03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دورانِ حمل بیوی کو طلاق دینے کا حکم
88008طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

حمل کے دوران طلاق دینا شرعاً کیسا ہے؟ کیا اس کے لیے کوئی خاص طریقۂ کار ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے نزدیک حلال کاموں میں سب سے  زیادہ ناپسندیدہ کام طلاق دینا ہے۔ اس لئےبلاوجہ طلاق دینا شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ امر ہے، لہٰذا بجائے طلا ق کے حتی الامکان نباہ کی کوشش کریں اور آپس میں افہام و تفہیم کے ذریعہ مسئلہ حل کریں۔تاہم اگر طلاق دینا ناگزیر ہو تو حاملہ ہونے کی حالت میں بھی طلاق دی جاسکتی ہے اور اس حالت میں بھی طلاق واقع ہوجائے گی۔ اگر طلاق دے دی گئی تو عورت کی عدت وضع حمل سے مکمل ہوگی۔

حاملہ عورت کو طلاق دینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل   اپنی بیوی کو حالت ِ حمل میں ایک طلاق دے ،ایک طلاق دینے کے بعد اگر بیوی بات مان لیتی ہے اور تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو    عدت کے دوران رجوع بھی کیا جاسکتا ہے ، اس کے بعد دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکیں گے،تاہم آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا،اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے(وضع حمل) سے ہی نکاح ختم ہوجائے گا، البتہ  عدت گزرنے کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا  نکاح بھی ہوسکتا ہے، لیکن اگر سائل نے تین طلاقیں ایک ساتھ دیں تو یہ باعث گناہ ہے،اور تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اور آئندہ کے لیے دوبارہ نکاح کرنا درست نہ ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 348):

أما) ‌الطلاق ‌السني ‌في ‌العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها والحسن أن يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر آخر أخرى ثم في طهر آخر أخرى كذا في محيط السرخسي.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 511):

 (و) ‌في ‌حق (‌الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها) .        

   حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   16  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب