| 88260 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام عالیہ فاطمہ ہے۔ 2019ء میں میرا نکاح قاسم اقبال کے ساتھ ہوا تھا،صرف نکاح ہوا تھا ، رخصتی نہیں ہوئی تھی، ہمارا آپس میں کوئی خاص رابطہ بھی نہیں تھا، نہ ہی کسی قسم کا کوئی خرچ مجھے دیا گیا اور نہ حق مہر وغیرہ۔ پھر کچھ عرصہ بعد میرے والد صاحب فوت ہوگئے،میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں، گھر کی ذمہ داریاں بھی مجھ پر ہیں۔ اب خاندانی حالات (مسائل)ایسے ہیں کہ میں ان کے پاس جا نہیں سکتی اور وہ بھی مجھے رکھنا نہیں چاہ رہے،ہر روز ہمارے جھگڑے ہوتے ہیں۔ ہم یہ سب ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ مجھے طلاق نہیں دے رہے، مجھے لٹکانا چاہ رہے ہیں ، تو نکاح کو فسخ کرنے کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عورت کاشدید مجبوری کے بغیر شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
سنن أبي داود میں ہے:
"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما امرأة سألت زوجها طلاقًا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة.(310/1، باب الخلع، ط: حقانیه)
اس لیے عورت کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان گھر بسانے کی کوشش کرے، بلاوجہ شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ نہ کرے، اگر کبھی ایسے مسائل درپیش ہوں جو باہم حل نہ ہورہے ہوں تو خاندان کے بڑے اور معزز لوگوں سے بات چیت کرکے ان کا حل نکالا جائے، یعنی جس قدر ہوسکے رشتہ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے، لیکن اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو پھر نکاح کو ختم کرنے کی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعی خاندانی مسائل ایسے ہوں جن کی وجہ سے مذکورہ شخص کے ساتھ نبھانا ممکن نہ ہوتو طلاق یا خلع کے ذریعے نکاح کو فسخ کیا جا سکتا ہے۔ آپ ان سے طلاق کا مطالبہ کریں، اگر وہ طلاق دینے سے انکار کریں تو آپ مہر کے عوض ان سے خلع کا مطالبہ کریں۔ لیکن واضح رہے کہ خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے،اس لئے اس کے درست اور معتبر ہونے کے لیے عاقدین(میاں بیوی ) کی رضامندی شرعاً ضروری ہے اور شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں ۔
تاہم اگر شوہر نہ رکھنے کو تیار ہے اور نہ طلاق دینے پر آمادہ ہوتا ہے اور نہ ہی خلع پر رضامند ہے اور آپ شوہر سے رشتہ ازدواج ختم کرنا چاہتی ہے تو شوہر پر اپنے حقوق ، نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح کا مقدمہ عدالت میں دائر کرے،پھر اپنے نکاح کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،اس کے بعد شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،پھرقاضی شرعی شہادت کے ذریعہ پوری تحقیق کرے،اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو کہ شوہر باوجود وسعت کے حقوق ادا نہیں کررہا تو جج شوہرکوعدالت میں حاضر ہونے کاسمن جاری کرے ، اگر شوہر عدالت میں حاضر ہوکر گھر بسانے پر آمادہ ہوجائے تو ٹھیک،لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہو یا حاضر ہو لیکن حقوق کی ادائیگی پر راضی نہ ہو تو عدالت نکاح فسخ کردے، جس کے بعد عورت اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
المبسوط» للسرخسي (6/ 173):
«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.»
الحیلۃ الناجزۃ(ص73، فصل فی حکم زوجۃ المتعنت):
"والمتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصه : ان منعھا نفقۃ الحال فلہا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق والا طلق علیه، قال محشیہ : قولہ: والا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلوم…..إلى ان قال: وان تطوع بالنفقۃ قریب اواجنبی فقال ابن القاسم: لہا ان تفارق لان الفراق قد وجب لہا، وقال ابن عبد الرحمن: لا مقال لہا لان سبب الفراق ہو عدم النفقة قد انتہی وهو الذی تقضیه المدونة کما قال ابن المناصب: انظر الحطاب، انتہی۔"
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


