| 87024 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
بہنیں میراث کا مطالبہ نہ کریں اور خاموش رہیں تو کیا یہ ان کی طرف سے میراث نہ لینے کی علامت سمجھی جائے گی؟کیا فقط خاموشی کی صورت میں انہیں میراث سے محروم کرنا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تقسیم سے پہلے مشترک جائیداد میں سے بہنوں کا اپنا حصہ معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا، بلکہ بہنوں کا حصہ ان کے حوالے کرنا ضروری ہے۔اس کے بعد اگر وہ اپنی خوشی سے بھائی کو واپس دینا چاہیں تو بھائی لے سکتا ہے،لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب اس علاقے میں بہنوں کا حصہ دبانے کا رواج نہ ہو ،جہاں یہ رواج ہو کہ بہنوں کو میراث میں سے حصہ نہ دیاجاتا ہو،یا معاشرے کے دباؤکی وجہ سے بہنیں خود حصہ لینے میں شرم وعار محسوس کرتی ہوں،جیسا کہ آج کل اکثر علاقوں میں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں چونکہ عام طور پر بہنوں کی دلی رضامندی نہیں ہوتی،بلکہ شرما شرمی میں اپنا حصہ چھوڑدیتی ہیں ،اس لئے ایسی صورت میں بھائیوں کے لیے بہنوں سے ان کا حصہ واپس لینا جائز نہ ہوگا ۔مذکورہ صورت میں تو بہنوں کی طرف سے معافی بھی یقینی نہیں ،لہذا میراث کے مطالبے سے محض خاموشی کی بنیاد پر بہنوں کو میراث سے محروم کردینا قطعاً جائز نہیں،البتہ اگرتقسیم کے بعد وہ واضح طور پربغیر کسی جبر کے طیب نفس سے اپنے حصص بھائیوں کےلیے چھوڑ دیں، تو یہ جائز ہے۔
اگر دلی رضامندی کا یقین ہوجائے تب بھی اس سے بچنا چاہیئے ،کیونکہ اس سے ایک غیر شرعی اور ظالمانہ رسم کی تائید ہوگی اور بہنوں کے حقوق غصب کرنے کا رواج بڑھے گا۔ (احسن الفتاوی:9/279)
حوالہ جات
سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (13) وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ (14)﴾ )ألنساء:(13,14
ترجمہ: یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہےاور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا(آسان ترجمہ قرآن:(254/1
أخرج الإمام البخاري رحمہ اللہ عن سالم، عن أبيه رضي اللہ عنہ، قال: قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: من أخذ من الأرض شيئًا بغير حقه ،خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين.(البخاري:439/2،رقم الحدیث:(2454
و عن أنس قال : قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم : من قطع ميراث وارثه ،قطع اللہ ميراثه من الجنة يوم القيامة.( مشکوٰۃالمصابیح:926/2،بیروت(
و في الفتاوى البزازية:151/6
ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه؛ لأنه الإرث جبري لا يصح تركه.
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
یکم رمضان المبارک1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


