| 86890 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:میرا تعلق کے۔ پی۔کے پاکستان سے ہے ۔ ہمارے علاقے کے اکثر زمیندار جون جولائی کے مہینے میں سگریٹ والے تمباکو کی کاشت کرتے ہیں،جن سے اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ سگریٹ والے تمباکو کی کاشت اور پیداوار اور اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے یا حرام ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تمباکو کی کاشت اور اس کا کار و بار فی نفسہ جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہیں ہے۔ البتہ یہ اکثر صورتوں میں نقصان دہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی جگہ کوئی اور فصل کاشت کرنا زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ جات
(فتاویٰ عثمانی:3/89، فتاویٰ محمودیہ:18/397)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه.
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:(فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف.وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ؛ولذا أمر بالتنبه.(رد المحتار :6/ 460)
وقال أیضاً:وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ويمنع من بيع الدخان وشربه وشاربه ...وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها "الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان" وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان، وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة ،فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك، فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره، بل ثبت له منافع، فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة ،وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد.(ردالمحتار:1/42)
تمباکو کی کاشت کا حکم
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
19/شعبان المعظم6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


