03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کو ختم کرنے (طلاق یا خلع) کا حکم
88190طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

ثناء کی شادی زید سے محض دینداری کی بنیاد پر کی گئی تھی، کہ وہ حافظ، عالم ہے اور تراویح بھی پڑھاتا ہے، مگر معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ زید رسم و رواج میں ملوث ہے، لڑکیوں سے موبائل پر باتیں کرتا ہے، ان سے ملاقاتیں کرتا ہے، اور موبائل پر گانے فلمیں وغیرہ دیکھتا ہے۔ثناء کے حاملہ ہونے پر بجائے خوشی کے افسوس کا اظہار کیااور بعد ازاں حمل ساقط ہو گیا، جس کا الزام بھی ثناء پر ہی ڈال دیا گیا۔گھر میں کھانے پینے کا بھی مناسب انتظام نہیں تھا۔ شادی کے صرف ساڑھے چار مہینے بعد زید نے ثناء کو برا بھلا کہتے ہوئے اس کے بھائی کے پاس چھوڑ دیا۔جب لڑکی کے گھر والوں نے معاملے پر بات کی تو زید نے صاف لفظوں میں کہہ دیا: "میں نہیں بدلوں گا، جو کرنا ہے کر لو۔" اور اس پر کسی قسم کی ندامت یا شرمندگی بھی ظاہر نہ کی۔

اب ثناء اور اس کے اہلِ خانہ کا ارادہ ہے کہ وہ اسے دوبارہ زید کے پاس نہ بھیجیں۔براہِ کرم یہ وضاحت فرمائیں کہ اس صورت میں نکاح کو ختم کرنے (طلاق یا خلع) کا شرعی  حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عورت کاشدید مجبوری کے بغیر شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، حدیثِ  مبارک میں آتا ہے کہ  جو عورت بغیر کسی مجبوری کے  اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوشبو  حرام ہے۔

سنن أبي داود  میں ہے:

"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقًا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة.

اس لیے عورت کو  چاہیے کہ وہ حتی الامکان گھر بسانے کی کوشش کرے، بلاوجہ شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ نہ کرے، اگر کبھی کوئی ناخوش گوار بات پیش آجائے تو اس پر صبر کرے ، شوہر کے حقوق کی رعایت کرے اور  شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ بیوی کے حقوق کی رعایت کرے، اگر کبھی ایسا مسئلہ پیش آجائے جو باہم حل نہ ہورہا ہوتو خاندان کے بڑے اور معزز لوگوں سے بات چیت کرکے مسئلہ کا حل نکالا جائے، یعنی جس قدر ہوسکے رشتہ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے، لیکن اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے اور دونوں میاں بیوی کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو پھر ایسی صورت میں عورت خلع لے سکتی ہے۔

تاہم،خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے، اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر  بیوی  عدالت سے خلع لے لے اور عدالت اس کے  حق میں یک طرفہ خلع کی  ڈگری جاری کردے تو شرعًا ایسا خلع معتبر نہیں ہوتا، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا، اور ایسی صورت میں عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہوگا، اس لیے کہ خلع مالی معاملات کی طرح  ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر  مالی معاملات  معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اسی طرح خلع  معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی  ہے، خلع کے   مفہوم میں  ہی یہ بات داخل ہے کہ وہ  شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی سے انجام پائے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں خاندان کے بڑے اور معزز لوگوں  کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے،اوّلاً اس لڑکی کے شوہر زید کو بٹھایا جائے، اُسے اس کے طرزِ عمل پر سمجھایا جائے، اس سے اخلاقِ رذیلہ (جیسے غیر محرموں سے بات کرنا، گانے فلمیں دیکھنا وغیرہ)ترک کرنے  پر وعدہ لیا جائے اور ازدواجی حقوق ادا کرنے کی یقین دیانی کروائی جائے۔ اگر وہ اصلاح پر آمادہ ہو جائے، آئندہ ایسی حرکات سے باز آنے اور بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کا وعدہ کرے، تو بہتر ہے کہ رشتہ قائم رکھا جائے، کیونکہ گھر بسانا ہی شریعت کا اصل منشا ہے۔

لیکن اگر بارہا سمجھانے کے باوجود بھی زید اپنی اصلاح پر آمادہ نہ ہو، اس کا رویہ مسلسل بے راہ روی، لاپروائی اور بدسلوکی کا مظہر رہے اور دونوں کے لئے ایک ساتھ رہ کر اللہ کے حدود قائم رکھنا مشکل ہو  تو ایسی صورت میں ثناء کے لیے شرعی طور پر خلع کا مطالبہ کرنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

شرح سنن أبي داود للعباد» (255/ 3 بترقيم الشاملة آليا):

حدثنا سليمان بن حرب حدثنا حماد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان رضي الله عنه أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: (أيما امرأة ‌سألت ‌زوجها طلاقاً في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة).

المبسوط  للسرخسي (6 / 173) :

"(قال) : والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد."

بدائع الصنائع  (145/3):

"و أما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع  الفرقة، و لايستحق العوض بدون القبول."

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 229):

"و يجب لو فات الإمساك بالمعروف .

(قوله: لو فات الإمساك بالمعروف) ما لو كان خصيًّا أو مجبوبًا أو عنينًا أو شكازًا أو مسحرًا، و الشكاز: بفتح الشين المعجمة و تشديد الكاف و بالزاي: هو الذي تنتشر آلته للمرأة قبل أن يخالطها، ثم لاتنتشر آلته بعده لجماعها، و المسحر بفتح الحاء المشددة: و هو المسحور، و يسمى المربوط في زماننا ح عن شرح الوهبانية."        

   حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   25  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب