03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“میں اسے آزاد کرتا ہوں” سے طلاق واقع ہونے کا حکم
88204طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑ ا ہوں، اس وقت  بیوی کے ہر مطالبہ کو پورا کرنا میرے ممکن نہیں تھا،بیوی کا مطالبہ تھا کہ مجھے الگ گھر دیا جائے ، پھر اس کے والد نے اسے سمجھایا ، وہ مان گئی اور 10 جولائی کو وہ  میرے ساتھ گھر آگئی،پانچ دن تک میرے یہاں رہی، کام میں ٹال مٹول کرتی تھی، گھریلو ذمہ داریاں پہلے کی طرح نہیں نبھاتی تھی، ان وجوہات کی بنا پر گھر میں چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہے۔ 15جولائی کی صبح   کسی کو بتائے  بغیر میرے بیٹے کو لے کر اپنے ماں کے گھر چلی گئی ۔ اس کے بعد میں ان کے پیچھے چلا گیا اور اپنے سات ماہ کے بیٹے کو لے کر گھر آ گیا۔ بچہ ماں کا دودھ نہیں پیتا، ڈبے کا دودھ پیتا ہے۔ بچہ ماں کو پہچانتا بھی نہیں اور ہمارے گھر پر بچے کی دادی بچے کی دیکھ بھال کرتی ہے، بچہ دودھ پی کر خاموش ہو جاتا ہے اور کھیلنے لگتا ہے۔اس  دوران میری خالہ نے فون پر بتایا کہ "اُس (بیوی) نے تم پر، تمہاری ماں اور بہنوں پر جھوٹا الزام لگایا ہے کہ یہ لوگ مجھ پر تشدد کرتے ہیں، خاوند خرچہ نہیں دیتااور علاج نہیں کرواتا، یہ سب جھوٹ بولا ہے،اب وہ واپسی کا کہہ رہی ہےاور اس کی ماں چاہتی ہے کہ اس کے لیے کوئی الگ گھر لے کر دیا جائے اور وہاں بھیجا جائے"۔

تو میں نے غصے میں کہا: "اس طرح کی بیوی، جو خاوند اور اس کی فیملی پر جھوٹے الزام لگاتی ہے اور بغیر اطلاع کے چلی جاتی ہے، ایسی بیوی کو میں نہیں رکھنا چاہتا، میں اسے آزاد کرتا ہوں"۔

کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ  میں سائل کا غصہ کی حالت میں بنیتِ طلاق   ” ایسی بیوی کو میں نہیں رکھنا چاہتا، میں اسے آزاد کرتا ہوں "کہنے سے  بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا  ہے اور  رجوع  کی گنجائش نہیں،  ٖ بیوی طلاق بائن ہونے کے وقت سے اپنی عدّت( پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر اسی شوہر کے ساتھ دوبارہ ساتھ رہنا چاہے تو دونوں کی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کےساتھ تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہوگا، تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کو آئندہ کے لیے دوطلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

حوالہ جات

رد المحتار :باب صریح الطلاق(252/3):

ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف، (قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية.

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 252):

«ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن ‌الصريح ‌ما ‌غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية، ولا ينافي ذلك ما يأتي من أنه لو قال: طلاقك علي لم يقع لأن ذاك عند عدم غلبة العرف. وعلى هذا يحمل ما أفتى به العلامة أبو السعود أفندي مفتي الروم، ومن أن علي الطلاق أو يلزمني الطلاق ليس بصريح ولا كناية: أي لأنه لم يتعارف في زمنه.

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   27  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب