| 88007 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میری شادی کو تقریباً چھ (6) ماہ ہو چکے ہیں اور میری اہلیہ اس وقت حمل کے پانچویں مہینے میں ہے۔ شادی کے ابتدائی ایّام میں تعلق کچھ بہتر رہا، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے میری بیوی کا رویہ شدید سرد ہے۔
اب تقریباً ایک ماہ سے میری اہلیہ نے بلا کسی شرعی عذر کے مجھ سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے سے مکمل انکار کر رکھا ہے۔ ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ جیسے ،موڈ نہیں ہے، جسمانی تھکاوٹ ہےیا طبیعت خراب ہےوغیرہ، کا بہانہ بناتی ہے، اور ہر طرح کی محبت یا بیوی والے تعلق سے دُوری اختیار کیے ہوئی ہے۔
میں نے نرمی سے بات بھی کی، اصلاح کی کوشش بھی کی، والدین سے بھی مشورہ لیا، مگر کوئی بہتری نہیں آئی۔ میں اس مسلسل انکار، ٹال مٹول، اور ازدواجی فرائض سے روگردانی کو اپنی ازدواجی زندگی کے لیے خطرہ سمجھتا ہوں۔ تو اگر بیوی کا یہی رویہ برقرار رہے، اور وہ مجھے اپنے قریب آنے نہ دے، تو کیا یہ طلاق کا شرعی جواز بن سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت حال میں سائل کو چاہیے کہ بیوی کو حکمت کے ساتھ سمجھائے اور بیوی کو ایسی سہولیات (جیسے کمرہ، غسل خانہ وغیرہ)فراہم کرے ،جس میں کسی اور کا عمل دخل نہ ہو، اگر سائل کی جانب سے اتنی سہولت دیے جانے کے باوجود بیوی قریب نہ آنے دے، جب کہ اسے کوئی شرعی عذر بھی نہ ہو تو اسے بیوی کی مناسب تادیب (سرزنش) کا بھی حق ہے اور اگر سائل کے پاس استطاعت ہواور ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ مالی و جسمانی حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو ، تو دوسرا نکاح بھی کر سکتا ہےاور اگر دوسرے نکاح کی گنجائش نہ ہو اور موجودہ بیوی کسی بھی طرح سائل کے حقوق ادا کرنے پر رضامند نہ ہو تو سائل کےلئے طلاق میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
” القرآن الکریم (النساء: ۱۲۸):
وَإِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِن بَّعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا اَن يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَّالصُّلْحُ خَيْرٌ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۔
وفیہ أیضاً(النساء:۳۵):وَاللَّاتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ فَإِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 208):
«وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به، (قوله في كل مباح) ظاهره أنه عند الأمر به منه يكون واجبا عليها كأمر السلطان الرعية به ۔
تکملۃ فتح الملھم (۱۳۳/۱):
أمرت الزوج إذا رأی فی زوجتہ مالا یتحمل أن لا یبادر إلی الطلاق فی أول مرۃ وإنما یجتھد فی إصلاحھا ما أمکن ۔۔۔ (ص۱۳۴): ثم إن کانت الخلافات بین الزوجین شدیدۃ لا تنقضی بھذہ المدارج الثلاثۃ أمرت الشریعۃ الإسلامیۃ أقاربھما أن یتدخلوا بینھما لتعتدل الأحوال ۔۔۔ ثم إن لم تثمر جھود ھذین الحکمین ولم یزل الخلافات قائمۃ فحینئذ أباحت الشریعۃ الإسلامیۃ الطلاق للزوج۔
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
16 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


