| 87729 | پاکی کے مسائل | پانی کے مسائل |
سوال
ہمارے علاقے میں ایک مسجد کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ پلستر اور دیگر تعمیراتی کاموں میں قریبی ایک تالاب کا پانی استعمال ہو رہا تھا۔اب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اسی تالاب میں ایک بلی گری ہوئی تھی، اور پچھلے تین چار دنوں سے پانی سے بدبو بھی محسوس کی جا رہی تھی۔ غالب گمان ہے کہ بلی کئی دن سے پانی میں مری ہوئی تھی۔اب سوال یہ ہے:
- اگر اس پانی سے بدبو آ رہی تھی تو کیا وہ پانی شرعاً ناپاک ہو گیا؟
- اگر ہاں، تو اس پانی سے جو پلستر یا دیگر تعمیراتی کام ہو چکے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
3. کیا مسجد کی دیواروں کو دوبارہ دھونا یا پلستر کرنا لازم ہوگا؟
4. آئندہ احتیاط کے لیے کیا اصول مدنظر رکھے جائیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1 بدبو آنے کی وجہ سے مذکورہ پانی شرعاً ناپاک ہے۔
-2,3جو مٹی، گارا یا سیمنٹ ناپاک پانی سے تیار کرکے تعمیر میں لگادیئے گئے وہ خشک ہونے کے بعد مثل زمین کے پاک ہوجاتے ہیں، اس لیے اس پانی سے جو پلستر یا دیگر تعمیراتی کام ہو چکے ہیں، وہ سب پاک ہیں البتہ احتیاطا ًایک مرتبہ پانی بہاکر دھولیں ،تاکہ شک دور ہوجائے۔
-4ناپاک پانی کااس طرح استعمال درست نہیں ۔آئندہ کے لئے احتیاط کرنی چاہئے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 349):
العبرة للطاهر من تراب أو ماء اختلطا به يفتى.
هذا ما عليه الأكثر فتح، وهو قول محمد والفتوى عليه بزازية؛ وقيل: العبرة للماء إن كان نجسا فالطين نجس وإلا فطاهر؛ وقيل: العبرة للتراب، وقيل: للغالب، وقيل: أيهما كان نجسا فالطين نجس؛ واختاره أبو الليث وصححه في الخانية وغيرها وقواه في شرح المنية وحكم بفساد بقية الأقوال تأمل.وصححه في المحيط أيضا وعلله بأن النجاسة لا تزول عن أحدهما بالاختلاط.
المحيط البرهاني (1/ 116):
وفي «القدوري» أيضاً: إذا وقعت النجاسة في الماء، فإن تغير وصف الماء لم يجز الانتفاع به بحال، فإن لم
يتغير جاز الانتفاع به مثل بل الطين وسقي الدواب، لأن في الوجه الأول النجاسة قد غلبت عليه حتى غيرته فصار كعين النجاسة، ولا كذلك الوجه الثاني.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص46):
حكم (آجر) ونحوه كلبن (مفروش وخص) بالخاء تحجيرة سطح (وشجر وكلا قائمين في أرض كذلك) أي كأرض، فيطهر بجفاف، وكذا كل ما كان ثابتا فيها لاخذه حكمها باتصاله بها فالمنفصل يغسل لا غير، إلا حجرا خشنا كرحى فكأرض۔
المحيط البرهاني (1/ 92):
يجب أن يعلم أن الماء الراكد إذا كان كثيراً فهو بمنزلة الماء الجاري لا يتنجس جميعه بوقوع النجاسة في طرف منه إلا أن يتغير لونه أو طعمه أو ريحه. على هذا اتفق العلماء وبه أخذ عامة المشايخ، وإذا كان قليلاً فهو بمنزلة الحباب والأواني يتنجس بوقوع النجاسة فيه وإن لم تتغير إحدى أوصافه....وعامةالمشايخ أخذوا بقول أبي سليمان وقالوا: إذا كان عشراً في عشر فهو كبير.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2/ذی الحجہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


