ہوتی ہیں،اس لیے راجح قول کے مطابق محض ویڈیوکال کے ذریعے سے مجلسِ نکاح منعقد کرنے سے اتحادِمجلس ثابت نہیں ہوتی،لہذا اس طریقہ سے کیاجانے والا نکاح بھی منعقد نہیں ہوتا اور جب نکاح منعقد نہیں ہوا تو طلاق کی ضرورت نہیں۔
تاہم بعض عرب علماءحکما مجلس ایک ہونے کی بناء پر آن لائن نکاح کے انعقاد کے قائل ہیں،اس لئے احتیاطا ایک طلاق دے دی جائے اس طور پر کہ میں فلاں بنت فلاں کو طلاق دیتا ہوں تو بہتر ہے۔
حوالہ جات
.........
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


