| 86864 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
ہم نے اپنی بھتیجی کی منگنی ایک لڑکے سے باہمی رضامندی سے کرائی،مجلس میں فریقین کے اولیاء اور گواہان کی موجودگی میں مہر کا تعین ہوا۔رخصتی کے دن جب لڑکی ،لڑکے کے گھر پہنچا دی گئی تو نکاح سے پہلے لڑکے کو کسی نے گھر سے اٹھالیا جو تاحال غائب ہے۔اب چونکہ لڑکے کا واپس آنا غیر یقینی ہے اور لڑکی کئی سالوں سے معلق ہوکر بہت مشکل زندگی گزاررہی ہے، اس لیے لڑکے والے کہتےہیں کہ اس لڑکی کی آپ کہیں اور نکاح کرالیں۔لڑکی والے کہتے ہیں کہ نکاح تو ہوچکا ہے،لہذا پہلے لڑکے سے طلاق دلوائیں، پھر ہم کہیں اوراس کا نکاح کرائیں گے ۔لڑکے والے کہتےہیں کہ لڑکے کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا،فقط ایک بار اتنا پتہ چلاہے کہ وہ فلاں جگہ میں ہے ۔کیا اس صورت حال میں لڑکی بغیر طلاق لیےکہیں اور نکاح کر سکتی ہے ؟صرف منگنی کی صورت میں جبکہ رخصتی کے بعد قبل از نکاح لڑکا غائب ہوگیا ہو،طلاق کی ضرورت ہے یا نہیں ؟
واضح رہےکہ ہمارے ہاں منگنی کے بعد لڑکا اور لڑکی والے یہ تو سمجھتے ہیں کہ دونوں کی بات پکی ہوگئی اورلوگ بھی منگنی کے بعد اس لڑکی کا رشتہ مانگنے نہیں جاتے، لیکن منگنی کے بعد باقاعدہ میاں بیوی والے تعلقات شروع کرنے سے پہلے ایک اور مجلس لازماًمنعقد کرتے ہیں ،جس میں میاں بیوی ایجاب و قبول کرتے ہیں، صرف منگنی جس کو ہم پشتو میں(لاس نیوے)کہتے ہیں،پر اکتفاء نہیں کرتے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منگنی کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں خاندانوں کے چند افراد ایک مجلس میں بیٹھ کر یہ طے کرتے ہیں کہ فریق ثانی نے نکاح کا پیغام قبول کرلیا ہے ،طے شدہ شرائط کے مطابق آپس میں نکاح ہوگا ۔اس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ اس طرح وعدہ کرنے کا عمل جائز توہے اور دیانةً فریقین پروعدہ کی پابندی بھی لازم ہے اوربلاعذر شرعی اس منگنی کو توڑنابھی جائز نہیں،مگرشرعاً وعرفاًیہ نکاح کے حکم میں نہیں، بلکہ وعدہ نکاح ہے،اسی لیےصرف منگنی کی وجہ سے زوجین ایک دوسرے سے ازدواجی تعلق نہیں رکھ سکتے،لہذا صورت مسئولہ میں لڑکی بغیر طلاق لیے کہیں اور نکاح کرسکتی ہے،کیونکہ طلاق کےلیے میاں بیوی کا نکاح میں ہونا ضروری ہے،جبکہ مذکورہ صورت میں نکاح منعقد نہیں ہواہے،اور لڑکے کے غائب ہونے کی وجہ سے لڑکی کو اس رشتے کا پابند بنانےکی کوئی وجہ نہیں ہے،لہذا اس منگنی کے وعدہ کو ختم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها؟ فقال أعطيت، إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح.( الردعلی الدر:11/3)
قال العلامۃ وهبة الزحيلي :الخطبة مجرد وعد بالزواج، وليست زواجاً ، فإن الزواج لا يتم إلا بانعقاد العقد المعروف، فيظل كل من الخاطبين أجنبياً عن الآخر، ولا يحل له الاطلاع إلا على المقدار المباح شرعاً وهو الوجه والكفان، كما سيأتي. نص قانون الأحوال الشخصية السوري (م:2) على ما يلي: الخطبة والوعد بالزواج وقراءة الفاتحة وقبض المهر وقبول الهدية، لا تكون زواجاً. (الفقه الإسلامي وأدلته:(6492/9
أخرج الإمام ابن ماجۃ القزویني رحمہ اللہ ،عن عكرمة رضي اللہ عنہ، عن ابن عباس رضي اللہ عنھما، قال : أتى النبي صلى اللہ عليه وسلم رجل، فقال : يا رسول اللہ ! إن سيدا زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال: فصعد رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم المنبر فقال: " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .( سنن ابن ماجة للقزويني: 272/1،رقم الحدیث:(2081
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
12 شعبان المعظم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


