03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے الفاظ میں شک ہونے کا حکم
87053طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک شخص نے لڑائی کے دوران اپنی بیوی کو چار سے پانچ دفعہ کہا "میں تجھے فارغ کرتا ہوں "یا "طلاق دیتا ہوں"" فارغ کر دوں گا "طلاق دے دوں گا "مطلب اسے اس بات میں شک ہے کہ میں نے حال کا صیغہ استعمال کیا تھا یا استقبال کا ،البتہ اس بات کا یقین ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ پانچ دفعہ استعمال کیے ہیں، اس صورت میں اس شخص کے لیے کیا حکم ہے ؟کیا اس کی بیوی کو طلاق واقع ہو جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اس شخص کو حال اور استقبال  کے الفاظ استعمال  کرنے میں شک ہے  ، حال کے الفاظ ("میں تجھے فارغ کرتا ہوں "یا "طلاق دیتا ہوں")سے طلاق واقع ہوجاتی ہےاور  استقبال کے الفاظ (" فارغ کر دوں گا "طلاق دے دوں گا ")سے طلاق  واقع نہیں ہوتی ،دونوں صورتوں میں حکم مختلف ہے،لہذا اس صورت میں غور وفکر کریں کہ اس نے کونسے الفاظ استعمال کیے ہیں ،اگر اس کا غالب گمان یہ ہے کہ اس نے حال کے الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں ،اگر اس کا غالب گمان یہ ہے کہ استقبال کے الفاظ استعمال کیے ہیں ، یا  دونوں جانب میں شک اور تردد  ہو تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی  ۔

حوالہ جات

قال العلامة الحصكفي رحمه الله: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل.

قال العلامة ابن عابدین  رحمه الله:قوله :(بنى على الأقل) أي كما ذكره الإسبيجابي، إلا أن يستيقن بالأكثر أو يكون أكبر ظنه. وعن الإمام الثاني إذا كان لا يدري أثلاث أم أقل يتحرى؛ وإن استويا عمل بأشد ذلك عليه؛ أشباه عن البزازية قال ط: وعلى قول الثاني اقتصر قاضي خان؛ ولعله لأنه يعمل بالاحتياط خصوصا في باب الفروج. اهـ.(الدرالمختار مع ردالمحتار:3/283)

محمد یونس بن امین اللہ 

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

1‏ رمضان  ‏، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب