03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
واٹس ایپ پر طلاق دینے کا حکم
88203طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ساران رفاقت نےواٹس ایپ پر  اپنی بیوی کو درج ذیل پیغامات (میسجز) بھیجے:

"جا، طلاق ہے میری تیرے سے"۔۔۔۔ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"۔۔۔۔"کال اٹھا، طلاق لے"۔۔ " تیرے باپ کو بولتا ہوں، طلاق نہیں لے رہی۔"۔۔۔۔۔"تم میری طرف سے آزاد ہو"۔۔۔۔۔"تیرا میرا قصہ ختم"

یہ پیغامات مورخہ 19، 20، اور 21 جون کو بھیجے گئے۔

ان پیغامات کے علاوہ ساران اور اس کی بیوی کے درمیان 9 گھنٹے تک وائس  کال پر بھی بات ہوئی۔ شوہر (ساران) کا دعویٰ ہے کہ کال کے دوران اس نے صرف یہ کہا تھا کہ:

"تم گھر چلی جاؤ، جب تک تم گھر نہیں جاتی کوئی خرچہ نہیں ملے گا، ہمارے راستے جدا ہوں گے"۔شوہر کا مزید دعویٰ ہے کہ اس نے "طلاق" کا لفظ کال میں استعمال نہیں کیا، اور صرف دو طلاقیں دی ہیں، تیسری طلاق نہیں دی۔

بیوی (اقصیٰ اسد) کا بیان ہے کہ کال کے دوران شوہر نے زبانی طور پر بھی یہ الفاظ کہے:"تمہیں اب گھر جانے کی کوئی ضرورت نہیں، آج کے بعد ہمارا کوئی تعلق نہیں، ہمارے راستے جدا ہیں"،بیوی کا مؤقف ہے کہ ان زبانی الفاظ سے بھی طلاق واقع ہوگئی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جس طرح زبان سے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح کسی چیز پر  لکھ دینے یا میسج میں لکھ کر بھیجنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔

صورت مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی سے "جا، طلاق ہے میری تیرے سے" کہا ، تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، پھر جب عدت کے اندر دوسرے میسج میں"میں تجھے طلاق دیتا ہوں" کہا،تو  اس سے دوسری  طلاق  بھی واقع ہوگئی۔ البتہ"کال اٹھا، طلاق لے" جو کہا ہے، اس سے اگر ارادہ طلاق کا اظہار مقصود تھا ،تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

پھر جب شوہر نے (مذاکرہ طلاق کے دوران)کہا  :" تم میری طرف سے آزاد ہو"، تو یہ لفظ اگرچہ کنائی ہے لیکن اگر اس سے پہلی طلاق کا خبر دینا مقصود نہ ہو تو مذاکرہ طلاق میں  اس سے بلانیتِ طلاق بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

لہٰذا مذکورہ  صورت میں  بیوی پر تین  طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،شوہر اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع نہیں کرسکتا اور  دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ہے، ہاں اگر مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر اگر کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر سے صحبت (ازدواجی تعلق قائم) ہوجائے، اس کے بعد وہ دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے، یا بیوی طلاق لے لے، یا اس کا انتقال ہوجائے، تو اس کی عدت گزار کر اپنے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

حوالہ جات

.(الفتاوی الھندیۃ:1/378)

لا يكون مصدرا ومعنونا ،وهو على وجهين، مستبينة وغير مستبينة ،فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته ،وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ،ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى ،وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة، إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 306)

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح  ۔۔۔ (لا) يلحق البائن (البائن)۔

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 285):

«{فإن طلقها ‌فلا ‌تحل ‌له ‌من ‌بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]»

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   27/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب