03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچپن میں کیے ہوئے وعدہ نکاح کا حکم
87080نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

مفتی صاحب ایک مسئلہ کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ میرے چاچا خدا بخش کی ایک چھوٹی بیٹی تھی، جسے میرے چاچا نے اپنی زندگی میں میرے نکاح میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ میرے چاچا کی وفات 8 فروری 2024 کو ہوئی۔ چند دن سے میرے ماموں اور میری پھوپی اس بات سے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں تمھارا کوئی حق نہیں ہے۔ اور میرے چاچا کا بیٹا اس رشتے کو تسلیم کرتا ہے، باقی کوئی بھی اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ لڑکی جس کے بارے میں میرے چاچا نے وعدہ کیا تھا، تو کیا وہ میری نکاح میں آگئی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں  جب آپ کے چچا نے اپنی بیٹی کے ساتھ آپ کےنکاح کا صرف وعدہ کیا تھا ، باقاعدہ نکاح نہیں ہوا تھا۔تو اس لڑکی سے آپ کا نکاح نہیں ہوا۔ابھی اگرلڑکی بالغ ہے تواس کی اوردیگر اولیاءکی رضامندی سےآپ اس سے نکاح کرسکتے ہیں۔والد کے اس وعدےکی وجہ سے اب اولیاءکے لیےاسے آپ کے نکاح میں دینالازم نہیں،لیکن اگر کوئی معقول وجہ نہ ہوتو ان کولڑکی کےوالدکےکئے ہوئےوعدہ کو پورا کرنا چاہیئے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:هل أعطيتنيها إن المجلس للنكاح، وإن للوعد فوعد(.الدر،ص:177)

قال العلامۃابن عابدین رحمہ اللہ:قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. (رد المحتار:11/3)

شمس اللہ

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

/8   رمضان،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب