| 86911 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرے شوہر کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ میں ان کو غلط کاموں سے روکتی ہوں،مثلاً شادی کے بعد میری بہن میرے گھر آئیں میرا شوہر رات کو اس کی طرف چلا گیا، اس نے شور مچایا پھر اس بات پر بہت واویلا ہوا،شوہر میرا قاری ہے اس کے بعد اپنے شاگر دکے ساتھ بھی یہ عمل ہوا،ایک جگہ ٹیوشن پڑھانے کے لیے گئے اور بچوں کی والدہ کے ساتھ سیٹنگ کر لی لمبی لمبی کالز پہ باتیں اور رات کو بھی، اس عورت کا پروف ابھی بھی موجود ہے۔اس کے بعد میرا شوہر اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ سوتے ہوئے اکٹھے پائے گئے،میں نے دونوں کو کہا یہ اچھا کام نہیں مگر میں اس ٹائم کسی اور کو اٹھا نہیں پائی کیونکہ پانچ دن پہلے میری بیٹی کی شادی ہوئی تھی، اور میری وہ دیورانی میری بیٹی کی پھوپھو ساس ہے میں نے بدنامی کی وجہ سے خاموشی اختیار کی۔مگر دیورانی کو بھی کہا ،سونے کے بعد وہ اپنا جسم ٹانگیں وغیرہ دھو رہی تھی اور شوہر کو بھی، مگر اس وقت دونوں چپ رہے،اب جب کوئی بات ہو میں منع کروں تو میرا شوہر کہتا ہے ثابت کرو میرے پاس کوئی گواہ نہیں۔اس کے بعد میری دیورانی کے گھر جانا ہوا تو اس موقع پہ اس عورت نے مجھے کہا ہے مجھے معاف کرنا میں پاؤں پکڑتی ہوں۔مجھے ان سب معاملات سے تکلیف ہوتی ہے، میں ان کاموں سے منع کروں بات ذکر کر کے تو میرا شوہر کہتا ہے تم میرے کسی کام کی نہیں اس لیے میں دوسری عورتوں کی طرف جاتا ہوں۔اس رویے سے میری دل آزاری ہوتی ہے پھر دکھے دل سے بے صبری کے عالم میں میں بھی شوہر کو برا بھلا کہہ دیتی ہوں،قانون و شریعت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری راہنمائی فرمائیں میں کیا کروں اور میرے شوہر پر شریعت کیا لاگو کرتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں بیان کردہ صورتحال اگر حقیقت کے مطابق ہےتویہ شرعی اوراخلاقی دونوں لحاظ سے قابل مذمت ہے۔آپ کےلیےحکم یہ ہےکہ آپ اپنے شوہر کو اچھے انداز اور نرمی سے سمجھائیں اور ساتھ ساتھ اپنے شوہر کے لیے روزانہ دو رکعت صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر اللہ سے دعا بھی کرتی رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی اس بُری عادت کو ختم کردے،اپنےشوہرکوروزےرکھنے کا بھی مشورہ دیں،اسی طرح اگر نافع محسوس ہو تو اپنےشوہرکودوسری شادی کرنےکامشورہ بھی دیں، نیز اللہ والوں کی صحبت میں رہنے سے ایسے موذی امراض سے جلد خلاصی نصیب ہوتی ہے،اگر آپ کے شوہر کو خود اس فعل کی قباحت کا احساس ہےتو اگروہ خود دو رکعت صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر درج ذیل دعا پڑھنے کامعمول بنالےتوبھی ان شاء اللہ یہ عادت چھوٹ جائے گی: '' اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُکَ الْهُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی'' زنا کبیرہ گناہوں میں سے سخت ترین گناہ ہےقرآن وحدیث میں زنا کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے،وقتا فوقتا کوئی بیان کتاب وغیرہ کے ذریعے اپنےشوہرکےسامنے لائیں جائیں تاکہ شوہران وعیدوں کو پڑھ کرزنا وغیرہ سے رک سکے۔
حدیث میں ہے ’ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں شادی شدہ زنا کار پر لعنت کرتی ہیں اور جہنم میں ایسے لوگوں کی شرم گاہوں سے ایسی سخت بدبو پھیلے گی جس سے اہلِ جہنم بھی پریشان ہوں گے اور آگ کے عذاب کے ساتھ ان کی رسوائی جہنم میں ہوتی رہے گی۔‘‘(مسند بزار)
ایک دوسری حدیث میں ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: زنا کرنے والا زنا کرنے کے وقت مؤمن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کرنے کے وقت مؤمن نہیں رہتا، اور شراب پینے والا شراب پینے کے وقت مؤمن نہیں رہتا۔‘‘(صحیح بخاری)
ایک دوسری حدیث میں ہے:ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دیں۔ قوم اس کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا مہ مہ( یعنی لوگوں نےاس کو سوال کرنےسےمنع کیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا اسے اندر لے آؤ۔ تووہ لڑکاحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےقریب ہوگیا،توحضور صلی اللہ وسلم نےفرمایا"بیٹھو" تو وہ بیٹھ گیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا "کیا تم اسے(زنا)کو اپنی ماں کے لیے پسند کرو گے؟" اس نے کہا: "نہیں، خدا کی قسم، اللہ مجھے آپ پرفداکرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ ہی لوگ اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیاتم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، خدا کی قسم ،اللہ مجھے آپ پرفداکرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اورنہ ہی لوگ اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند کرتے ہیں"پھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرو گے؟" اس نے کہا: "نہیں، خدا کی قسم، اللہ مجھے آپ پرفداکرے " حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا"اور نہ ہی لوگ اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند کرتے ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا"کیاتم اسےاپنی خالہ کےلیے پسند کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، خدا کی قسم، اللہ مجھے آپ پرفداکرے توحضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا’’نہ ہی لوگ اسے اپنی خالاؤں کےلیےپسندکرتےہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا "کیا تم اپنی پھوپھی کے لیے یہ پسند کرو گے؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں، خدا کی قسم اللہ مجھے آپ پرفداکرے ، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا’’اور نہ ہی لوگ اسے اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند کرتے ہیں ‘‘اس کےبعدحضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاپناہاتھ ،اس پر رکھا اوریہ دعاء ارشادفرمائی " اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه وحصن فرجه (اےاللہ اس لڑکے کےگناہ معاف فرمااوراس کےدل کو پاک کردےاوراس کی عفت اورپاکدامنی کی حفاظت فرما)اس دعاء کااتنااثر ہواکہ اس کےبعد اس کاذہن اس طرح کی برائی کی طرف کبھی نہیں گیا ۔
آپ کو بھی چاہیے کہ شریعت نے جو جائز زیب زینت کی اجازت دی ہے اس کو اختیار کریں اور شوہر کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، اس کی ضروریات کا خیال رکھیں، اس سے محبت اور احترام سے پیش آئیں اور گھر کے ماحول کو خوشگوار بنائیں اور اپنے شوہر کے لیے ہمیشہ خیر خواہ رہیں، اس کی ہدایت کے لیے دعا کرتی رہیں اور کبھی بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔اگر تمام کوششوں کے باوجود شوہر اپنی اس روش سے باز نہیں آتا تو وہ خود ذمہ دار ہوگا اس کا گناہ کا وبال بھی اسی پر ہوگا ،ہاں اگر آپ ایسے شوہر کے ساتھ مزید رہنا نہیں چاہتی تو پھر شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کیاجائے، اگرشوہرطلاق دیدےیاخلع کامعاملہ کرلےتواس کےبعد علیحدگی اختیارکی جاسکتی ہےاورعدت کےبعدآپ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں، لیکن یہ آخری حل ہے اور اس سے پہلے تمام ممکنہ کوششیں کر لینی چاہییں۔
حوالہ جات
"تفسير ابن كثير"5 / 72:
وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلا (32)
يقول تعالى ناهيًا عباده عن الزنا وعن مقاربته، وهو مخالطة أسبابه (6) ودواعيه { وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً } أي: ذنبًا عظيمًا { وَسَاءَ سَبِيلا } أي: وبئس طريقًا ومسلكًا۔
مسند أحمد (36/ 545 )
وقد قال الإمام أحمد: حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا جرير، حدثنا سليم بن عامر، عن أبي أمامة قال: إن فتى شابًا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ائذن لي بالزنا. فأقبل القوم عليه فزجروه، وقالوا: مًهْ مَهْ. فقال: "ادنه". فدنا منه قريبًا فقال اجلس". فجلس، قال: "أتحبه لأمك؟" قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لأمهاتهم" . قال: "أفتحبه لابنتك"؟ قال: لا والله يا رسول الله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لبناتهم" ، قال: "أتحبه لأختك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لأخواتهم"، قال: "أفتحبه لعمتك"؟ قال: لا والله جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لعماتهم" قال: "أفتحبه لخالتك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لخالاتهم" قال: فوضع يده عليه وقال: "اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه وحصن فرجه" قال: فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء ۔
مشكاة المصابیح:1299/2 (رقم الحدیث :4621 )
"فانطلقنا حتى أتينا إلى ثقب مثل التنور أعلاه ضيق وأسفله واسع تتوقد تحته نار فإذا ارتفعت ارتفعوا حتى كاد أن يخرجوا منها وإذا خمدت رجعوا فيها وفيها رجال ونساء عراة فقلت: ما هذا؟ قالا: انطلق ...فأخبراني عما رأيت. قالا: نعم ... و الذي رأيته في الثقب فهم الزناة."
سنن الترمزی: (4/ 369)
و قد روي عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا زنى العبد خرج منه الإيمان فكان فوق رأسه كالظلة، فإذا خرج من ذلك العمل عاد إليه الإيمان."
من حدیث عبد الله بن بريدة عن أبيه رضي الله عنه : إن السماوات السبع و الأرضين السبع و الجبال ليلعن الشيخ الزاني و إن فروج الزناه لتؤذي أهل النار بنتن ريحها.‘‘( مسند البزار: 310/10 )
من حدیث أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه و سلم: «لا يزني الزاني حين يزني و هو مؤمن، و لا يشرب الخمر حين يشرب و هو مؤمن، و لا يسرق حين يسرق و هو مؤمن، و لا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم حين ينتهبها و هو مؤمن (.صحيح البخاري:136/3 )
(ويثبت بشهادة أربعة)رجال (في مجلس واحد) فلو جاؤوا متفرقين حدوا (ب) لفظ (الزنا لا) مجردلفظ (الوطئ والجماع) وظاهر الدرر أن ما يفيد معنى الزنا يقوم مقامه ........... (فإن بينوه وقالوا رأيناه وطئها في المكحلة) هو زيادة بيان احتيالا للدرء (وعدلوا سرا وعلنا) إذا لم يعلم بحالهم (حكم به) وجوبا .
(الدر المختار:30
ويثبت الزنا عند الحاكم ظاهرا بشهادة أربعة يشهدون عليه بلفظ الزنا لا بلفظ الوطء والجماع ....و بإقراره الخ. (الفتاوى الهندية: 2/ 143)
عبدالوحید بن محمد طاہر
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
۶شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


