03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکان فروخت کرنے کے بعد نام پر ٹرانسفر نہ کرانے کا حکم
87038خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں نے اپنے مرحوم والد کا مکان جو ان کے انتقال کے بعد والدہ کے حصے میں آیا تھا، والدہ صاحبہ سےخریدنے کا معاملہ 24 لاکھ میں طے کیا۔ اس گھر میں میں اور میرا چھوٹا بھائی فیملی کے ساتھ رہتے تھے ،مگر آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس کو بیچ دو ،میں نے یہ آفر کی کہ بھائی مکان خرید لے مگر اس نے انکار کردیا، تو میں نے خریدنے کا معاملہ طے کیا اور مارکیٹ ویلیو جو 22 لاکھ تھی، اس بھی سے دو لاکھ زیادہ دیئے تاکہ بعد میں کوئی بدمزگی نہ ہو اور میں نے کنفرمیشن کے لئے ان کے سامنے دہرایا کہ 24لاکھ ٹھیک ہیں تو انھوں نے فرمایا کہ"ٹھیک ہیں "یہ سودا والد صاحب کے انتقال کے تقریبا سات (7) سال بعد ہوا اور والدہ صاحبہ کو میں نے تقریبا 8ماہ میں 18 لا کھ کی ر قم ادا کر دی جو کہ کل قیمت کا75فیصد بنتی ہے۔ یہ رقم وصول کر کے والدہ صاحبہ کینیڈا تشریف لے گئیں، ان کے جانے کے بعد میں نے گھر پر یہ سوچ کر 20 سے 21 لاکھ روپے خرچ کر دیے کہ میرا سودا ہو چکا ہے اور 75 فیصدادائیگی بھی ہو چکی ہے ،جبکہ والدہ کی واپسی پر بقیہ رقم دیکر ٹرانسفر کرا لوں گا۔چنانچہ والدہ کی واپسی پر میں نے ان  سےدرخواست کی کہ بقیہ رقم لےکر مکان ٹرانسفر کروا دیں ،مگر انھوں نے لیت و لعل سے کام لیا اور اسی طرح وقت گزرتا ہے رہا اور میں نے بارہا ان سے درخواست کی مگر کوئی عمل نہ ہوا ،اگر چہ الحمد للہ والدہ کا قیام میرے ساتھ ہی ہے۔ اس سودے پر عمل درآمد کے لیے میں نے کئی رشتہ داروں کو بھی بیچ میں ڈالا مگر والدہ صاحبہ کی طرف سے خاطر خواہ جواب نہ ملا، اس وجہ سے خاندان میں بھی کافی لوگوں کو اس سودے کا علم ہے، میرے متعدد بار رقم لیکر ٹرا نسفرکروانے کے مطالبے پر بات تلخی تک بھی پہنچی مگر عمل ندار د۔ غرضیکہ معاملہ اب بھی معلق ہے اور مجھے پیسوں کی شدید ضرورت ہے اور میرےپاس اس کے علاوہ کوئی گھر بھی نہیں ،جبکہ الحمد للہ میری چار بٹیاں ہیں ،انکی میرے اوپر ذمہ داری ہے اور ان کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ قرآن اور شریعت کی روشنی میری والدہ کے لیے اور میرے لیے کیا ہدایت ہے؟ میری والدہ الحمد للہ برسہا برس سے صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار خاتون ہیں اور یقیناً قرآن اور شریعت کا حکم ہی حرف آخر ہے،اس لیے تفصیلی ہدایات اور جوابات ہمارے لیے ذخیر ه و سرمایہ آخر ت فرما دیجئے اور اس کی بھی تفصیل فرما دیں کہ اگر خدا نخواستہ کوئی سودا کر کے اور ر قم لے کرسودے کی تکمیل نہ کرے تو اس کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ یہ فرما دیں کہ اب اس گھر میں میرا حصہ کتنے فیصد ہے اور اس کا کیا حل ہے قران اور شریعت کی روشنی میں۔ والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خرید وفروخت کا معاملہ جب آپس کی رضامندی سے طے ہوجائے تواس سے خریدار کے ذمہ قیمت کی ادائیگی ، جبکہ فروخت کرنے والے کے ذمہ فروخت ہوئی چیز کی حوالگی لازم ہوجاتی ہے ،معاملہ طے ہونے کے بعد اس کو یکطرفہ طورپر ختم بھی نہیں کیا جاسکتا۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعۃ ً    آپ کے اور آپ کی والدہ کے درمیان مکان کی خریدوفروخت کا معاملہ ہواتھا  تو پھر وہ مکان آپ کی ملکیت میں آگئی ہے،شرعاً          آپ پر لازم ہےکہ طے شدہ قیمت  پورےچوبیس لاکھ روپے اپنی والدہ تک پہنچادیں  اور آپ کی والدہ پر لازم ہے کہ مکان آپ کے نام پر منتقل کرادے ،تاکہ آپ کو اپنی ملکیت میں تصرف کرنے کا مکمل  اختیار حاصل ہوسکے۔

قرآن وحدیث  میں وعدہ اور اقرار کو پورا کرنے کی بہت تاکید آئی ہے،اسی طرح سے دوسرے کے مال کو ناحق طریقے سے کھانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔لہذا آپ کی والدہ کو چاہیے کہ فروخت کے بعد اب مکان آپ کے نام کرائے اور ٹال مٹول سے کام نہ لے۔

حوالہ جات

قال اللہ تبارک وتعالی:ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚﵞ [المائدة: 1]

أخرج الامام أحمد رحمہ اللہ في "مسند ہ" (34/ 299 ،ط الرسالة): (الحدیث ،رقم:20695) من حدیث أبي حرة الرقاشي، عن عمه،قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ألا لا تظلموا، إنه ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌إلا ‌بطيب ‌نفس ‌منه.

قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ: وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.(الهداية:3/ 23)

وإذا تطابق الإيجاب والقبول، لزم البيع، ولا خيار لواحد من العاقدين إلا بسبب وجود عيب أو عدم رؤية للمبيع. (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:5/ 3333)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

21/شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب