03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
APD اےپی ڈی مارکیٹنگ ریئل اسٹیٹ کمپنی کے کاروبار کا حکم
86131خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام و عظام درج ذیل کاروبار کے طریقہ کار کے بارے میں؟

صورت مسئلہ یہ ہے کہ چند احباب نے مل کر ایک کمپنی بنائی ہے، جس کا نام اے پی ڈی مارکیٹنگ ریئل اسٹیٹ رکھا ہے۔ پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں، مثلاً کسی شہر کے قریب زمین خرید کر اس پر ٹاؤن ایک نقشہ کے تحت بناتے ہیں وغیرہ، اب کمپنی نے خرید و فروخت کا طریقہ اس طرح اختیار کیا ہے کہ ٹاؤن کی زمین کے حصے (شیئر ) مقرر کیے ہیں،ایک شیئر کی قیمت مثلا 51,500 ہے۔

بیع اول

اب کسٹمر جتنےشیئرز خریدنا چاہے، اتنے شیئر کی قیمت نقد جمع کراکر اتنی ہی زمین کا بلا مشروط مالک بن جاتا ہے،اور ٹاؤن کی زمین سے اپنے یا اپنے وکیل کے نام انتقال کر واسکتا ہے(بطور شیئر)۔

بیع ثانی

اب اگرمذکورہ شخص اپنے شیئرز کو باختیار خود،فروخت کرنا چاہے تو کمپنی بھی خریدار ہے اور کمپنی کے خریدنے کا ایک ہی ریٹ مقرر ہے، وہ یہ کہ ایک شیئر پر مثلاً 36,000 روپیہ منافع دے گی،اور ایک سال کی مدت کے لیے ادھار پر خریدے گی، اب بائع ( شخص ) اورمشتری (کمپنی) کے  مابین شیئر 87,500 مشتری ( کمپنی) کے ذمہ واجب الادا ہوگا، معین مدت ایک سال ،اب کمپنی اس رقم کی ادائیگی یا واپسی دو طریقوں پر کرتی ہے۔(1)کل رقم حسب معاہدہ یک مشت ادا کر دیتی ہے۔(2 ) کل رقم کا کچھ حصہ با تفاق بائع (شخص) کو اقساط پر دوران سال ادا کرتی ہے۔

 نوٹ:ایک اور بات یہ کہ کمپنی کی طرف سے نمائندے کام کرتے ہیں، اور مارکیٹ میں لوگوں کو کمپنی کا موقف یا بزنس سمجھا کر ترغیب دیتے ہیں، ایک ورکرجتنے شیئر فر وخت کروائے ،کمپنی فی شیئر کے بدلے اجرت دے دیتی ہے۔

سوال نمبر (1): کیا کمپنی کا اس طرح ٹاؤن کی زمین کے شیئر مقر کرنا، پھر شیئرز کی قیت مقرر کرنا ،پھر شیئرز فروخت کرنا،پھر شیئر زخرید نے والے کو نفع دیکر ادھار پر خریدنا چا ہے،تو کمپنی خریدے یا کوئی اور خریدے کیا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

سوال نمبر (2):کیا کمپنی اپنے ورکرزیانمائندوں کو ان کی محنت پر اجرت دے سکتی ہے یا نہیں؟

سوال نمبر (3):کیا مذکورہ بالا طریقے کے مطابق کمپنی کا کمایا ہوا رزق حلال ہے یا نہیں ؟

اور اس کمپنی میں ملازمت یا شمولیت کرناجائز ہے یا نہیں؟

جناب عالی!جہاں کہیں کوئی کمی کوتاہی ہو، غلطی نظر آئے تو درست فرما کر مشکور فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہماری معلومات کے مطابق ریئل اسٹیٹ سے متعلق شیئرز جاری(issue) کرنے کے حوالے سے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے قواعد وضوابط طے کیے ہوئے ہیں،لہٰذا عوام کے اموال کی حفاظت کے پیش نظر سب سے پہلے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

رہی بات سوال میں مذکور طریقہ کار کی تو اس حوالے سے اصولی جواب  یہ ہے کہ اگرکوئی شخص اپنی کسی چیز کو نقد پر بیچے اور پھر اسی چیز کو ادھار پر مہنگا خرید لے،مثلاً دس روپے میں اپنی چیز نقد بیچ کر پھر اسی چیز کو ادھار پندرہ روپے میں خرید لے تو یہ معاملہ عکس عینہ کہلاتا ہے،جوکہ ناجائز ہے،مذکورہ معاملہ کرنے سےحقیقی خریدوفروخت مقصود نہیں ہوتی بلکہ قرض  مع سودکا لین دین مقصود  ہوتاہے،لہٰذا اس کے لیے یہ طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے کہ طالبِ قرض مقرِض کو اپنی کوئی چیز نقد بیچ کر دوبارہ  اضافے کے ساتھ ادھارپر خرید لیتا ہے،جس کے نتیجے میں اسے نقد  پیسے بھی  مل جاتے ہیں اور ساتھ اپنی چیز بھی واپس مل جاتی ہے اور مقرِض کواپنی دی ہوئی رقم اضافے کے ساتھ واپس مل جاتی ہے،یہ سود کا حیلہ ہےاورناجائز ہے۔

            سوال میں مذکور طریقہ کار کی بظاہر نوعیت یہی ہے کہ زمین کے مالکان زمین کے شیئرز نقد رقم کے عوض بیچتے ہیں پھر دوبارہ نفع کے ساتھ ادھار پر خرید لیتے ہیں،خواہ ادائیگی کا طریقہ کار یکمشت ہو یا قسطوں پر،جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ 51,500  کا شیئر ابتدا میں نقد بیچاجاتا ہے پھر دوبارہ اسے 36,000 روپےاضافے کے ساتھ 87,500 روپے میں ادھارخریدا جاتا ہے،یہ معاملہ عکس عینہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔مذکورہ طریقہ اختیار کرکے آمدن حاصل کرنا یا مذکورہ طریقے کی مارکیٹنگ کرکے اس کی اجرت لینا ناجائز ہے۔

            جائز متبادل کے طور پر یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہےکہ شیئرز کی دوبارہ خریداری کا ذکر بیع اول میں صراحتاً،دلالۃً اور عرفاً کسی بھی طرح نہ ہو،اسی طرح دوبارہ خریداری کی کوئی طے شدہ قیمت بیع اول کے وقت سے متعین نہ ہو،بلکہ اتفاقاً خریداری کی اگر نوبت آئے تو اس وقت باہمی رضامندی سے جس قیمت پر چاہیں خریداری کرلی جائے،اسی طرح عملاً اسے ممکن بنایا جائے کہ بیع اول میں شیئرز خریدنے والا شخص، دوبارہ کمپنی کو بیچنے کا ہی پابند نہ ہو بلکہ عملاً وہ کسی کو بھی شیئرز بیچ سکتا ہو،تو یہ معاملہ قانونی تقاضوں بالخصوص سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کی پابندی کی شرط کے ساتھ جائز ہوگا،آمدن،ملازمت اور اجرت بھی جائز ہوگی۔

حوالہ جات

المغني - لابن قدامة - (4 / 277)

 فصل : وإن باع سلعة بنقد ثم اشتراها بأكثر منه نسيئة فقال أحمد رواية حرب : لا يجوز ذلك إلا أن يغير السلعة لأن ذلك يتخذه وسيلة إلى الربا فأشبه مسألة العينة.

فقه البيوع – للشیخ محمد بن احمدالفراج - (1 / 27)

عكس مسألة العينة وهي داخلة في العينة على الصحيح .

فيشتري المرابي سيارة المحتاج بـ 80.000 ريال حالة ثم يبيعها على الفقير بـ 100.000 ريال مؤجلة فيرجع الفقير بسيارته و80.000 ريال ثم بعد الأجل يعيد له 100.000 ريال فصارت 80.000 ريال أُرجعت 100.000 ربا قرض جر نفعاً .

الشرح الكبير لابن قدامة (4/ 46)

 فان باع سلعة بنقد ثم اشتراها بأكثر منه نسيئة فقال أحمد في رواية حرب لا يجوز إلا أن تتغير السلعة لان ذلك يتخذ وسيلة إلى الربا فهي كمسألة العينة، فان اشتراها بسلعة أخرى أو بأقل من ثمنها أو بمثله نسيئة جاز لما ذكرنا في مسألة العينة، وان اشتراها بنقد آخر بأكثر من ثمنهافهو كمسألة العينة على ما ذكرنا من الخلاف، قال شيخنا ويحتمل أن يكون له شراؤها بجنس الثمن بأكثر منه إذ لم يكن ذلك عن مواطأة ولا حيلة بل وقع اتفاقا من غير قصد لان الاصل حل البيع وانما حرم في مسألة العينة للاثر الوارد فيه وليس هذا في معناه لان التوسل بذلك أكثر فلا يلحق به ما دونه.

شرح بلوغ المرام لعطية سالم (200/ 7، بترقيم الشاملة آليا)

حرمة الحيلة على الربا

ما هو عكس العينة؟ إنسان احتاج إلى نقد وما وجد أحداً يعطيه، فبحث عمن يبيعه أرزاً إلى آخر السنة بثمن مؤجل فما وجد أحداً يعطيه، هو غير معروف في السوق أو غير مؤتمن أو مماطل، المهم ما أحد بايعه، فذهب إلى البيت وقال لزوجته المسكينة: اعملي معروفاً، هات المصاغ الذي عندك، وأنا أبغى كذا، وأبغى أتصرف، وأفعل لك وأفعل، حيل كثيرة تحصل، فقالت: لا مانع يا ابن الحلال! تفضل، فأخذ المصاغ من المرأة، وذهب إلى الصائغ وقال: أنا عندي هذا الحلي وأريد أن أبيعه، قال: ما عندي مانع، فوزنه وقال: والله! هذا قيمته ألف ريال، فقال: بعت، أعطني الألف، الصائغ أخذ الحلي، والرجل أخذ الألف، ووضعها في جيبه، ثم قال للصائغ: يا شيخ! والله! أنا آسف، هذا حق امرأتي، وأنا قلت لها: سآتي لك به، وأخاف أن تقع مشكلة ونزاع وكذا وكذا، اعمل معي معروفاً، خلصني من هذه المشكلة، قال: ماذا تريد؟ قال: أنا أشتريه منك بثمن مؤجل بألف ومائتين.قال له: لا مانع، اكتب لي سنداً بألف ومائتين ثمن حلي وزنه كذا، تفضل خذ الحلي، فرجع إلى بيته بحلي المرأة، وبألف ريال، وعلى ظهره للصائغ ألف ومائتان ريال، فهذا حكمه حكم بيع العينة، فالحلي دليل على الطريق، والعملية انتهت على ألف ريال نقداً، بألف ومائتين بعد سنة، وهذا عكس العينة؛ لأن المبيع ملك المشتري، بخلاف الأولى، وكلاهما مآله إلى الربا.

ما موقف العلماء من هذا العقد؟ الأئمة الثلاثة: أبو حنيفة ، مالك ، أحمد رحمهم الله على فساد البيع والتحريم.والشافعي يقول: إن كان البائع والمشتري لأكياس الأرز مثلاً متفقان بنظرات العيون، وبقسمات الوجوه، ويعرفان بحالة الواقع، وكلاهما يعرف ماذا عند صاحبه، فكأنهما متفقان لفظاً، وكما قيل: الموجود عرفاً كالموجود حقيقة، فإذا جاء إلى رجل معروف أنه قعد في دكانه، ولا يبيع أرزاً ولا سكراً، عنده عشرون أو ثلاثون كيساً على طول السنة وهي موجودة، ويبيعها في اليوم عشرين مرة! ويسترجعها، إذاً: الذي يأتي إليه عادة هل يريد أن يشتري أو من أجل العينة؟ من أجل العينة؛ لأنه معروف بهذا، يقول الشافعي رحمه الله: إذا وقع العقد على غير اتفاق بين الطرفين فلا مانع.والجمهور يقولون: لا يجوز أبداً، ما دامت السلعة سترجع إلى بائعها؛ فسداً للباب تمنع، و مالك خاصة عنده سد الذرائع مقدم، وهو أصل من أصول مذهبه، وسد الذرائع هو: ترك ما لا بأس به مخافة مما به بأس.إذاً: حكم بيع العينة عند الأئمة رحمهم الله أنها ممنوعة وباطلة عند الأئمة الثلاثة، وفيها تفصيل عند الشافعي ، وأجاب عليه الجمهور، وبالله تعالى التوفيق.

المعاملات المالية أصالة ومعاصرةلأبو عمر دُبْيَانِ بن محمد الدُّبْيَانِ(11/ 390)

الصورة الثالثة:عكس العينة: وهو أن يبيع سلعة بنقد، ثم يشتريها بأكثر منه نسيئة (1).

وقد نص أحمد في رواية حرب على أن هذه الصورة لا تجوز إلا أن تتغير السلعة، فهي كمسألة العينة سواء وهي عكسها صورةً، وفي الصورتين قد ترتب في ذمته دراهم مؤجلة بأقل منها نقداً، لكن في إحدى الصورتين البائع هو الذي اشتغلت ذمته، وفي الصورة الأخرى: المشتري هو الذي اشتغلت ذمته، قال ابن القيم: لا فرق بينهما ... وليس في النص ما يدل على اختصاص العينة بالصورة الأولى حتى تتقيد به نصوص مطلقة على تحريم العينة (2).

__________

  1. الإنصاف (4/ 336)، المبدع (4/ 49).
  2. انظر تهذيب السنن (5/ 107، 108).

الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي (4/ 336)

الثالثة: عكس العينة: مثلها في الحكم. وهي أن يبيع السلعة بثمن حال. ثم يشتريها بأكثر نسيئة. على الصحيح من المذهب. نص عليه. قدمه في المغني، والشرح، والفروع، والفائق. ونقل أبو داود: يجوز بلا حيلة.

(المعاییر الشرعیۃ،رقم:۵۸، إعادۃ الشراء،ص:۱۳۶۰)

٣/٥/١۔ من الصور الممنوعة في حال وجود مواطأة أو عرف:

٣/٥/١/۲۔ بيع العين نقدًا ثم شراؤها بثمن أكثر مؤجل.

(المعاییر الشرعیۃ،رقم:۵۸، إعادۃ الشراء،ص:۱۳۷۵)

مستند تحريم المواطأة على إعادة الشراء بثمن مؤجل يزيد عن الثمن المعجل أن ذلك من العينة المحرمة شرعًا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 276)

وبيع الوفاء ذكرته هنا تبعا للدرر: صورته أن يبيعه العين بألف على أنه إذا رد عليه الثمن رد عليه العين، وسماه الشافعية بالرهن المعاد، ويسمى بمصر بيع الأمانة، وبالشام بيع الإطاعة، قيل هو رهن فتضمن زوائده، وقيل بيع يفيد الانتفاع به، وفي إقالة شرح المجمع عن النهاية: وعليه الفتوى،وقيل إن بلفظ البيع لم يكن رهنا، ثم إن ذكرا الفسخ فيه أو قبله أو زعماه غير لازم كان بيعا فاسدا، ولو بعده على وجه الميعاد جاز لزم الوفاء به؛ لأن المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس، وهو الصحيح كما في الكافي والخانية وأقره خسرو هنا والمصنف في باب الإكراه وابن الملك في باب الإقالة بزيادة.

فقه البيوع للشیخ محمد تقی العثمانی ( ٥١٨/١ )

أما اذا كان الوعد بالوفاء قبل البيع ثم عقدا البيع بغير شرط فقد اختلف فيه اقوال المتاخرين من الحنفية - فقال ابن قاضي سماوة في جامع الفصولين" ولو تواضعا (اى التلجئة) قبل البيع ، ثم تبايعا بلا ذكر شرط، جاز البيع عندح رحمه الله إلا إذا تصادقا أنهما تبايعا على تلك المواضعة. وكذا لو تواضعا الوفاء قبل البيع، ثم عقدا بلاشرط الوفاء ،فالعقد جائز ،ولا عبرة للمواضعة السابقة".

ومعناه أن المواضعة السابقة للوفاء لا تلتحق باصل العقد، فيجوز البيع ، كما جاز في المواضعة اللاحقة واعترض عليه ابن عابدين رحمه الله تعالى بأنه ينبغى الفسادلو اتفقا على بناء العقد عليه وتعقبه الأناسي رحمه الله تعالى بأنه بحث مخالف للمنقول .ولكن يبدو أن النزاع لفظى، لأن صاحب جامع الفصولين صرح بالاستثناء من الجواز ما إذا تصادقا أنهما تبايعا على تلك المواضعة، ومعناه أنهما اذا بنيا العقد على المواضعة السابقة بتصريح أنه مشروط بتلك المواضعة، تبين أن الشرط في صلب العقد، وهو مفسد. والذي جوزه في جامع الفصولين أن تكون المواضعة ليس لها ذكر في العقد، وليس هناك تصادق بأنهما بنيا العقد عليها . وحينئذ لا وجه لعدم الجواز .وبجوازه افتی شیخ مشائخنا التهانوی رحمه الله تعالى .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 156)

والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 47(

 قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

28/.جمادی الآخرۃ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب