| 87445 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
تفصیلی سوالنامہ موصول ہواجوکہ فتوی کے ساتھ منسلک ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے علاقے میں پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک غیر سرکاری ٹیوب ویل لگا ہوا ہے،جس سے ماہانہ اجرت کے عوض پانی ملتا ہے،گذشتہ کچھ عرصے سے مزید کسی شخص کے کنکشن لگانے سے آپ کو پانی نہیں مل رہا ہے،اس بنیاد پر چند سوالات آپ نے پوچھے ہیں،جوکہ درج ذیل ہیں؛
جس شخص نے نیا کنکشن لگایا ہے،کیا ایسے پانی کے استعمال سے اس کی(۱)نماز ہوجاتی ہے؟(۲)کپڑے پاک ہوجاتے ہیں؟(۳)پکاہوا کھانا حلال ہوجاتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جیسا کہ سوال میں صراحت کی گئی ہے کہ مذکورہ ٹیوب ویل غیر سرکاری ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ٹیوب ویل کسی ایک شخص یا ایک سے زائد افراد کی مشترکہ ملکیت ہے،لہٰذا جو شخص اس ٹیوب ویل کا مالک ہے، اس کی اجازت سے ٹیوب ویل استعمال کرنا، پانی حاصل کرنااور اسے استعمال کرنا جائز ہے،لیکن اگر کوئی شخص مالک کی اجازت کے بغیر ٹیوب ویل استعمال کرتا ہے ،اس سے پانی حاصل کرتا ہے اور اسے اپنے استعمال میں لاتا ہےتو ایسا کرنا جائز نہیں ہے،ایسا شخص سخت گناہ گار ہوگا۔
البتہ ایسے پانی سےوضو یا غسل کرکے جو نمازیں ادا کی گئی ہیں وہ ادا ہوجائیں گی،اگر ناپاک کپڑے پاک کیے گئے ہیں تو پاک ہوجائیں گے،لیکن اگر کھانا پکایا گیا ہے تو ایسے کھانے کا استعمال اس وقت تک جائز نہیں،جب تک کہ اس پانی کا عوض مالک کو ادا نہ کردے۔
رہی بات یہ کہ نئے کنکشن کی وجہ سے آپ کا پانی بند ہوگیا ہے تو آپ اس سلسلے میں اہل محلہ کے ساتھ مل کر آپس میں ایسی ترتیب بنانے کی کوشش کریں کہ بغیر کسی فتنہ وفساد کےسب کی ضرورت پوری ہوسکے،بصورت دیگر قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے اپنی ضرورت کا انتظام کرنے کی کوشش کرتے رہیں،اللہ تعالی عافیت کے ساتھ آپ کی مشکل آسان فرمائیں۔آمین
یاد رہےشریعت میں پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سورہ نساء آیت نمبر ۳۶ میں فرماتے ہیں،جس کا ترجمہ یہ ہے کہ:
"اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو،نیز رشتہ داروں،یتیموں،مسکینوں،قریب والےپڑوسی،دور والے پڑوسی،ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو) بیشک اللہ کسی اِترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا"۔
پڑوسی کا خیال رکھنے اور اسے تکلیف نہ پہنچانے کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف ارشادات احادیث مبارکہ میں نقل کیے گئے ہیں، جن میں سے چند ایک کا مفہوم ملاحظہ ہو:
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:" جبرائیل( علیہ السلام ) مجھے پڑوسی کے حق کے بارے میں اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے"۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا کہ:" جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے"۔
صحیح ابن حبان میں ہے کہ ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: یارسو ل اللہ! فلاں عورت کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ خیرات کرنے والی ہے (لیکن ) اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے( یعنی برا بھلا کہتی ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دوزخ میں ہے ۔پھر اس شخص نے عرض کیا: یا رسو ل اللہ! فلاں عورت کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ نفلی روزہ ، صدقہ خیرات اور نماز تو کم کرتی ہے، بلکہ اس کا صدقہ وخیرات پنیر کے چند ٹکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا، لیکن اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے کوئی تکلیف نہیں دیتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: وہ جنت میں ہے ۔‘‘
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں ہوسکتا، پوچھا گیا کہ کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔ ‘‘
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ایساشخص جنت میں نہیں جائے گا،جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔‘‘
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 61)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 404)
(قوله والرابع ستر عورته) أي ولو بما لا يحل لبسه كثوب حرير وإن أثم بلا عذر، كالصلاة في الأرض المغصوبة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 668)
(وكذا لو خلطها المودع) بجنسها أو بغيره (بماله) أو مال آخر ابن كمال (بغير إذن) المالك (بحيث لا تتميز) إلا بكلفة كحنطة بشعير ودراهم جياد بزيوف مجتبى (ضمنها) لاستهلاكه بالخلط لكن لا يباح تناولها قبل أداء الضمان، وصح الإبراء.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 669)
(قوله لاستهلاكه) وإذا ضمنها ملكها، ولا تباح له قبل أداء الضمان، ولا سبيل للمالك عليها عند أبي حنيفة ولو أبرأه سقط حقه من العين والدين بحر.
صحيح البخاري (5/ 2239)
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه ).
صحيح البخاري (5/ 2240)
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت ).
صحيح ابن حبان - مخرجا (13/ 77)
عن أبي هريرة، أن رجلا قال: يا رسول الله، إن فلانة ذكر من كثرة صلاتها، غير أنها تؤذي بلسانها قال: «في النار»، قال: يا رسول الله، إن فلانة ذكر من قلة صلاتها وصيامها، وأنها تصدقت بأثوار أقط، غير أنها لا تؤذي جيرانها، قال: «هي في الجنة».
صحيح البخاري (8/ 10)
عن أبي شريح، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، والله لا يؤمن» قيل: ومن يا رسول الله؟ قال: «الذي لا يأمن جاره بوايقه» تابعه شبابة، وأسد بن موسى، وقال حميد بن الأسود، وعثمان بن عمر، وأبو بكر بن عياش، وشعيب بن إسحاق، عن ابن أبي ذئب، عن المقبري، عن أبي هريرة.
صحيح مسلم (1/ 68)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه»
الموسوعة الفقهية الكويتية (17/ 225، بترقيم الشاملة آليا)
حقوق الجوار :
جاءت النصوص الشرعية تحض على احترام الجوار ، ورعاية حق الجار …
ومن حقوق الجوار ما ذكره الغزالي في قوله : ليس حق الجوار كف الأذى فقط ، بل احتمال الأذى ، فإن الجار أيضا قد كف أذاه ، فليس في ذلك قضاء حق ولا يكفي احتمال الأذى بل لا بد من الرفق ، وإسداء الخير والمعروف …
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
10.ذوالقعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


