| 88303 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں 1988ء سے محکمہ تعلیم میں ملازمت کر رہا ہوں۔ چونکہ سرکاری ملازمین سے حکومت جی پی فنڈ کی کٹوتی کرتی ہے، جس پر مروجہ شرح کے مطابق سالانہ منافع دیا جاتا ہے، اس لیے میرے علم کے مطابق چونکہ حکومتِ وقت یہ رقم سرکاری ملازمین سے جبرًا کاٹتی ہے، لہٰذا وہ مجرم نہیں قرار دیے جاتے۔لیکن جب ایک سرکاری ملازم کی عمر 45 سال مکمل ہو جاتی ہےتو حکومت جی پی فنڈ کے 80 فیصد حصے پر جبری کٹوتی ختم کر دیتی ہے اور ملازم اس 80 فیصد رقم، جو کہ جی پی فنڈ میں جمع ہوتی ہے،اپنی مرضی سے نکال سکتا ہے۔
مجھے 2013ء میں 45 سال مکمل ہوئےتو میں نے درخواست دی کہ متعلقہ جی پی فنڈ کاٹنے والا شعبہ میرے جی پی فنڈ کھاتے سے منافع بند کر دے۔ لیکن اکاؤنٹ والوں نے 2013ء کے بجائے 2006ء سے ہی میرے جی پی فنڈ پر منافع بند کر دیا، یعنی انہوں نے 38 سال کی عمر سے منافع روک دیا، حالانکہ منافع تو 45 سال کی عمر پر بند ہونا چاہیے تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ 2006ء سے 2013ء تک میرے جی پی فنڈ پر جو منافع بنتا ہے، کیا میں اسے لے سکتا ہوں؟ کیونکہ 45 سال کی عمر کے بعد منافع لینا درست نہیں ہوتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی پی فنڈ سے کی جانے والی کٹوتی پر ملنے والا منافع شرعاً سود نہیں ہے، کیونکہ جب ملازم کی تنخواہ سے یہ رقم کاٹی جاتی ہے تو وہ اس کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی، نہ اس پر ملازم کا قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی وکیل کا،لہٰذا حکومت کی جانب سے اس رقم کے ساتھ کیا جانے والا تصرف یکطرفہ ہوتا ہے اور اسے ملازم کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اس بنا پر جب حکومت ملازم کو اس رقم پر منافع دیتی ہے تو وہ منافع درحقیقت حکومت کی طرف سے دی جانے والی اجرت ہی کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر یہ کٹوتی جبری ہو تو ملازم کے لیے اس پر ملنے والا منافع لینا اور اسے استعمال کرنا بہرحال جائز ہے۔ البتہ اگر کٹوتی ملازم کی رضامندی سے ہو اور ادارہ اس پر نفع دے، تو چونکہ اس صورت میں سود کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس منافع(اضافہ) سے اجتناب کیا جائے،یا لے کرصدقہ کر دیا جائے، تاہم اگر کوئی اسے استعمال کرے تو اس پر ربا (سود) کا گناہ نہیں ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں جس طرح تنخواہ لینا ملازم کا حق ہے، اسی طرح جی پی فنڈ پر ملنے والا منافع بھی شرعاً اور قانوناً ملازم کا حق ہے، جس کی ادائیگی حکومت (یا متعلقہ ادارہ) کے ذمے لازم ہوتی ہے۔ چونکہ قانونی طور پر 45 سال کی عمر تک جی پی فنڈ کی کٹوتی جبری ہوتی ہے اور اس پر منافع دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور 2006ء سے 2013ء تک کا عرصہ اس عمر(45 سال) کا حصہ ہے، اس لیے اس مدت کے دوران کا منافع بھی شرعاً اور قانوناً ملازم کا حق ہے اور وہ اس کیلئے حکومت یا متعلقہ ادارہ کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔
حوالہ جات
وفی البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي (7/ 300)
(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أوبالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلابواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره. لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها.
وفی الفتاوى الهندية (4/ 413)
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط.
Legal Reference: GP Fund Rules – Khyber Pakhtunkhwa
According to the Khyber Pakhtunkhwa General Provident Fund Rules, 2008, government employees are entitled to receive profit (interest) on their General Provident Fund (GP Fund) contributions until the age of 45, as long as contributions remain compulsory.
- Rule 19(1) – “Interest shall be credited with effect from the last day in each financial year, in the manner prescribed, unless the subscriber has ceased to subscribe or has withdrawn the full amount standing to his credit.”
- Rule 6(2) – “The subscription to the Fund shall be compulsory for all government servants until they reach the age of forty-five years, unless they retire or resign earlier.”
- Rule 6(3) – “Upon attaining the age of forty-five years, the subscription shall become optional, and the subscriber may choose to discontinue further contributions.”
- www.agkhyberpakhtunkhwa.gov.pk/wp-content/uploads/2024/12/201908021564724413-NWFP-General-Provident-Fund-Rules-2008.pdf
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04 /صفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


