| 86891 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
سائل نے 28,75,000 روپے میں گاڑی فروخت کی ،جس میں خریدار نے 13,75,000نقد ادا کردیئے، جبکہ باقی 15,00,000 کا یہ طے ہوا کہ خریدار ماہانہ 55,000 روپے قسط ادا کرے گا۔
ساڑھے چار ماہ گزرنے کے بعد خریدار نے یہ کہا کہ گاڑی مجھے پسند نہیں ہے یا اس میں کام بہت زیادہ ہے میں اسے باہر نقد کی فروخت کرنا چاہتا ہوں اور تمہیں ہر ماہ اسی طرح 55 ہزار قسط دیتا رہوں گا، سائل نے کہا ٹھیک ہے۔ خریدار نے گاڑی باہر فروخت کر دی ،جب گاڑی فروخت ہوگئی تو وہ اپنی بات سے پھر گیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو ساری رقم یکمشت دینا چاہتا ہوں آپ مجھے بقایا رقم میں سےپیسےچھوڑیں، چار قسطیں 2,20,000روپے وصول ہو چکے ہیں، برائے مہربانی شرعی طور پر مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ اگر رقم چھوڑنی پڑے تو کتنی رقم چھوڑوں ؟ کیا خریدار ساڑھے چار ماہ کی قسطیں لینے کا حق رکھتا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں خریدار کا نقد ادائیگی کی وجہ سےقیمت میں کمی کا مطالبہ درست نہیں ہے اور شرعاً اُدھار کی بجائے نقد ادائیگی کی وجہ سے قیمت میں کمی کرنا سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔
لہذا خریداراگر چاہے تو یا تو احسان کا معاملہ کرکے بقیہ رقم یکمشت ادا کردے اور کمی کا مطالبہ نہ کرے یاپھر حسبِ سابق قسط وار بروقت ادائیگی کرتا رہے ،لیکن یکمشت ادائیگی کی وجہ سے کمی کا مطالبہ بہرحال درست اور جائز نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامۃ المرغیناني رحمہ اللہ:قال:"ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة، لم يجز"؛لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه، وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام "وإن كان له ألف سود فصالحه على خمسمائة بيض لم يجز"؛ لأن البيض غير مستحقة بعقد المداينة وهي زائدة وصفاً فيكون معاوضة الألف بخمسمائة وزيادة وصف وهو ربا.(الهداية:3/ 195)
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: والأصل أن الإحسان إن وجد من الدائن فإسقاط وإن منهما فمعاوضة.
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله: (فمعاوضة) أي ويجري فيه حكمها ،فإن تحقق الربا أو شبهته فسدت، وإلا صحت ط، قال ط: بأن صالح على شيء هو أدون من حقه قدراً أو وصفاً أو وقتاً، وإن منهما: أي من الدائن والمدين بأن دخل في الصلح ما لا يستحقه الدائن من وصف كالبيض بدل السود أو ما هو في معنى الوصف كتعجيل المؤجل أو عن جنس بخلاف جنسه اهـ.( رد المحتار، ط الحلبي:5/ 640)
قال الشیخ المفتي محمدتقي العثماني حفظہ اللہ :وبناءً على هذه النصوص الفقهية، فالراجح حرمة إسقاط بعض الدين في مقابل إسقاط بعض الأجل.(بحوث في قضایا فقھیۃ معاصرۃ:1/29)
محمدشوکت
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
19/شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدشوکت بن محمدوہاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


